NUKTADAAN

Reading: ‏۱۶۔ میرے محترم اور مہربان دوست، کہ جنکا میدان عمل اور تجربہ بہت وسیع ہے۔
Reading: ‏۱۶۔ میرے محترم اور مہربان دوست، کہ جنکا میدان عمل اور تجربہ بہت وسیع ہے۔

‏۱۶۔ میرے محترم اور مہربان دوست، کہ جنکا میدان عمل اور تجربہ بہت وسیع ہے۔

admin
7 Min Read
Group of three indian ethnicity friendship togetherness mans. Guys sitting on bench at street of India.

نکتہ چیں-۱۶
۱۷ اپریل ۲۰۲۴

میرے محترم اور مہربان دوست، کہ جنکا میدان عمل اور تجربہ بہت وسیع ہے۔ وہ نہ صرف شعبہ تعلیم میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں بلکہ انکی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی امور پر کالم نگاری بھی انھیں ایک ممتاز صحافی کے مقام پرمعمور کرتی ہے۔ وہ ٹی وی مزاکروں میں ایک سیاسی مبصر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں ۔ انکا دیرینہ سیاسی تعلق جماعت اسلامی سے ہے
گو وہ جماعت کی کئی پالیسیوں کے اعلانیہ ناقد ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا برملا اور بلا جھجک اظہارکرتے رہتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں، جماعت اسلامی کی فروری کے انتخابات کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا تھا اور مستقبل کے متعلق جماعت کو بہت عمدہ مشوروں سے بھی نوازا تھا۔ جماعت کی ملکی سطح پر ناکامی کے بر عکس وہ جماعت کی کراچی میں کارکردگی سے نہ صرف مطمئن تھے بلکہ کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کے ، جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہونے پر بہت امید افزا خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
مجھے انھوں نے فون کر کے کہا ، کہ آپ حافظ نعیم کی قیادت میں جماعت اور امیر جماعت کو کن مشوروں سے نوازیں گے ، تحریراً ارسال کریں۔
انکا احترام لازم لیکن میں اپنے خیالات بغیر لگی لپٹی کہنے میں آزاد ہوں۔
میں نے انھیں جواباً لکھا:

السلام علیکم
حضور من، میری ناچیز رائے میں ، آپ لوگ کراچی کے متعلق کچھ زیادہ ہی خوش فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں
کراچی جماعت کا تھا لیکن ضیا دور میں، جماعت اور ضیائی رفاقت کی وجہ سے کراچی پھر جماعت کا نہیں رہا، اسکی وجہ آپ خود ہیں۔ آپ نے ضیائی محبت میں ، پروفیسر غفور احمد جیسے ہیرے کو کھو دیا اور اس وجہ سے کراچی آپ کا نہ رہا۔
کراچی اسکے بعد MQM کا ہوگیا اور اِس وقت بھی، کراچی والوں کی ایک بڑی تعداد MQM ہی کو چاہتی ہے، لیکن MQM کے حصے بخرے ہوجانے کی وجہ سے مایوس ہوکر گھر بیٹھ گئی ہے
کراچی میں سندھی اردو کی نفرت کا بیج ، ممتاز بھٹو نے بویا لیکن ذولفقار علی بھٹو نے فوراً ، ( جی ہاں فوراً )اسے چیف منسٹری سے ہٹا دیا اور غلام مصطفٰی جتوئی چیف منسٹر بنا دئیے گئے، تاکہ نفرت کی سیاست کو ختم کیا جاسکے، لیکن جماعت اور اسکے زیر اثر میڈیا نے، “رہنمائی” چھوڑ کر سیاست شروع کردی۔ اس دور میں لسانی نفرتوں کی جو بیل جماعت نے چڑھائی، اسے MQM نے اپنے لسانی ایجنڈے پر عمل کرکے ایک توانا درخت میں تبدیل کردیا۔
آج کراچی تعصبی سیاست کا گڑھ بن چکا ہے اور حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے بھی وہی MQM کی سیاست کا لسانی انداز اپنایا ہے، نہ کہ مرحوم پرفیسر غفور احمد کا۔
کراچی کا نوجوان، کچھ MQM اور کچھ PTI میں بٹا ہوا ہے-
مسلسل پروپیگنڈے اور PPP کی ناقص کارکردگی کی بدولت کراچی PPP کے علاوہ دوسری سیاسی قوتوں کی تلاش میں ہے، اسی لئےکچھ تعداد بحالت مجبوری، حاشہ و کلّا، جماعت کی طرف رابغ ہوئی ہے۔ لیکن اگر آبادی بڑھنے کے تناسب سے موازنہ کیا جائے تو جماعت کے ووٹ بینک میں معمولی سا ہی اضافہ ہوا ہے۔
حافظ نعیم صاحب کیلئے مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے کام کرنے کی رفتار کو ضرور تیز رکھیں ، لیکن گفتار کی ادائیگی پروفیسر غفور کے انداز بیان سے مستعار لیں نہ کہ MQM کے انداز سے ، پھر شاید وہ سندھ میں کراچی سے باہر بھی کچھ قدم جما پائیں گے
انھیں چاہئے کہ وہ سندھ کی تمام پارٹیوں بشمول قوم پرستوں کا کنونشن بلائیں اور سندھ اور مرکز کےُاختلافات اور تنازعات پر ایک مشترکہ موقف لیکر چلیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو، جماعت سندھ کے وسطی و بالائی شہروں میں اجنبی ہی رہے گی۔
جماعت کو چاہئے، کہ چند بہت سیرئس مشقیں کریں
ایک یہ کہ وہ اپنے تمام چاہنے والوں اور کارکنوں سے، آزادانہ رائے لیں، اور پوچھیں کہ جماعت کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی ناکامی کی وجوہات، انکی نظر میں کیا ہیں اور جماعت کو ایک پریشر گروپ سے نکال کر ایک سیاسی قوت بنانے کیلئے جماعت اسلامی کے ،کن تنظیمی اور فکری میدانوں میں جوہری تبدیلی کی جائے، تاکہ عوام الناس کو جماعت اسلامی کی طرف راغب کیا جاسکے
دوسری مشق، وہ ایسے مزا کروں کی شکل میں کریں کہ جن میں جماعت مخالف صحافیوں ، لکھاریوں، طلبا، فن کاروں اور دیگر میدانوں کی ممتاز شخصیتوں کو مدعو کیا جائے اور انکے خیالات سے آشنائی حاصل کی جائے، کہ انکی نظر میں وہ کیا وجوہات اور خامیاں ہیں جو عوام اور جماعت اسلامی کے درمیان دوریوں کا سبب بنی ہوئی ہیں
پاکستانی آبادی کا نصف ، خواتین پر مشتمل ہے۔ جماعت کی مرکزی قیادت میں خواتین کا کوئی کردار نظر نہیں آتا اور اس وجہ سے آبادی کا نصف جماعت سے لاتعلقی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس متعلق جماعت کو غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے
جرنل یحییٰ ہی کے دور سے جماعت کی شناخت ایک اسٹیبلشمنٹ نواز پارٹی اور ضیائی دور میں B ٹیم کے نام سے موسوم ہوچکی ہے۔ اس شناخت کو بدلنے کیلئے جماعت کو بہت بولڈ فیصلے کرکے ان پر سختی سے عمل پیرا ہوکر، لوگوں کے اذہان بدلنے ہونگے

حالیہ برسوں میں جماعت کے دو قائدین اپنے عزم، استقلال اور جرات سے، عوام کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔ گوادر کے مولانا ہدایت الرحمٰن اور سینٹر مشتاق احمد خان۔ ان دونوں رہنماؤں کو جماعت کی مرکزی قیادت کا حصہ بنانے سے، جماعت کی عوامی پزیرائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

وما علینا الی البلاع

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے