نکتہ داں – ۲۵
۳مئی ۲۰۲۴
جنھیں چاہا، انکو بلالیا،
ناپسند، دیکھو بند ہیں
پوچھنے لگے کہ، قاضی صاحب، تقریباً ہر ٹی وی چینل پر،PTI یا عمران خان سے ، حکومت ، یا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کے متعلق، چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، کہ مذاکرات ہونگے کہ نہیں ہونگے اور کس کے درمیان ہونگے
میں نے عرض کی، کہ اس متعلق تو میں پہلے ہی اشارہ کرچکا ہوں ۔ کیا آپ نے میری گزشتہ تحریر نہیں پڑھی۔
فرمانے لگے پڑھی تو تھی لیکن اس میں تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی
میں نے انھیں سمجھایا کہ محترم، الیکشن سے پہلے، جو PTI اور اسکے لیڈران اور کارکنوں کے ساتھ ہورہا تھا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے، آپ غور فرمائیں کہ PTI کے تمام اہم لیڈران ، روپوش تھے اور پولیس انھیں گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مار رہی تھی۔
لیکن پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ، PTI کے تمام جیتے ہوئے ارکان (وہ چاہے آزاد ، یا گرفتار ہوں یا روپوش ) سب نے حلف لیا۔
پھر عمران خان کے بہت قریبی ساتھیوں کو، نہ صرف روپوشی سے سامنے آنے پر گرفتار نہیں کیا گیا ، بلکہ انھیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کا قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا اور ایک اور قریب ترین ساتھی کو خیبر پختون خواہ کے وزیراعلٰی بننے میں کوئی گرفتاری یا مداخلت نہیں کی گئی۔
مطلب یہ کہ بات ہو بھی رہی ہے اور نہیں بھی ہورہی !
کہنے لگے ، یہ کیا بات ہوئی، کہ بات ہو بھی رہی ہے اور نہیں بھی ہورہی
میں نے کہا کہ بھائی، بنا کسی اہتمام کے یہ سب کچھ پھر کیسے ہو گیا ؟ مطلب یہ کہ جن سے ضروری سمجھا بات کرلی ہے اور جن کو ضروری نہ سمجھا ان کے متعلق میڈیا پر محض
چہ میگوئیاں کرواتے رہے۔
اب بتاؤ ! سمجھے کہ نہیں سمجھے ؟
خالد قاضی