نکتہ چیں۔ ۱۸
۲۴ اپریل ۲۰۲۴
یہ پھلجڑی سوشل میڈیا کی نہیں، مین الیکٹرانک میڈیا کی سلگائی ہوئی ہے۔اس خبر کو سن کر، واقعی دل دہل گیا ۔
وہ جو اپنے وقت کا فرعون تھا، اسکی حالت اب یہ ہے کہ کسی کا سامنا نہیں کر پا رہا، کسی فورم پر آکر جواب دینے سے قاصر ہے۔
واقعی فیض احمد فیض نے درست کہا تھا کہ
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
جب تاج اچھالے جائیں گے
جب تخت گرائے جائیں گے
کتنے شرم کا مقام ہے، کہ تمام بین الاقوامی میڈیا عموماً اور ہندوستانی میڈیا خصوصاً یہ خبر دے رہا ہے، کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ، ایک سابق جرنیل کے پوتے کی شادی میں، جیب میں قرآن لئے، وہاں موجود صحافیوں کو اپنی صفائیاں پیش کرتے پھر رہے ہیں
اس شخص نے اپنے کرتوتوں کی صفائی پیش کرنے کیلئے اپنی مرحومہ ماں کی قبر کو بھی نہیں بخشا۔ اسکا یہ بیان ، اسکے اس عذاب کی عکاسی کر رہا ہے جس میں یہ مبتلا ہے۔ یہ لوگوں کے درمیان، انکی نظروں کا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔ اور یہ کتنے اچھنبے کی بات ہے، کہ دو سخت سیاسی حریف، دونوں ہی باجوہ کا نام لیکر اس پر الزام لگاتے رہے ہیں چاہے نواز شریف ہوں یا عمران خان۔ دونوں کا ہدف باجوہ ہی ہے، الزام وہ بھی لگا رہا ہے جو باجوہ کو لایا پھر اسی نے لانے والے کو نکالا۔ اور وہ بھی جسے باجوہ لیکر آیا اور پھر اپنے نکلوائے جانے کا الزام باجوہ کو دیتا ہے۔
اور یہ بات محض باجوے تک محدود نہیں۔ یہ سارے پھنّے خان صرف وردی میں ہوتے ہوئے ہی اکڑ پھوں دکھاتے ہیں۔ وردی اترنے کے بعد یہ بکری بن جاتے ہیں۔ صحافیوں کا سامنا کرنے کی ان میں جرات نہیں رہتی۔
میری نظروں نے سوشل میڈیا پر ، جنرل جاوید قاضی، جرنل اسلم بیگ ، جنرل آصف یاسین کو صحافیوں کے سوالوں کے سامنے بھاگتے ہوئے (جی ہاں بھاگ کر جان چھڑاتے ہوئے) دیکھا ہے
ان کا کروفر بس کرسی پر ہونے تک رہتا ہے
وگرنہ ، بقول شاعر عمار اقبال
اُس مصور کا ہر شاہکار
ساٹھ پینشٹھ برس اور بس
اور میں شاعر سے معذرت کے ساتھ کہوں گا
انکی فرعونیت کا سفر
تین یا چھ برس اور بس
سنہ ۱۹۹۲ میں، میں اپنی فیملی کے ساتھ ترکی کی سیر کرنے گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، کہ ترکی کی فوج کے جرنیل بھی ، ہمارے جرنیلوں کی طرح سیاست اور تجارت میں دھنسے ہوئے تھے، کسی کو بات کرنے کی اجازت نہ تھی، ہر طرف خوف کا عالم تھا۔ سیاست اور سیاسی لوگ بدنام تھے اور تمام فیصلے فوج کے ہاتھوں میں ہوا کرتے تھے ، لیکن عوام کا شعور رفتہ رفتہ جاگتا گیا۔ شعور کی بیداری کے اس مسلسل عمل نے اگلے بیس سال میں اپنا رنگ دکھایا ۔ اور پھر ایسا ہوا کہ عوام کے ہاتھ اور جرنیلوں کے گریبان۔
اگر ہمارے کور کمانڈروں میں رتی برابر بھی دانائی باقی رہ گئی ہے تو جرنیلوں کو سیاست سے تائب ہوکر اپنی پوری توجہ پاکستان کے دفاع پر مرکوز رکھنی چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ عوام کے غیض وغضب سے اپنی جان کے دفاع کی صلاحیت بھی کھو دیں
وما علینا الی البلاع
خالد قاضی