خالد قاضی کا، بحیثیت ، الیکٹریکل انجینئر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا سفر ، واپڈا کے پاور ہاؤس کشمور سے شروع ہوا۔ ملتان پیراں غائب پلانٹ پر ٹریننگ حاصل کی، اور پھر شہرِ کراچی میں کے ای ایس سی سے منسلک ہوگئے جہاں ان کی ، جوانی، بجلی کی پیداوار یعنی پاور پلانٹس کو سمجھنے چلانے اور انکی دیکھ بھال کرنے کے میں گزری ۔ تقریباً ۶ سال بعد، رزق، سعودی عرب کے خوبصورت شہر طائف لے گیا اور وہیں ۲۸ سال تک طائف پاور پلانٹ میں خدمات انجام دیکر، بحیثیت چیف آف ٹیکنیکل سروسز ڈیپارٹمنٹ ریٹائر ہوئے ۔ انجینئرنگ پیشے کے ساتھ ساتھ،سیاست اور سماجیات کو سمجھنے کا شوق اور تجسس ، (بحیثیت ایک سیاست کے طالبعلم کے) ہمیشہ زندگی کا حصہ بنا رہا۔ اس شوق نے طائف شہر کے پاکبانوں کی تنظیم *اورسیز پاکستانی فورم* کا جنرل سکریٹری اور پاکستانی اسکول کی گورننگ بورڈ کا منتخب وائس چیئرمین بنا کر،سعودی عرب میں پاکستانیوں کی شناخت بنے رہے۔
لکھنے کی صلاحیت اور شوق نے، واٹس ایپ پر سیاسی تبصرے اور تجزئیے لکھنے کی ترغیب دی۔ ابتدا میں “نکتہ چیں” کا عنوان اپنایا، لیکن ، ایک معتبر صحافی دوست نے مشورہ دیا کہ تم نکتہ چیں نہیں نکتہ داں ہو۔ لہذا یہی عنوان اپناؤ۔ لہذا اسی عنوان کو مستقل اپنایا ہوا ہے
قدرت نے ، پاکستان اورسعودی عرب میں سکونت کے بعد اب امریکہ کے شہر بوسٹن کے قریب، شیوزبری میں بسایا ہے جہاں قیام کو ۱۴ سال ہوچکے ہیں ۔
پہلے پہل ، واٹس ایپ میں ہی طبع آزمائی جاری تھی اور تقریباً ۲۰۰ کے لگ بھگ مضمون ( کالم ) لکھے ۔ اب دوستوں ہی کے مشورے پر اپنا بلاگ بنام “نکتہ داں” جاری کیا ہے۔
آپ میری تحریروں کو کس طرح دیکھتے ہیں، اپنے کمنٹس کے ذریعے ضرور بتائیں تاکہ میں اپنی اصلاح بھی کرسکوں اور سمجھنے اور سمجھانے کے عمل کو جاری رکھ سکوں