NUKTADAAN

Reading: ‏۲۸۔ وجہ اختلاف بالکل سادہ ہے
Reading: ‏۲۸۔ وجہ اختلاف بالکل سادہ ہے

‏۲۸۔ وجہ اختلاف بالکل سادہ ہے

admin
5 Min Read

نکتہ داں- ۲۸
۷ مئی ۲۰۲۴

وجہ اختلاف بالکل سادہ ہے
مورخہ ۷ مئی میرے لئے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ کہ، اللٰہ رب العزت نے یہی تاریخ، میری دنیا میں آمد کیلئے مقرر کی تھی۔
جی ہاں آج کے دن تک، اس دنیا کی ۷۲ بہاریں دیکھ چکا ہوں۔ جب بھی پیچھے نظر پھیر کر دیکھتا ہوں تو مجھے سوائے اللٰہ کے فضل ، طمانیت، اور شکر کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔
اللٰہ رب العزت نے مجھے، جو سمجھ ، شعور اور لکھنے کی صلاحیت عطا کی ہے، اسے میں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے استعمال کرنے کی سعی کرتا ہوں ۔
آج میرے ایک بہت ہی عزیز اور معصوم دوست نے مجھ سے پوچھا کہ، مجھے تم سادہ لفظوں میں سمجھاؤ کہ، تمھاری تحاریر ، جو اکثر (بقول تمھارے) سیاسی جرنیلوں کے خلاف ہوتی ہیں، اس کی کیا ضرورت ہے۔ پاکستان ایک ملک ہے اور اس کی ایک فوج بھی ہے۔ اس فوج کو چلانے ، اس کا کنٹرول اور انتظام کرنے والے جرنیل بھی ہیں۔ وہ بھی پاکستانی ہی ہیں اور پاکستان کے حالات سے وہ غیر متعلق کیسے رہ سکتے ہیں۔ وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق، اس ملک کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، تمھیں اس سے کیا اختلاف ہے ؟
میں نے انھیں سمجھانے کیلئے مثال دیتے ہوئے کہا ، کہ میرے پیارے بھائی، مجھے بتاؤ کہ کوئی بھی کاریگر، میکینک، لوہار یا بڑھئی، اپنا کام کرنے کیلئے مختلف اوزار استعمال کرتاہے کہ نہیں ؟، اور کام کی نوعیت کے مطابق ہی وہ موزوں ترین اوزار استعمال کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بڑھئی ایک کرسی یا میز بنانے کیلئے، صرف آری ہی استعمال کرے یا محض ہتھوڑے ہی لکڑی پر برساتا رہے۔ وہ کبھی آری استعمال کرے گا، کبھی رندہ چلائے گا، کبھی ہتھوڑی استعمال کرے گا ، وغیرہ وغیرہ
کسی ملک کو احسن طریقے سے چلانے کیلئے بھی مختلف اوزار یا یوں کہئے کہ ادارے اور محکمے ہوتے ہیں۔
فوج کے ادارے کی مثال ایک ہتھوڑے کی سی ہے، لیکن ہتھوڑا صرف دشمن کیلئے ہی ہوتا ہے۔ اگر ملک کے اندر ہتھوڑا بازی جاری رہے گی تو ملک کا وہی حال ہوگا جو اس وقت پاکستان کا ہے۔
فوج کے ادارے کی تربیت ، اسکے ارکان کو (دشمن کے خلاف )ایک زبردست ہتھوڑا بنانے کی دی جاتی ہے۔
لیکن پاکستان میں ہوتا اس سے مختلف ہے، یہ ہتھوڑا جہاں برسنا چاہئے اس کے سامنے تو ہتھیار ڈالنا ۔۔۔۔۔
لیکن ملک کے اندر ، وہ ایسے دندناتا پھرتا ہے جیسے یہ ملک اس نے فتح کیا ہوا ہے
قرآن تو تعلیم دیتا ہے کہ

وَالَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُُ عَلَی الْكُفَّارِ رُحَمَآءُُ بَیْنَهُمْ

ہو حلقہ یاراں ، تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

لیکن پاکستان میں
‏Bull in a China Shop
کے مصداق، ایوب کے زمانے ہی سے، ہتھوڑے بازی کر کر کے اس ملک کے تمام اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھدی ہے۔
اس ملک کی ناکامی کی وجہ ہی یہ ہے کہ اس ملک کے جرنیلوں نے، اپنی ذاتی، اور اپنے ادارے کے لوگوں کے مفاد میں، اس ملک کے تمام وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے، اور عوام کو کبھی حب الوطنی ، کبھی مذہبی اور کبھی لسانی اور کبھی صوبائی ، چورن چکھا کر، دست و گریبان کیا ہوا ہے، تاکہ ان کی طرف سے لوگ بے دھیان ہی رہیں۔
مجھے بتائیں کہ ہم ان سے کیا چاہتے ہیں؟ یہی ناں کہ وہ اپنے حلف کی پاسداری کریں ، نہ سیاست میں حصہ لیں اور نہ آئین شکنی کے مرتکب ہوں۔
اگر کوئی، ہمارے اس مطالبے کو غلط یا غیر ضروری تصور کرتا ہے تو دلیل سے قائل کرے نہ کہ تہمت اور بہتان طرازی کرے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے