جنرل غلام جیلانی کی پنجاب کے گورنرشپ کے دور میں، میاں نواز شریف، اپنے والد محترم کے حکم پر، بڑے لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور ، بس۔
بڑے لوگوں کی خدمت کرنا ہمارے ہر ، (جلد ترقی کے آرزو مند اور مشتاق ) تاجر اور صنعت کار کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور کوشش بھی۔
دوسری طرف جنرلوں کی مجبوری یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ حکومت پر بزور طاقت قبضہ تو کرلیتے ہیں لیکن لوگوں کے دلوں پر قابض نہیں ہو پاتے۔ ضیاالحق بھی اسی مشکل سے دوچار تھا، اور میاں صاحب کا خاندان ، اپنی فیکٹری کے قومیائے جانے کی وجہ سے زخمی شیر کی طرح اپنے زخم چاٹ رہا تھا۔ یہی ضرورت، ضیا ٹولے کو شریف خاندان کے قریب لے آئی اور جرنل جیلانی نے اس پتھر کو پروپیگنڈے کے نشتر سے تراش کر ہیرا بنا کر پیش کیا۔
اس مشق کے دوران ، ISI اور جرنل حمید گل کو نظر انداز کرنا بڑی زیادتی ہوگی۔
بہرحال، نواز شریف پہلے پنجاب اور پھر پاکستان کے حکمران بن گئے یا بنا دئیے گئے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، ہر انسان کے اندر کی صلاحیتیں ، پہلے رونما ہوتی ہیں ، پھر پرورش پاتی ہیں اور پھر ان میں نکھار آجاتا ہے، اور یہی کچھ میاں نوز شریف کے ساتھ بھی ہوا۔
میاں صاحب ایک دفعہ نہیں تین مرتبہ وزیراعظم بنے لیکن تینوں بار اپنی مدت پوری نہ کرسکے۔ اس کی وجوہات تو کئی ہیں لیکن میں ان کی سب سے بڑی غلطی (جو کہ دراصل انکی سب سے بڑی خوبی اور جراتمندی ہے) کہ وہ کسی بھی سپہ سالار کو دوبارہ مدت ملازمت میں توسیع نہ دینے کے فیصلے پر ڈٹے رہے ہیں۔ اور اسی ڈر کی وجہ سے ،عہدے کے لالچی آرمی چیف کسی نہ کسی بہانے انھیں انکے عہدے سے ہٹانے کی سازش کرکے یا خود اقتدار پر قابض ہوئے یا پھر اگلی حکومت سے توسیع کرواتے رہے ہیں۔
قصہ مختصر، ۲۰۲۲، میں لالچی ایک نہیں دو تھے۔ ایک باجوہ اور دوسرا فیض حمید۔ عمران خان طاقت کی تنی ہوئی ڈور پر (جسکا ایک سرا باجوہ اور دوسرا سرا فیض کے ہاتھ میں تھا) اپنا توازن قائم نہ رکھ سکے اور عرش سے فرش پر آگرے۔ سپہ سالار بننے کی اس لڑائی میں دونوں جرنیل لہو لہان ہوکر ناکارہ بن چکے تھے اور عاصم منیر جو تقریباً ریٹائر ہونے جارہے تھے اپنی لاٹری کھل جانے کی وجہ سے سپہ سالار بن گئے۔
انکی ضرورتیں باجوہ اور فیض کی ضرورتوں سے مختلف تھیں اسی لئے انھوں نے اپنا نشہ پرانی شراب سے پورا کرنا مناسب سمجھا اور اسی ضرورت کے پیش نظر نوازشریف کو دوبارہ سیاسی افق پر نمودار کیا گیا۔
چونکہ پلوں سے پانی کافی بہہ چکا تھا اسی لئے انتخابی نتائج وہ نہ مل سکے جنکی امید کی جارہی تھی۔
نئی صورتحال میں، عاصم منیر اور نواز شریف دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں کیونک ایک کا جانا دوسرے کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاسکتا ہے۔
نوازشریف اپنی سیاسی بقا قائم رکھنے کے درپے ہیں اور عاصم منیر اپنی طاقت کا جواز کھو سکتے ہیں ۔
نواز شریف نے پنجاب میں (جو کہ انکا سیاسی گڑھ ہے) اپنی سیاسی طاقت کو دوبارہ سمیٹ کر مضبوط کرنے کیلئے اپنی بیٹی مریم کو نہ صرف وزیر اعلٰی بنوایا بلکہ انکی معاونت میں بہت دور تک نکل آئے۔ حکومت پنجاب کی کابینہ کی وزیراعلٰی مریم کے ساتھ مشترکہ قیادت کرنا، نہ قانونی طور پر جائز ہے ، نہ سیاسی اور نہ اخلاقی جواز فراہم کرتا ہے بلکہ اس عمل نے نوازشریف کو جرنل جیلانی کا وزیراعلٰی بنا دیا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ مریم بی بی کو کھلی آزادی فراہم کرتے جبکہ مشورے وہ کسی نہ کسی انداز میں دے ہی سکتے ہیں
میرے مطابق ، انکے کرنے کا کام یہ ہے، کہ وہ، اس وقت محض پنجاب کے نہیں پورے پاکستان کے لیڈر بن کر، اپنی جماعت کو پورے ملک میں دوبارہ سیاسی طور پر مضبوط کرنے کا بیڑا اٹھائیں اور پاکستان کے تمام صوبوں کےشہروں کا دورہ کرکے، اپنی جماعت کو ڈسٹرکٹ لیول تک دوبارہ تنظیمی خامیوں کو درست کرکے آئندہ کیلئے ایک مضبوط سیاسی جماعت میں تبدیل کریں، لیکن یہ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ۔ میرے لئے، مایوسی اس بات پر ہے کہ انکے دوبارہ لندن جانے کی خبر آرہی ہے۔ اسی لئے میں نے اپنے اندیشے کو، اس تحریر کا عنوان بنا دیا کہ “کیا میاں صاحب “میاؤں” بن گئے ہیں ؟
خالد قاضی