NUKTADAAN

Reading: ‏۱۹۔ "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” کا ایک کلپ
Reading: ‏۱۹۔ "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” کا ایک کلپ

‏۱۹۔ "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” کا ایک کلپ

admin
5 Min Read

نکتہ چیں- ۱۹
۲۶ اپریل ۲۰۲۴

میرے ایک محترم دوست نے، جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” کا ایک کلپ جس میں، (سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی ایک شادی کی تقریب میں ، اپنی جنرل باجوہ کے ساتھ بات چیت اور جنرل باجوہ کی قرآن پر قسموں کا ذکر بیان کر رہے تھے) بھیج کر کہا کہ اس سارے قضیے پر تمھارا موقف کیا ہے۔ انکے حکم کی تعمیل میں نے اس طرح کی:

یہ سارا فرمائشی پروگرام تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عاصم منیر اینڈ کمپنی سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف پوسٹس سے کس قدر پریشان ہے۔ بات محض باجوہ اور فیض حمید کی نہیں۔ ان دونوں پر لوگوں کی کھلی تنقید، دراصل فوج کے ادارے پر ہی تنقید ہے اور کور کمانڈر اس صورتحال سے پریشان ہیں۔ لیکن فوجی دماغ کی سوچ اتنی ہی ہے کہ “فیض کے خلاف انکوائری شروع کروا دو، اور باجوہ کی صفائی پیش کروا دو“ تو لوگوں کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔
اسی لئے جیو پر دباؤ ڈلوا کر ISI اور ISPR نے( انکے بقول) بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا۔ لیکن حقیقتاً بات ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ باجوہ کے وقت ، جو کور کمانڈر کانفرنس نے فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلے, کے بعد جو ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے اس وقت کے ڈی جی ISPR کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ موجودہ فوجی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اب سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔ لیکن باجوہ کے جاتے ہی عاصم منیر نے PTI اور عمران خان کو اپنی انا کا مسئلہ بنا دیا اور عمران خان کو ہرانے کے چکر میں فوج کو مزید سیاست کی دلدل میں دھنسا دیا ہے، اسی وجہ سےPTI کو سیاست اور الیکشن میں ہرانے کیلئے ننگے اقدامات کئے اور کرتے چلے جارہے ہیں۔
عاصم منیر میں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کا اندازہ اس حقیقت سے عیاں ہو جاتا ہے، کہ عمران خان اور PTI کو ہرانے کیلئے جس بھدے انداز میں اس وقت کے پنجاب کے نگراں وزیر اعلٰی محسن نقوی کو استعمال کیا (جسکا نتیجہ منفی نکلا کیونکہ فوج کے خلاف نفرت میں کمی نہیں ، نفرت زیادہ ہو گئی ہے) وہ عمران خان اور PTI کو ختم کرنے کیلئے جبر اور قہر ہی کی پالیسی جاری رکھنے پر تلے ہوئے ہیں اور اسی لئے عاصم منیر نے شہباز شریف کو مجبور کیا کہ محسن نقوی ہی منتخب حکومت کے وزیر داخلہ ہونگے تاکہ الیکشن سے پہلے کی پالیسی جاری رکھی جاسکے۔ شہباز شریف یہ بات مان گئے لیکن زرداری اور بلاول اس پر بالکل راضی نہیں ہوئے۔ اسی لئے انھوں نے فیصلہ کیا کہ گو ہم حکومت کو ووٹ دیں گے لیکن حکومت کا حصہ بن کر وزارتیں نہیں لیں گے۔اگر محسن نقوی وزیر داخلہ نہ ہوتے تو PPP حکومت میں عملاً شامل ہو کر وزارتیں لے لیتی۔
اب صورتحال یہ ہے، عاصم منیر کی موجودہ پالیسی فوج کے اندر بھی دراڑیں ڈال رہی ہے۔ اور حال ہی میں کور کمانڈر منگلا جنرل ایمن بلال صفدر کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ فوج کی اعلٰی کمانڈ میں اختلافات ہی کی عکاسی کرتی ہے۔
عاصم منیر کو یہ سمجھنا چاہئے، کہ جنرل ایمن سے استعفٰی لیکر وہ مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہو گئے ہیں کیونکہ اس پیش رفت سے، فوج کی اعلٰی قیادت محتاط ہو گئی ہے۔ جبر سے خیالات نہیں بدلتے ہاں اب اپنے خیالات کو دباکر رکھا جائے گا اور پھر کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔
اللٰہ فوج کے ادارے کے اتحاد کو قائم و دائم رکھے، کیونکہ فوجی قیادت کی طاقت اتحاد میں ہے تفریق میں نہیں۔
وما علینا الی البلاع

خالد قاضیُ

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے