نکتہ چیں – ۴
۲۰ مارچ ۲۰۲۴
محسن نقوی کس کے نمائندے ہیں
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں کسی بھی جمہوری حکومت کا چہرہ اسکی وزارت داخلہ ہوا کرتی ہے۔ لیکن موجودہ (برائے نام) جمہوری حکومت کہ جسکی قیادت پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کررہے ہیں اور ن لیگ کی اس حکومت کے پیچھے، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی اسکے وجود میں رہنے کی طاقت فراہم کر رہی ہے، اس کا وزیر داخلہ، پچھلی عبوری حکومت میں ، صوبہ پنجاب کا بدنام زمانہ وزیر اعلٰی رہ چکا ہے، کہ جس کی کوئی سیاسی پہچان نہیں۔ اگر اسکی کوئی پہچان ہے تو ایک کاروباری شخصیت کے یا پھر آرمی چیف عاصم منیر کی قربت کے طور پر۔
اور آرمی چیف اور PTI کے جھگڑے میں جس طرح کا کردار، محسن نقوی نے ادا کیا ہے یہ تاریخ میں ہمیشہ دہرایا جاتا رہے گا۔
انکی موجودہ حکومت میں، بطور وزیر داخلہ شمولیت ہی یہ واضح کردیتی ہے کہ دال میں ضرور کالا ہے۔ گویا یہ تقرری اس بات کا اعلان ہےکہ الیکشن میں جس طرح تم نے ہماری جیت کیلئے مدد کی، ہم اس کا حساب چکائے دیتے ہیں۔لیکن محسن نقوی جو عاصم منیر کے مہرے یا پیادے ہیں، نے اپنے پیر ابھی سے پھیلانے شروع کردئیے ہیں ۔ اسکا عکس
TPP کے شمالی وزیرستان میں حالیہ خودکش حملے کے مذمتی بیانات میں محسن نقوی نے تو پاکستانی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کا کام بھی بزعم خود اپنے سر لے لیا ہے۔ افغانستانی حکومت اور افغانستان کے اندر جوابی حملے کے متعلق بیانات دینے کا کام تو وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کا ہے، ناں کہ وزیر داخلہ کا۔
اور سر پیٹنے کو جی تب چاہا کہ جب یہ خبر آئی کہ محسن نقوی کے سینٹر بننے کے کاغذات مسلم لیگ ن کی حمایت اور پیپلز پارٹی کی تائید سے جمع کئے گئے۔
میرے سیاسی علم کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کی طاقت اس کی عوامی پزیرائی ہوا کرتی ہے۔ جو کام پیپلز پارٹی کی عوامی پزیرائی کو ختم کرنے کیلئے ضیاالحق اپنے دس سالہ دور میں نہ کرسکا وہی کام آصف علی زرداری نے چند سالوں میں اپنی مصالحانہ سیاست سے کردیا ۔ اور اب ، مسلم لیگ ن کے سیاسی خاتمے کی ابتدا شہباز شریف کے تھلے لگے رہنے کی موجودہ پالیسی کر رہی ہے۔ اگلے الیکشن تک، ن لیگ کے غبارے میں کتنی ہوا رہ جاتی ہے اسکا حساب لگانا مشکل نہیں رہا ۔
ہمارا کام بتانا ہے، اور کچھ نہیں
خالد قاضی