نکتہ داں-۳۰
۱۵ مئی ۲۰۲۴
سیاست یا جرنیلوں کی نوکری
میرے ایک نہایت محترم دوست، جن سے میرا پچھلی دو دہائیوں سے بھی زیادہ ، بھائیوں جیسا تعلق ہے ۔ وہ جماعت اسلامی کو پاکستان کے تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ میں انکے اخلاق، دردمندی، محبت، خلوص، لوگوں کی خدمت کے جذبے ، حب الوطنی اور رکھ رکھاؤ کا اسیر ہوں اور انکی شخصیت کو اس دور میں، اللٰہ رب العزت کی ایک نعمت سمجھتا ہوں۔
چونکہ ہمارا تعلق اسقدر برادرانہ ہے لہذا سیاسی بحث میں چاہے کتنی ہی شدت آجائے، مگر، ہمارے آپس کے احترام ، عزت اور پیار کی حدت میں ذرا سا فرق بھی نہیں آنے پایا۔
پچھلے ہفتے انھوں نے جماعت کے نئے منتخب امیر جناب حافظ نعیم الرحمٰن کے امیر منتخب ہونے کے بعد پاکستان کے چاروں صوبوں کے دورے کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے چارسدہ کے دورے کی پر جوش تقریر کا کچھ حصہ بھیجا، جس میں وہ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پر سخت تنقید کرتے ہوئے، ان پر اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے عوض ، پسندیدہ فیصلے کرنے کا الزام یا یہ کہئے کہ تہمت لگا رہے تھے
https://youtu.be/bk9ktWXr__M?si=NJLop894pQa725BD
انھوں نے لکھا کہ دیکھو، حافظ نعیم الرحمٰن نے قاضی عیسٰی کو کیسا، نشانے پر لیا ہے۔
جوابا” میں نے انھیں لکھا، کہ بھولے بادشاہ جو بات میں پہلے دن سے کہتا آیا ہوں ، تمھارے امیر نے اپنی اس تقریر سے ثابت کردیا کہ میرا تجزیہ درست ہے۔
بولے کیا مطلب ؟ میں نے انھیں کہا کہ ہمیشہ سے فوج کی B ٹیم رہے ہو اور یہی کام تمھارا نیا امیر بھی کر رہا ہے
ناراض ہوکر کہنے لگے کہ تم بے پر کی اڑانے سے باز نہیں آؤ گے !
میں نے دست بستہ عرض کی، حافظ صاحب کی بات میں وزن اس وقت ہوتا، جب انکا کوئی بیان، جی ہاں کوئی بیان، ایجنسیوں کی، عدلیہ کے کام میں مداخلت پر بھی سامنے آتا۔
کتنی دہائیوں سے عدالتوں میں مداخلت ہورہی ہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عدلیہ کے کام میں مداخلت کا ذکر کیا اور انھیں سبکدوش کردیا گیا، یہی کوشش قاضی فائز کے خلاف اسلام آباد دھرنے کے فیصلے کے بعد کی گئی لیکن وہ ناکام رہی۔ اس پر آپ اپنے کسی امیر کا بیان دکھا دیں
آج چھ ججوں نے جرنیلوں کی مداخلت پر خط لکھدیا ہے، اس پر عدالت میں کاروائی چل رہی ہے، اسی لئے آج قاضی فائز پر آپ تہمت لگا رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آج عدلیہ کے خلاف سینیٹ میں یا فیصل واوڈا بول رہا ہے یا جلسوں میں آپکا امیر۔
میں نے کہا، آپ سے ایک مودبانہ سوال ہے۔ مجھے بتائیں کہ بلوچستان کے لوگ سب سے زیادہ کس کے خلاف شکایت کرتے ہیں اور گوادر کا آپکے امیر مولانا ہدایت الرحمٰن نام لے لیکر کس کے خلاف بولتے ہیں ؟ جرنیلوں کے خلاف بولتے ہیں کہ نہیں ؟
بولے مولانا تو گوادر کے ہیرو ہیں
اس پر میں نے حافظ نعیم الرحمٰن کی کوئٹہ میں چند دن پہلے کی تقریر انھیں ارسال کی
https://youtu.be/pfE9NIekvF8?si=HH-Ix0TnhCi-E_Sp
میں نے کہا کہ پوری تقریر میں کہیں فوج کا نام سنا دیں !
ہاں اگر کچھ کہا ہے تو یہ، کہ “ریاست” غلط کاروائیاں کر رہی ہے۔ یہ بالکل وہی بیانیہ ہے جو ISPR کے بونے نے چند دن پہلے اپنی پریس کانفرس میں کیا تھا کہ “فوج” ریاست ہے۔ حالانکہ فوج ایک ادارہ بھی نہیں ہے
میں نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی، جماعت کے چاہنے والے معصوم لوگ اپنی قیادت کے پیار میں دیوانے رہے ہیں، دیوانے ہیں اور اگر یہی حال رہا، تو ، اس دیوانگی کا یہی نتیجہ نکلے گا جو پچھلی نصف صدی کے ہر انتخابی معرکے میں نکلتا رہا ہے
جماعت اسلامی کے نیک نیت اور پرخلوص چاہنے والے کو اگر کسی نے دھوکہ دیا ہے تو وہ اس کی اپنی قیادت نے دیا ہے۔
فوج کا سب سے بڑا حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام میں سیاسی لیڈروں کے خلاف مخالفت نہیں،” نفرت” کو فروغ دیں ۔ اور یہی کام جماعت 70 کی دہائی سے کر رہی ہے۔ اور آپ غور کریں، کہ فوج جب عمران خان کو لانے کیلئے پلان کر رہی تھی تو عمران خان کو بھی مخالفت نہیں نفرت پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا، یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت سے نکالے جانے کے بعد جو سبق اسے پڑھایا گیا تھا وہ جرنیلوں پر بھی استعمال کرکے جرنیلوں کے خلاف سخت نفرت پیدا کر نے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
میں نے ان پر واضح کیا کہ چونکہ عدلیہ نے اپنے کام میں مداخلت کے خلاف ایک سخت اور واضح سٹینڈ لیا ہے، اور اس معاملے میں فوج کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اسی لئے جرنیلوں نے اپنے دوسرے سیاسی کارندوں یا جماعت کو ججز کے خلاف بولنے کا اشارہ دیدیا ہے اور اب یا فیصل واوڈا عدلیہ کے خلاف بولتا نظر آئے گا یا پھر جماعت اسلامی کا امیر
خالد قاضی