NUKTADAAN

Reading: ‏۳۔ جماعت اسلامی
Reading: ‏۳۔ جماعت اسلامی

‏۳۔ جماعت اسلامی

admin
15 Min Read

ملک کی بیشتر سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں، جماعت اسلامی کا نام ایک اہم اور طاقتور سیاسی پارٹی کے طور پر جانا جاتا ہے اور جماعت اسلامی کے ذکر کے بغیر پاکستانی سیاسی تاریخ بیان ہی نہیں کی جاسکتی۔ 

گو جماعت اسلامی ایک منظم، متحرک، پرجوش اور جانثار کارکنوں کا اثاثہ رکھتی ہے لیکن اس کی تمام تر کاوشوں، کا ثمر، جو کہ اس جیسی جماعت کا مقدر ہونا چاہئے، اسے کسی بھی الیکشن میں حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی کئی توجیہات پیش کی جاتی رہی ہیں، اور پیش کی جاتی رہیں گی۔

میں اپنی سوچ اور اپنے ذہن کے مطابق جس نتیجے پر پہنچا وہ پیش خدمت ہیں۔ یہ میری ذاتی رائے ہے، اسے مکمل رد کیا جاسکتا ہے، اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے کچھ پہلووں سے اختلاف یا اتفاق کیا جاسکتا ہے۔

۱- میرے خیال میں چونکہ جماعت، نہ صرف ایک سیاسی، بلکہ وہ ایک مذہبی جماعت بھی ہے اور مذہب اسلام کا ایک خاص اور واضح نقطہ نظر بھی رکھتی ہے اور اس نقطہ نظر کی ترویج بھی جماعت کے مشن کا ایک حصہ رہی ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جماعت کے مذہبی نقطہ نظر سے اختلاف کیا جاتا رہا ہے اور پاکستان کی آبادی کا بیشتر حصہ، جماعت کے اس خاص نقطہ نظر سے اختلاف رکھتا ہے۔

میرا مقصد اس وقت کسی کو صحیح یا غلط ثابت کرنا نہیں بلکہ میں اس بہت بڑے عنصر کو واضح کرنا چاہتا ہوں جو جماعت کی سیاسی کامیابیوں کے درمیان حائل ہے اور ہمیشہ رہے گا۔  اگر آپ 60 اور 70 کے دور پر نظر ڈالیں تو ایوب خان کے مارشل لا اور ختم نبوت کے مسئلے پر جماعت، پاکستان میں صف اوّل کی جماعت نظر آتی ہے اور یہی ایک عام رائے بھی تھی کہ 70 کے الیکشن میں جماعت،  عددی طور پر پاکستان کی ایک مضبوط سیاسی قوت بن کر ابھرے گی۔ 

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جماعت کو اسکی سیاسی حریف PPP نے نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ اس دور میں پاکستان سیاسی طور پر دو حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک طرف پروگریسیو قوتیں جس میں PPP سر فہرست تھی اور دوسری دائیں بازو یا مذہبی قوتیں۔ 70 کے الیکشن کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پروگرسیو ووٹ تو ایک رہا کیونکہ PPP کے مقابلے میں کوئی دوسری مضبوط پروگریسیو پارٹی موجود ہی نہیں تھی۔ لیکن دائیں بازو یا مذہبی سوچ رکھنے والا ووٹ بٹ گیا، اور اس میں ایسے پلیئر زیادہ فائدہ سمیٹ گئے کہ جن کا سیاسی قد کاٹھ، جدوجہد اور انکی تنظیمی صلاحیت جماعت کے مقابلے میں صفر تھی۔ مولانا شاہ احمد نورانی کی جمیعت علما پاکستان سب سے زیادہ فائدے میں رہی۔ یہ محض اس وجہ سے ہوا کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت، جماعت اسلامی کے مذہبی نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتی ہے۔

اب اگر جماعت ، مستقبل میں، الیکشن کے دنگل میں یہ بوجھ اٹھا کر کودنا چاہے تو کامیابی ؟۔۔۔۔۔۔۔ مجھے مشکل لگتی ہے۔

۲- جماعت کی سیاسی ناکامی کی دوسری اہم وجہ اس کا ایک “غیر واضح” منشور ہے یا عوامی نقطہ نظر سے “غیر اہم” منشور ہے ۔ جماعت کوئی پرکشش نعرہ نہیں دے سکی ۔ یہ بات میں تین مثالوں سے واضح کروں گا 

پاکستانی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ مسلم لیگ کی کامیابی اسکے پاکستان کے مطالبے، اور قائدآعظم کی قائدانہ صلاحیت کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ گو قائد کے علاوہ بھی کئی قداورانہ شخصیات تھیں لیکن پاکستان کا مطالبہ ایک ایسا نعرہ تھا جس نے اس دور کے منظرنامے کے دوسرے تمام سیاسی نقائص پر پردہ ڈال کر ، برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کردیا۔ یہ عوامی دباؤ تھا جس نے ہمارے جاگیرداروں اور زمینداروں کو مجبور کیا کہ وہ مسلم لیگ کا ساتھ دیں وگرنہ، حقیقت یہ ہے کہ 91 ممبروں کی پنجاب اسمبلی میں پاکستان کے حق اور مخالفت میں مسلمان ممبر 44, 44 میں برابر بٹّے ہوئے تھے۔ یہ باقی 3 عیسائی ممبران تھے جنکے پاکستان حمایت ووٹ کی وجہ سے قرارداد کثرت رائے سے منظور ہوئی۔ میرا نقطہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کی عوامی پزیرائی میں اس جماعت کا نعرہ، اسکا ھدف، اور اس ہدف کی عوام کے دلوں میں اہمیت ہی اس سیاسی جماعت کو عوام میں مقبول کرتی ہے۔ 

اب اسی نقطے کا دوسرا مظہر PPP ہے۔ اس نے پاکستان کے پہلے 20 سے 25 سالوں کی سیاست کا موازنہ عوام کے سامنے پیش کیا، انھیں احساس دلایا کہ تمہاری آواز بھی اہمیت رکھتی ہے، غریب بھی قابل عزت ہے اور ووٹ ایک ایسی طاقت ہے جسکا استعمال ہی حکومت کے بنانے اور مٹانے کا سبب ہونا چاہئے اور روٹی کپڑا اور مکان ہر شہری کا حق ہے۔ PPP اس  پاور  فل  پیغام، اور نعرےکے ساتھ میدان میں اتری اور مغربی پاکستان میں کامیاب ہوئی۔

پھر تیسری مثال مسلم لیگ ہے۔ بھٹو کی سیاسی غلطیوں، بین الاقوامی سازشوں ، اسٹیبلشمنٹ اور فوجی جرنیلوں کی سطحی سوچوں اور ریاست کی مذہبی اور اقتصادی قوتوں نے مسلم لیگ کی صورت اسٹیٹسکو کے حامیوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور بھٹو مخالف نعرے نے مسلم لیگ کو سیاسی کامیابی دلائی۔ گویا پھر کسی نعرے، مقصد اور عوام بیزاری کے عنصر ہی نے اس مرتبہ مسلم لیگ کو کامیاب کیا۔

 میری چوتھی مثال موجودہ دور ہے۔ عمران خان نے پاکستانی عوام کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کی تمام خرابیوں، ناکامیوں کی وجہ کرپشن ہے اور اسی نعرے پر اس نے اپنی سیاسی بنیاد رکھی اور اسی نعرے کو sale کر کے اس سےکچھ عوامی حمایت ، کچھ عدالتی اور جرنیلی حمایت حاصل کرکے حکومت بنالی۔ 

جماعت اب تک سیاسی طور پر کوئی ایسا نعرہ پیش نہ کرسکی جسکی عوام میں پزیرائی ہوتی۔ عام عوامل اور خرابی کی بات تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن کوئی ایسی بات جو جماعت کو متمیز کر سکے نہیں دیکھنے میں آئی۔ 

میری رائے میں جماعت میں ایک کجی، اسکی فیصلہ سازی کے میکینزم میں ہے۔ جماعت کی فیصلہ سازی میں ہمیشہ ایک یک طرفہ سوچ ہی نظر آتی ہے۔ مختلف سوچ اور خیالات کسی سیاسی جماعت کی کی قوت ہوا کرتے ہیں کمزوری نہیں۔ جماعت کی فیصلہ سازی کی تاریخ میں شاید ایک ہی بار ہوا ہے کہ اس کے ایک سب سے قدآور لیڈر مرحوم پروفیسر غفور احمد نے ضیا الحق کی حمایت اور ضیائی ریفرنڈم سے اختلاف کرتے ہوئے گھر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ کراچی اور سندھ، جو جماعت کی ہر تحریک کا ہراول دستہ ہوا کرتا تھا، پروفیسر غفور سے جماعت کے سلوک کی وجہ سے جماعتی حمایت سے دور ہوگیا- یہ اتنا بڑا نقصان ہے، جس کا موازنہ PPP کا پنجاب سے سیاسی صفائے سے دیا جاسکتا ہے۔  

جب جماعت کے فیصلہ سازی کی یک طرفہ سوچ کا تجزیہ کیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ گو جماعت یہ دعوٰی تو کرتی ہے کہ اس میں جمہوریت ہے، لیکن میرے خیال میں ایک بہت بڑی خرابی بھی ہے۔ جماعت کی نچلی سطح کے تمام عہدے سلیکٹ کئے جاتے ہیں اور انتخاب محض امیر جماعت کا ہوتا ہے۔ اور نچلی سطح کی لیڈر شپ سلیکٹ کرتے وقت مرکزی لیڈرشپ انھیں لوگوں کو ذمہ داری تفویض کرتی ہے جو محض ہم خیال ہوں۔ اس لئے پچھلی نصف صدی سے جماعت کی ہر سطح پر سوچ کی یکسانیت نظر آتی ہے۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق یہ کسی بھی سیاسی جماعت کی ایک کمزوری تو تصور کی جائے گی، طاقت نہیں۔ 

یہ بات نوٹ کی جائے کہ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میری رائے میں دوسری جماعتوں میں جمہوریت ہے۔ چونکہ ہم اس وقت محض جماعت پر ایک اکیڈمک تبصرہ کر رہے ہیں اس وجہ سے یہ بات کہی گئی ہے۔

جماعت کی عوام میں غیر مقبولیت کی ایک وجہ (جو بڑی دلچسپ بھی ہے )وہ اس اکیسویں صدی کا کلچر ہے۔ آج کل کا نوجوان اپنے لیڈر کو خوبصورت، وجیہ، سمارٹ دیکھنا چاہتا ہے اور یہ بات مدنظر رکھی جائے کہ آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ اس دور میں ، گو بہت قابل احترام لیکن marketable لیڈر نہ مرحوم منور حسن تھے اور نہ محترم سراج الحق ہیں۔ یہ بات میں بہت ادب اور احترام سے کہہ رہا ہوں ۔

ایک وجہ، جماعت سے اختلاف کی نہیں بلکہ متنفر ہونے کی ہے اور اس کیٹیگری میں، میں خود بھی شامل ہوں۔ اس بیان کو کھلے دل اور اکیڈمک تبصرے پر لیا جائے اس سے دل آزاری ہر گز مطلوب نہیں ۔ وہ یہ کہ جماعت گو اسلام کی داعی ہے لیکن تاریخ کے کئی موڑ اسے محض زبانی جمع خرچ ثابت کرتے ہیں۔ 

میں جو 70 کے الیکشن میں اپنے اسلامی ذہن کی وجہ سے جماعت کے معتقدین میں تھا، ایک شدید دھچکے سے روشناس ہوا۔ اور پھر یہ دل شکن بھونچال وقتاً فوقتاً آتا رہا، مندرجہ ذیل واقعات میرے ذہن کو جماعت سے دور کرنے کا سبب بنے۔

        * جماعت کا اپنے معتبر مخالفین کو ملک دشمن قرار دینا، خاص کر جب جمیل الدین عالی کو ففتھ کالمنسٹ کہا گیا

        * لاہور میں جلوس کے دوران، جماعت کے سرکردہ لیڈر کا وہاں کی پیشہ ور خواتین سے کہنا کہ دو کھولیاں خالی رکھو، ایک نصرت بھٹو کیلئے اور دوسری بینظیر کیلئے

        * محض بھٹو مخالفت میں، جنرل نیازی جس نے ہتھیار ڈالے تھے، جلسے میں ہیرو بنا کر پیش کرنا

        * خاتون ہونے کے ناطے بینظیر کی مخالفت کرنا جبکہ محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی گئی تھی

        * بھٹو دور کے ہر کام کی مخالفت برائے مخالفت۔ جس میں، شناختی کارڈ، سٹیل مل، پکی پکائی روٹی وغیرہ شامل ہیں۔ 

        * گو، قومی اتحاد میں شامل تھی، لیکن ہیلی کاپٹر سے خواتین کی جعلی تصاویر پھینکے جانے پر کوئی رد عمل نہ دینا اور نہ ہی “جاگ پنجابی جاگ” کے نعرے کو اعلانیہ مسترد کرنا

        * صوبائی معاملات میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کی معاونت کرنا

ایک دینی جماعت کا دعوٰی کرنے والی جماعت کی ان کوتاہیوں کو میں ہضم کرنے سے قاصر رہا۔ 

اب آئیے مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ سوال بہت اہم ہے کہ جماعت مستقبل میں اپنی راہیں نکالنے کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کرے اور کیا اس کی کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے ؟

میں ایک مثبت سوچ رکھنے والا انسان ہوں اور مایوسی کو کفر سمجھتا ہوں۔ میرے خیال میں اگر پورے پاکستان پر نظر دوڑائی جائے تو جماعت کو کئی ایسے ایشور مل جائینگے جن کیلئے جدوجہد کرکے جماعت اپنا جائز مقام ( جو اسکا حق ہے) پا سکتی ہے۔

جیسے میں ابتدا میں کہہ چکا ہوں کہ کامیابی، دلوں کو چھو لینے والے مسائل کے ذکر اور فکر اور ان کےلئے آواز اٹھانے سے مل سکتی ہے۔ جماعت مرکزیت کی علمبرداری چھوڑ کر تمام صوبوں کے مسائل جو کہ وہاں کے عوام کی دیرینہ آواز ہیں ان کی چمپئین بننے کی کوشش کرے۔ ان مسائل کو اگر جماعت اپنا طرہ امتیاز بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہوگئی تو یقیناً جماعت کی سیاسی پزیرائی میں کئی درجہ اضافہ ہوگا۔ چند مسائل کا ذکر بے وجہ نہ ہوگا۔ اور ان مسائل پر زبانی جمع خرچ تو پاکستان کی ہر سیاسی جماعت اپنی سیاسی مجبوری کے تحت کرتی ہے لیکن جماعت کو ان مسائل کو نمایاں کرنے کو اپنا طرہ امتیاز بنانا ہوگا۔

        * بلوچستان کے جائز حقوق اور خاص کر انکے لاپتہ افراد کا مسئلہ۔ ان عوامل کو اجاگر کرنے کیلئے مرحوم منور حسن کا حوصلہ دکھانا ہوگا۔

        * فوج کے سیاست کی مخالفت وہ بھی سید منور حسن کے انداز میں اور اس انداز کو جماعت اپنا طرہ امتیاز بنا ڈالے۔

        * سندھ خاص اور تمام دیگر صوبوں کے پانی کے متعلق مطالبے کو اسٹیبلشمنٹ کی نظر سے دیکھنے کی پالیسی ترک کرکے، صوبے کی جائز خواہشات کی پرزور  معاونت کرکے۔ صوبوں کے متعلقہ ماہرین سے گفت شنید کرکے ایک متفقہ ھدف کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا

        * صوبوں کے اقتصادی مسائل، اٹھارویں ترمیم اور NFC  ایوارڈ پر صوبائی حقوق کی وکالت کرنا اور اسے اپنا طرہ امتیاز بنا کر پیش کرنا۔ 

اگر صوبائی معاملات میں ہر صوبے کے عوام کے دل جیت لئے گئے تو یقیناً کامیابی مل سکتی ہے اور قطرہ قطرہ دریا بن سکتا ہے

وما علینا الل بلاغ 

 خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے