NUKTADAAN

Reading: ‏۲۴۔ ہائیبرڈ نظام ، مقتدرہ کی مجبوری
Reading: ‏۲۴۔ ہائیبرڈ نظام ، مقتدرہ کی مجبوری

‏۲۴۔ ہائیبرڈ نظام ، مقتدرہ کی مجبوری

admin
6 Min Read

نکتہ داں- ۲۴
۲ مئی ۲۰۲۴

ہائیبرڈ نظام ، مقتدرہ کی مجبوری
مجھے تو یہ حکومت بھی چند دن کی مہمان لگتی ہے۔ یہی ہوتا آیا ہے اور یہی اب بھی ہوگا۔ اس ملک کے نصیب میں سیاسی استحکام ہے ہی نہیں۔ عوام کچھ چاہتے ہیں، لیکن لائے وہ جاتے ہیں جو انکے چہیتے ہوں ۔ کوئی فائدہ نہیں، نہ کسی حکومت کا نہ کسی انتخاب کا۔ ساری دنیا ہم پر ہنس رہی ہے اور ہماری حکومت کو دیکھو، وہ اپنی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ ایک نیا قرض منظور ہوگیا ہے۔ سبحان اللٰہ۔
بتاؤ ، کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ، لیکن تمھیں یہ باتیں کہاں نظر آئیں گی۔ تمھارے تو اپنے ہی قصے ہیں ، نہ سمجھنے کے نہ سمجھانے کے۔
مجھے یہ ڈانٹ صبح ہی صبح کھانی پڑی، غلطی میری ہی تھی، کیونکہ حضرت کو چھیڑا میں نے ہی تھا۔
میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا، کہ آپکی بات میں وزن ہے لیکن ماحول بدل بھی رہا ہے اور ایسی مایوسی اچھی نہیں!
فرمایا ، بھائی کہیں سے کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں ملتی اور سوچ سوچ کے پاگل ہوگئے ہیں ، دیوانے بن گئے ہیں۔جب کچھ اچھا ہوتا ہوا نظر ہی نہیں آئے گا تو اچھی بات منہ سے کیسے نکلے گی
بقول ابن انشا :
دیوانوں کی سی نہ بات کرے،
تو اور کرے دیوانا کیا ؟

کہنے لگے، کہ دیکھنا، یہ حکومت بھی چند دن کی مہمان ہے۔ اسے بھی کسی نہ کسی بہانے چلتا کیا جائے گا۔تم دیکھ لینا
اس پر میں نے انکی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ ، باقی باتیں درست، مگر یہ بات ماننی مشکل ہے۔ اگر آپ غصہ چھوڑیں تو میں اپنے اس خیال کی توجیح پیش کروں۔
کہنے لگے بتاؤ
میں بات کو بڑھاتے ہوئے سمجھایا کہ ایک نہیں کئی وجوہ ہیں، سنیں:
۱- حکومت کی بنیاد قومی اسمبلی ہوا کرتی ہے۔ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن بھی اگر اصلی ہو، پچھلے PDM کے دور کی سی نہیں کہ جس میں جعلی اپوزیشن لیڈر بنایا گیا تھا، یعنی راجا ریاض
اس قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر PTI کا جنرل سکریٹری عمر ایوب ہے۔ وہ الیکشن کے دوران زیر زمین تھا جبکہ پولیس اسکی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی تھی۔ لیکن جب اسمبلی منتخب ہوگئی تو اسے گرفتار نہیں کیا گیا، بلکہ اسے جمہوری عمل کا حصہ بنایا گیا۔ وہ اسمبلی میں تقاریر بھی کرتا ہے، احتجاج بھی ریکارڈ کرواتا ہے اور حال ہی میں صدر زرداری کے اسمبلی میں خطاب میں کافی شور شرابا بھی کیا۔
۲- میں نے پوچھا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کون ہے ؟ شبلی فراز جو عمران خان کا مشیر خاص ہے۔ وہ بھی روپوش تھا۔ لیکن اب اسے سیاسی عمل میں شامل کرکے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی
۳- میں نے پوچھا کہ خیبر پختون خواہ میں کون جیتا تھا ؟ PTI۔ عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزیر اعلٰی نامزد کیا۔ اس وقت وہ کہاں تھا ؟ روپوش تھا۔ پھر کیا ہوا ؟
انکے وزیر اعلٰی بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ مرکز سے انکے حکومتی تعلقات معمول پر آرہے ہیں۔ وزیر داخلہ (محسن نقوی) اور وزیر اعظم (شہباز شریف) سے بھی میٹنگ ہو چکی ہے۔
۴- ملک کے معاشی حالات، اب سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی ہرگز اجازت نہیں دیتے اور اس کا احساس اکھاڑ پچھاڑ کرنے والوں کو بھی ہو گیا ہے
۵- امریکہ بہادر بھی افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر، پاکستان میں استحکام چاہتا ہے، اس ہی لئے، IMF کی آخری قسط بغیر کسی رد و کد کے جاری ہوگئی
۶۔ ایران کے ساتھ بھی پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھا رہا ہے اور دو طرفہ سیاسی حالات و تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں
۷۔ سعودی عرب بھی مشرق وسطٰی کے موجودہ حالات کے پیش نظر ، پاکستان کی طرف دوبارہ مائل ہوچکا ہے اور ۵ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اسکی دیکھا دیکھی متحدہ عرب امارات بھی التفات برت رہا ہے
۸- چین اور پاکستان کے درمیان CPEC منصوبے پر کام کی رفتار بھی تیز ہوچکی ہے
۹۔ مندرجہ بالا صورتحال کا ملکی سرمایہ داروں پر بھی مثبت اثر ہو رہا ہے، اور اس کا عکس سٹاک مارکیٹ کی تیزی میں نظر آرہا ہے اور اس وقت سٹاک مارکیٹ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بلند مقام پر پہنچ گئی ہے
۱۰۔ ملک کی برآمدی تجارت نے بھی بتدریج زور پکڑا ہے
یہ تمام وجوہات مجھے اطمینان دلاتی ہیں کہ اب سیاسی استحکام کی طرف پاکستان بڑھ رہا ہے

باقی العلم عنداللٰہ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے