نکتہ داں۔ ۲۹
۱۱ مئی ۲۰۲۴
۹ مئی کے ابال کی وجہ
۹ مئی کا دن، پاکستان کے مستقبل کی سیاست میں ہمیشہ اہم گردانا جائے گا۔
اس دن نے ،پاکستان کے عام لوگوں، اور خاص کر نوجوانوں کے ذہنوں میں، ایک انقلابی سوچ بیدار کردی ہے اور میری سیاسی سوچ کے مطابق، مستقبل قریب میں، محکوم طبقے کا حاکموں سے ایک فیصلہ کن مقابلہ بعید از قیاس ُ نہیں رہا۔
آئیے، اس دن کے محرکات اور اس سے جڑے تغیرات پر ایک عادلانہ نظر ڈالتے ہیں۔
۹ مئی کے متعلق ہماری مقتدرہ بمعہ حکومتی جماعتوں کی رائے، PTI کی رائے سے، قطبین کا فاصلہ رکھتی ہیں۔
فوجی زعماٌ اور حکومتی جماعتیں ، اس واقعے کو ایک بغاوت کی نظر سے دیکھتے ہوئے PTI کی قیادت کو اس کا مکمل ذمہ دار گردانتی ہیں اور اسے ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیتی ہیں جبکہ PTI کا موقف یہ ہے، کہ یہ PTI کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش تھی اور اس روز کی توڑ پھوڑ میں، ادارے خود ملوث تھے اور یہ منصوبہ PTI پر پابندی لگانے کی سازش کا حصہ ہے۔
میری ایماندارانہ رائے یہ ہے، کہ معاملہ ان دونوں مواقف کے درمیان ہے۔
اگر ہم، ۹ مئی سے پہلے کے واقعات پر نظر ڈالیں، تو عمران خان کے ایما پر، PTIکے کارکنوں کی ، عمران خان کو گرفتار کرنے کی بزور طاقت ، مزاحمت اور زمان پارک میں پولیس اور PTI کے کارکنوں کے درمیان میدان جنگ میں پولیس کی ناکامی نے، PTI کے کارکنوں میں یہ عمومی سوچ پیدا کردی تھی کہ وہ ریاستی مشینری کی تمام تر طاقت کا مقابلہ کرکے عمران خان کو گرفتار ہونے سے روک سکتے ہیں۔ لیکن جب، ۹ مئی کو عمران خان کو ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال اور قانون کے خلاف عدالت کی حدود سے گرفتار کرلیا گیا تو عوامی ردعمل، ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ، بنا سوچے سمجھے، اپنے جذبات کا اظہار ، توڑ پھوڑ کے ذریعے، تمام حدود سے تجاوز کر گیا۔
لیکن اس سارے عمل میں کچھ دخل دونوں اطراف کے کوتاہ نظر افراد کا بھی تھا۔
عمران خان کے چاہنے والے “کچھ” لیڈر عوام کو سب کچھ کر گزرنے پر اکساتے رہے اور دوسری طرف، فوج کے کچھ زعماٌ بھی عمران خان کی چاہت میں فوج کے ڈسپلن کے خلاف، اس توڑ پھوڑ کے عمل میں معاونت کرنے میں مصروف رہے۔ میرے اس خیال کی ISPR کے ترجمان نے یہ کہہ کر تصدیق کی ہے، کہ فوج کے اندر ، احتساب کا عمل شروع ہوچکا ہے اور حال ہی میں اعلٰی فوجی قیادت کے استعفوں کا تعلق اسی احتساب کے عمل سے ہے۔
مطلب کہنے کا یہ کہ ۹ مئی کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر نہیں ڈالی جاسکتی۔اس عمل کے دونوں فریق ، برابر کے ذمہ دار ہیں
میرے سیاسی حساب کتاب کے مطابق،۹مئی کی وجہ سے PTI بظاہر، نقصان میں نظر آرہی ہے لیکن اس واقعے کے دور رس نتائج سیاسی جرنیلوں کے خلاف جائینگے۔
فوجی دماغ ، طاقت کے گھمنڈ میں ، مستقبل کے عوامی رد عمل سے قطعاً نابلد ہے۔وہ صرف افراد کو زیر کرنا جانتے ہیں دلوں کو مسخر کرنے کا فن انکے قریب سے نہیں گزرا۔
اب آپ غور فرمائیں، کہ ISPR کے ایک “ترجمان” نے، ۷ مئی کو پریس کانفرنس کرکے بھڑکیں تو بہت مار لیں لیکن اسکے بعد PTI کے لیڈروں کا جو رد عمل اپنے جوشیلے بیانات اور اس پر جو عوامی رد عمل سوشل میڈیا پر نظر آیا ہے، وہ مستقبل کی سیاسی بساط پر کئی جرنیلی مہروں کو پٹتا ہوا دیکھ سکتی ہے۔
آپ کے خیال میں ISPR کے ترجمان کی بھڑکوں کا ترکی بہ ترکی جو جواب، PTI کے تمام لیڈروں نے دیا ہے اور جس طرح مولانا فضل الرحمٰن نے جرنیلوں کو علی اعلان آڑے ہاتھوں لیا ہے، اسے دیکھ کر فوج کا وہ دھڑا جو عاصم منیر کا مخالف تصور کیا جاتا ہے، خاموش رہے گا ؟
ہاں خاموش ضرور رہے گا، لیکن ۔۔۔۔ محتاط ہونے کی وجہ سے ، لیکن ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گا۔
اگر عاصم منیر اور اسکے ہم نواؤں میں ذرا سی بھی عقل اور دور اندیشی ہے، تو انھیں فوراً، باجوہ کے( اپنی نوکری کےدوران ) آخری اعلان پر عمل کرتے ہوئے سیاست سے خود کو علیحدہ کرلینا چاہئے۔
اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ فائدے میں حکومتی اتحاد نظر آتا ہے لیکن قابل افسوس بات یہ ہے، کہ یہ فائدہ عارضی ہے۔
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی