دور عمرانیہ میں پنجاب کے ضمنی آنتخابات
پچھلے ہی ہفتے بچوں نے پروگرام بنایا کہ اگلی اتوار (17 جولائی)کو پکنک پر چلیں گے، رھوڈ آئی لینڈ اپنے خوبصورت بیچز کی وجہ سے مشہور ہے اور ہمارے مسکن سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔
دوران سفر، پاکستان کی سیاست کے دل، لاہور سے ٹیلیفون آیا۔ چونکہ محترم ، میری سیاسی آورش سے واقف تھے اسی لئے شرارتاً پوچھا کہ قاضی صاحب پنجاب کے ضمنی الیکشن کے نتائج پر اب کیا تبصرہ کریں گے ؟
میں نے جواباً عرض کیا:
* – آج کے نتیجے سے ہم نے بطور قوم جمہوریت کی منزل کی طرف ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔
* – آج کا ووٹ عوام نے اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف ڈالا ہے۔
* – آج یہ مفروضہ بھی دفن ہو جانا چاہئے کہ سیاستدان دھاندلی کا شور بلاوجہ مچاتے ہیں۔ جب دھاندلی نہیں ہوئی تو نتائج بھی کھلے دل سے تسلیم کئے گئے۔ دراصل دھاندلی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ اپنے مطلب کے نتائج کے حصول کیلئے کراتی ہے اور اسکا سلسلہ ایوب خان سے شروع ہوا تھا۔
* – آج کا ووٹ، لوٹا کریسی کے بھی خلاف ڈالا گیا ہے اور لوٹوں کی افزائش اور استعمال بھی ہمیشہ سے حکومتیں بنانے اور گرانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی ہے۔
* – آج اس ووٹ نے، خاندانی سیاست کے تابوت میں بھی ایک کیل ٹھوکی ہے، اور یہ ثابت ہوا ہے کہ خاندانی سیاست کو سیاسی عمل سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے، نہ کہ، سیاسی تعصب و نفرت سے۔
* – آج ایک اور بات واضح ہوئی ہے کہ یہ قوم اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور بقول سینئر صحافی ایاز میر اسے وقت کے چند جرنیلوں کی سیاسی اتار پچھاڑ کی حرکت سے آزادی ملنی چاہئے۔
* – آج کے نتیجے سے عمران خان کے الیکشن کمیشن سے متعلق ہتک اور بد تہذیبی کے اسلوب کو بھی ختم ہو جانا چاہئے۔
* – آج کے نتائج پاکستان کے تمام اداروں کیلئے بھی وارننگ ہے کہ اگر آپ پاکستان کی معیشیت کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو اسکی پہلی شرط سیاسی استحکام ہے نہ کہ ہر وقت کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ۔
* آج کے نتائج پاکستان کی سیاسی جماعتوں کیلئے بھی ایک سیاسی تربیت مہیا کرتے ہیں۔
آج میرے اس یقین میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ اگر ہاکستان میں ہر چند سال بعد ہمارے بزعم خود سیاسی جرنیل اگر سیاسی انجینئیرنگ سے باز آجائیں تو یہ قوم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرسکتی ہے
خالد قاضی