NUKTADAAN

Reading: ‏۳۱۔ جرنیلی پیادے
Reading: ‏۳۱۔ جرنیلی پیادے

‏۳۱۔ جرنیلی پیادے

admin
6 Min Read

نکتہ داں-۳۱

۱۶ مئی ۲۰۲۴

جرنیلی پیادے

میرے ایک مہربان نے، جہانزیب خانزادہ کے پروگرام کا ایک کلپ، (جس میں وہ ، فیصل واوڈا سے انٹرویو کر رہے تھے)، بھیج کر پوچھا: سر، پورے میڈیا پر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنسوں ، عدلیہ میں اسکا ذکر اور اس سے جڑی باتوں کا چرچا ہے جبکہ آپ بالکل خاموش۔ کچھ تو فرمائیں ناں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟

میں نے ان سے کہا، کہ بھائی ، میں ایک واجبی سی عقل کا مالک ہوں اس لئے ایسے گورکھدھندوں سے دور رہنا پسند کرتا ہوں۔ چھوڑو کوئی اور بات کرو، لیکن انکے بار بار اکسانے پر، میں نے کہا، کہ میری سمجھ کے مطابق ، یہ ہاتھیوں کی لڑائی ہے، لیکن ہاتھی سامنے آکر نہیں لڑ رہے، بلکہ ، پیادے آگے بڑھا رہے ہیں۔ لیکن پیادوں کو سوچنا چاہئے کہ پیادہ بہرحال پیادہ ہی رہے گا۔ پیادے کی مثال دو طاقتوں کی لڑائی میں بارود کی سی ہوتی ہے ۔جنگ میں فتح چاہے کسی بھی طاقت کی ہو، بارود کی قسمت میں جل کر فنا ہونا ہوتا ہے۔ بارود شروع میں شعلے بھی بہت بھڑکاتا ہے، زور دار دھماکے بھی اسکی وجہ سے ہوتے ہیں اور گرمی بھی بہت پیدا ہوتی ہے، لیکن بارود کا انجام جل کر راکھ بن جانا ہوتا ہے اور بس۔

کہنے لگے، میں نے پہیلیاں بھجوانے کیلئے بات نہیں شروع کی، سیدھی طرح سمجھاؤ !

میں نے کہا ، کہ دیکھو، پاکستان بننے کے ابتدائی سالوں میں، ہمارے جرنیلوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا اور مملکت کے تمام ادارے بمعہ عدلیہ، جرنیلوں کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھی۔ لیکن وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ اور ، تاریخ، وقت اور معلومات سے لوگوں کے شعور میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

ہماری آج کی جرنیلی جنتا، اس تغیر کو جانتی بھی ہے اور عوام کے بگڑ جانے کا ادراک اسے، جسٹس افتخار چودھری کی بغاوت کے بعد ہو چلا ہے۔ لہٰذا اگر وہ کبھی ایک قدم آگے بڑھتے بھی ہیں تو احتیاطًا دو قدم پیچھے ہٹنا بھی سیکھ گئے ہیں۔

موجودہ عدلیہ کا موڈ، اپنے ادارے کی ساکھ کو بہتر کرنے اور عدلیہ میں مداخلت کا دروازہ بند کرنے کے فیصلے پر مستحکم نظر آتا ہے۔

جرنیلوں کا مسئلہ یہ ہے، کہ انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ یہ مشرف کا دور نہیں ہے کہ آگے بڑھ کر عدلیہ کی بانہہ مروڑی جائے۔ ایسا کرنے سے وہ ایک ایسے طوفان کو دعوت دیں گے جو سب کچھ بہا کر لیجا سکتا ہے۔ اس لئے انھوں نے، ججوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنا کر انھیں فارغ کرنا شروع کیا، لیکن یہ عمل بھی اب نہیں چل سکتا۔ اس لئے اب ججوں کے اقربا کو پریشان کرنا، بلیک میل کرنے کیلئے فائلیں بنانا، گھروں کے اندر آلات لگا کر، ججوں کو بلیک میل کرنے کا مواد جمع کرنےوغیرہ وغیرہ جیسے حربے استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن، یہ حربے بھی اب طشت از بام ہوچکے ہیں اور ججز بھی بہت محتاط ہو گئے ہیں۔ اسی لئے، اب ، اگلا حربہ، ججز کے خلاف اپنے ٹاؤٹوں کو استعمال کرنے کا بندوبست نظر آرہا ہے۔ اور آئندہ بھی، شاید یہی طریقہ جاری رہے

لیکن، دو باتیں بہت اہم ہیں۔

۱- جرنیلوں کے خلاف صرف عدلیہ ہی نہیں بول رہی، عدلیہ تو اشاروں کناؤں میں بات کر رہی ہے، لیکن مولانا فضل الرحمٰن یا اس سے پہلے،آصف زرداری، نوازشرف اور عمران خان تو نام لے لے کر الزام لگا چکے ہیں۔

۲- دوسری اہم بات، فیصل واوڈا جیسی پراکسیوں کے سوچنے کی ہے

وہ شخصیات جو چاہے عدلیہ یا چاہے جرنیلوں کے خلاف بولیں ، اگر ان کی پشت پر انکی جماعتی طاقت ہے تو ایسے اشخاص پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے جرنیل کئی دفعہ سوچتے ہیں مثلاً آصف زرداری، نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن یا حال ہی میں استعمال ہوئی پرانی پراکسی جماعت کے حافظ نعیم الرحمٰن ۔

لیکن ایسے افراد، جن کے پیچھے کوئی سیاسی طاقت نہ ہو اور وہ، آبپارہ یا پنڈی کے زیر اثر ، اپنی اوقات سے بڑھ کر بھڑکیں مارنے لگیں ، تو انھیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ انھیں محض سیاسی ٹشو پیپر کی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ کام نکلنے کے بعد انکی جگہ ڈسٹ بن کے علاوہ اور کوئی نہ ہوگی۔

تاریخ میرے، موقف کو درست ثابت کرتی ہے، اور ثبوت کے طور پر میں، ذولفقار مرزا ،فیصل رضا عابدی، شیخ رشید، کی مثال پیش کرسکتا ہوں ۔ یہ تمام افراد، اپنے اپنے وقت پر ، وقتی بھونچال بھی پیدا کرتے تھے اور میڈیا کی بھی زینت بنتے تھے، لیکن استعمال ہونے کے بعد ، پنڈی یا آبپارہ انھیں بالکل بھلا چکا ہے اور مستقبل میں فیصل واوڈا کا نام بھی سیاسی ٹشو پیپروں کی لسٹ میں ایک اضافہ ثابت ہوگا ۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے