نکتہ چیں -۲۰
۲۹ اپریل ۲۰۲۴
یقیناًً آپ بھی میری طرح اس خبر سے حیران ہوئے ہونگے کہ جناب اسحٰق ڈار، نائب وزیر اعظم بنا دئیے گئے ہیں۔ انکا یہ عہدہ اضافی ہے یا یہ کہ، وہ وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے، اسکا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
اس پیش رفت کے ماحصل تک پہنچنے کیلئے اس کے محرکات کا تجزیہ کرنا ضروری ہے
میرے مطابق، اگر اسحٰق ڈار وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں تو شہباز شریف کیلئے ، محسن نقوی کے وزیر داخلہ مقرر کئے جانے کے بعد یہ ایک اور سبکی کا مقام ہے۔ گویا جرنیل ملک کے داخلی و خارجی دونوں معاملات اپنی گرفت میں رکھنے پر مُصِر ہیں اور شہباز شریف انکی فرمائشوں کے سامنے ایک مٹی کے ڈھیر کے علاوہ کچھ نہیں ۔ اور نائب وزیراعظم مقرر کیا جانا بس ایک چشم شوئی کے مترادف کہلائے گا
لیکن اگر وہ وزیر خارجہ کے عہدے پر بھی متمکن رہتے ہیں تو اس پیش رفت اور اس تقرری کے دور رس نتائج کو سمجھنے کیلئے ہمیں نوازشریف کی شخصیت اور سیاست پر دوبارہ نظر ڈالنی پڑے گی
اگر اسحٰق ڈار وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم، دونوں عہدوں پر فائز رہتے ہیں، تو اس عمل کو میں ایک بتدریج بدلتی ہوئی حکمت عملی گردانوں گا۔ کیونکہ حال ہی میں نوازشریف، شہباز شریف کو، ن لیگ کی صدارت سے سبکدوش کرکے ، ن لیگ کی صدارت (یا یوں کہیے کہ ن لیگ کی باگ ڈور) اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں۔ انکا یہ عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ نوازشریف “میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا” کا خاموشی سے اعلان کر رہے ہیں۔
اگر واقعی یہ تجزیہ درست ہے، تو آنے والے دن، اسٹیبلشمنٹ کی پسپائی لیکر آئیں گے۔
میرے اس متعلق سوچ کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ، بہرحال عاصم منیر اس وقت بیک فٹ پر ہیں اور عمران خان اور PTI کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی انکی پالیسی شدید طور پر ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ بظاہر الیکشن کے نتائج PTI کے خلاف کردئیے گئے لیکن اس عمل نے عاصم منیر کے امیج کو تمام دنیا میں بری طرح مجروح کیا ہے اور ملک کے اندر خاص کر نوجوان طبقے میں فوج کا ادارہ جس قدر آج متنازعہ بن چکا ہے، شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی بھی اسقدر متنازعہ نہ تھا اور اس کا احساس ملک کے کور کمانڈروں کو بھی ہے۔ اور اسی اثر کو زائل کرنے کیلئے عاصم منیر، یونیورسٹیوں کے طلبا کے اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں ( اس موضوع پر میں اپنے علیحدہ آرٹیکل میں تفصیل سے تذکرہ کروں گا)
محترم عاصم منیر کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ:
۱-اب ماضی کی طرح عدلیہ، جرنیلوں کے ہر حکم کی تعمیل کرنے کیلئے تیار نہیں
۲- اس وقت تقریباً تمام قابل قدر بڑی سیاسی جماعتیں فوج کے ہاتھوں زخم کھا چکی ہیں اور عوام کا نوے فیصد طبقہ فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کے شدید نہ صرف خلاف ہے بلکہ کھل کر اس کا اظہار بھی کر رہا ہے
۳- ماضی کی طرح میڈیا پر کسی نہ کسی طرح کنٹرول تھا لیکن آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور معاملات کو کنٹرول میں رکھنا اس قدر آسان نہیں رہا جس طرح ماضی میں تھا
۴- ملک کی، معاشی صورتحال اس قدر مخدوش ہو چکی ہے کہ اس وقت دوبارہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ فوج کے ادارے کے خلاف ایک عوامی طوفان برپا کر سکتی ہے
اللہ ہمارے طاقتور طبقوں کو عقل سلیم اور تدبر بھی عطا فرمائے۔ آمین
خالد قاضی