NUKTADAAN

Reading: ‏۱۰۔ کچے کے ڈاکوؤں کے پکے دوست
Reading: ‏۱۰۔ کچے کے ڈاکوؤں کے پکے دوست

‏۱۰۔ کچے کے ڈاکوؤں کے پکے دوست

admin
5 Min Read

کتہ چیں- ۱۰

۲۷ مارچ ۲۰۲۴

کچے کے ڈاکوؤں کے پکے دوست

میرے ایک محترم صحافی دوست عامل عثمانی، جنکا تعلق اردو نیوز جدہ سے ہے، میرے اس سلسلے ” نکتہ چیں “ پر مجھے یاد دلایا، کہ سندھ میں کچے کے علاقے میں  ڈاکوؤں کی سرگرمیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ انکا سوال تھا کہ یہ کچے کا علاقہ کیا ہے اور ڈاکو اسی علاقے ہی میں کیوں ہیں اور حکومت انکو کیوں کنٹرول نہیں کر پا رہی ؟ 

[کچے کا علاقہ کیا ہے؟

دریائے سندھ کے دونوں اطراف میں کچے کے علاقے میں محکمہ جنگلات کی لاکھوں ایکڑ زمین موجود ہے، جس میں سے محکمے کے مطابق وسیع رقبے پر قبضہ ہے۔

کئی بڑے بڑے زمینداروں کی کچے میں ہزاروں ایکڑ زمین ہے جس کو مقامی زبان میں کیٹی کہا جاتا ہے۔

ان میں سے کئی بڑے زمیندار سیاست میں بھی متحرک ہیں۔

کچے کا علاقہ سال کے زیادہ تر عرصے میں خشک رہتا ہے لیکن سیلابی موسم میں یہ پانی سے بھر جاتا ہے۔ یہاں کی زمین دریائی معدنیات کی موجودگی کی وجہ سے سب سے زیادہ زرخیز تصور کی جاتی ہے۔

سندھ کے محکمہ آفات کے اندازوں کے مطابق یہاں 10 لاکھ سے زائد آبادی رہتی ہے، جو مویشی بانی اور زراعت سے وابستہ ہیں۔

دریا کی ایک طرف ضلع کشمور ہے تو دوسری جانب ضلع گھوٹکی واقع ہے۔ دریائے سندھ کا کچے کا علاقہ وسطی اور جنوبی سندھ کے بھی کئی ضلعوں میں ہے لیکن کشمور، گھوٹکی، شکاپور اور جیکب آباد وہ اضلاع ہیں جہاں ڈاکو سرگرم ہیں اور قبائلی تنازعات بھی ان اضلاع میں شدید ہیں۔

جنگلات، جھاڑیوں اور کچی زمین کی وجہ سے یہاں ڈاکوؤں کے لیے چھپ کر اپنی کارروائیاں کرنا اور یہاں پناہ لینا آسان ہو جاتا ہے۔

(یہ معلومات بی بی سی اردو سے مستعار ہیں م)]

مقامی زمیندار، علاقے میں اپنا اثر و رسوخ، رعب اور دہشت قائم رکھنے کے لئے، ڈاکوؤں کی سر پرستی اور  پناہ فراہم کرتے ہیں ۔ 

ان ڈاکوؤں کا پولیس سے بھی رابطہ رہتا ہے، جو انھیں مختلف آپریشن کی پیشگی اطلاع فراہم کرتے ہیں۔

پولیس کی کسی چھوٹی موٹی کاروائی کا سدباب ڈاکو بہتر حکمت سے کر لیتے ہیں ، لیکن اگر آپریشن ہمہ گیر اور بڑے پیمانے پر ہو تو، آپریشن سے پہلے ہی، ڈاکو نقل مکانی کرجاتے ہیں۔ اس ہی وجہ سے ان ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ مشکل ہوتا ہے۔ 

لیکن، کیا ڈاکو حکومت اور مملکت سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ بالکل نہیں۔

یہ بات واضح کرنے کیلئے میں ایک واقعہ بیان کروں گا

شہید ذولفقار علی بھٹو کے دور حکومت کے ابتدائی ایام میں سندھ کے وزیر اعلٰی ممتاز علی بھٹو تھے۔ ان کی وزارت اعلٰی کے زمانے میں بالائی سندھ میں ڈاکوؤں کی سرگرمیاں تیز ہوگئیں تھیں۔ بھٹو نے ممتاز علی بھٹو سے ان واقعات پر قابو پانے کا کہا لیکن، کوئی خاص پیش رفت نہ نظر آئی ۔ اسی دور میں لاڑکانہ کا SP, بھٹو کا پر اعتماد پولیس افسر تھا(مجھے اس کا نام یاد نہیں آرہا) بھٹو نے اس سے دریافت کیا کہ یہ سب کیا اور کیسے ہو رہا ہے ؟

اس نے بھٹو صاحب سے ہاتھ جوڑتے ہوئے عرض کی، کہ سائیں، پناہ دینے والے زمیندار ، ممتاز بھٹو صاحب کے قریبی دوست ہیں، لہٰذا مجبوری ہے ۔

بھٹو صاحب نے اسے حکم دیا کہ اپنی تیاری مکمل رکھو اور میرے اشارے کا انتظار کرو

اس دوران ، بھٹو صاحب نے بیرون ملک ایک وفد کی سربراہی کیلئے ممتاز بھٹو کو چنا۔ جیسے ہی وفد بیرون ملک روانہ ہوا، بھٹو صاحب نے SP کو اشارہ کیا اور چند ہی دنوں میں، کئی چھاپے، اور پولیس مقابلے ہوئے اور ڈاکوؤں کا صفایا کر دیا گیا۔

یعنی اس کام کیلئے حکمت اور کمٹمنٹ دونوں درکار ہیں، جو بظاہر اس وقت نظر نہیں آرہیں ۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے