نکتہ داں-۳۴
۹ جون ۲۰۲۴
سیاسی اتحاد کی اہمیت
جی ہاں ! غیر حاضری کی وجہ سیر سپاٹا ہی تھی۔ دراصل آج کل کے صاحب حیثیت نوجوانوں میں Destination Marriage کا شوق، ہم متوسط معاش کے لوگوں کو، گھر سے نکلنے کا بہانہ فراہم کردیتا ہے۔ وگرنہ ہماری پہنچ صرف پروگرام بنانے تک ہی ہوتی ہے۔ دنیا دیکھنے کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے، جامے کی جیبیں ٹٹولیں تو ، ہاتھ خالی باہر آ جاتے ہیں۔
لیکن یہاں معاملہ قربت کا تھا۔ میری بھتیجی کی بیٹی کی شادی کی تقریب ،میکسیکو کے ساحلی شہر
“کین ُکون” میں ترتیب دی گئی تھی۔ اسی بہانے، ہمیں میکسیکو۔ دوسری مرتبہ جانا نصیب ہوا۔سفر بھی پر لطف تھا، شادی بھی اقربا اور عزیز دوستوں کی وجہ سے بھرپور رہی، اور آج کل کے موجودہ حالات کے پس منظر میں سیاسی مکالمہ بھی دوبدو رہا۔
چونکہ شادی کے 90 فیصد سے زیادہ شرکأ امریکہ میں مقیم (پاک )امریکی تھے لہٰذا میرا ٹاکرا بھی عمران کے شیدائیوں سے ہی تھا۔
عموماً کوئی بھی، کسی بھی، اور کیسی بھی، باوزن دلیل سے قائل ہونے کو تیار نہیں تھا۔ سیاسی تاریخ سے تقریباً نابلد لوگوں سے بات کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے، اس کا اندازہ مجھے اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔
میں نے اپنا آخری حربہ استعمال کیا۔
عمران کے شیدائیوں سے، میں نے عرض کی، کہ چلیں ، جن چیزوں پر ہمارا اختلاف ہے ان نکات کو کچھ دیر کے لئے الگ رکھتے ہیں۔ ہم ان چیزوں کی فہرست بناتے ہیں جن پر ہم متفق ہیں۔
بولے اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟
میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ جناب کسی بات پر تو اتفاق کرلیں
مجھ پر احسان کر کے وہ راضی ہوگئے
میں نے فہرست گنوائی
۱- پاکستان کے سیاسی حالات ہمیشہ سے متزلزل رہے ہیں اور آج بھی ہمیں سیاسی استحکام نصیب نہیں ہے۔
بولے ہاں
۲- اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ فوجی مداخلت اور جرنیلوں کا بزور طاقت ، اقتدار پر قبضہ کرنا ہے
بولے جی ہاں
۳- اگر فوج براہ راست اقتدار پر قابض نہ ہو، تب بھی وہ سیاسی حکومتوں کو اپنے تابع رکھنے کیلئے ہر طرح سے روڑے اٹکاتی رہی ہے اور اس کی وجہ پاکستان کے معاشی ذرائع کو اپنی گرفت میں رکھنا ہے
بولے بالکل درست
۴-پاکستان کے معاشی حالات کی بہتری کا دار و مدار پاکستان کے سیاسی استحکام سے منسلک ہے۔
بولے بالکل
۵- پاکستان کے ہر الیکشن میں نتائج کو اپنی ضرورت کے مطابق جرنیل تبدیل کرتے رہے ہیں اور عوام کی رائے کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔
بولے یہی تو سب سے بڑی مصیبت ہے
۶- اگر جرنیل، سیاست میں مداخلت بند کردیں تو پاکستان میں سیاسی استحکام آسکتا ہے، جو معاشی استحکام کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے
بولے ایسا ہو جائے تو ہمیں اور کیا چاہئے ؟
۷- پاکستان کے سیاسی حالات کو بہتر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں جرنیلوں کو کسی طرح قائل کردیں کہ وہ سیاست سے باز آجائیں اور انھیں اپنے دائرے میں رہنے پر مجبور کردیں تو پاکستان میں سیاسی استحکام آسکتا ہے
بولے یہی تو نہیں ہورہا اور نہ جرنیل یہ ہونے دیں گے، حالانکہ عمران کی یہی خواہش ہے جبکہ اس کی مخالف جماعتیں فوج کی طفیلی بن گئی ہیں اور اس وجہ سے کوئی بھی ایسی پیش رفت نہیں ہوسکتی جو جرنیل نہ چاہتے ہوں
میں نے انھیں سمجھایا کہ یہی آپ سب کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے
بولے کیا مطلب ؟
میں نے انھیں یاد دلایا کہ مجھے بتاؤ کہ کیا
* جرنیل 58, B, 2 کے ہتھیار کو ختم کرنا چاہ رہے تھے، کہ جسے وہ استعمال کرکے جب چاہتے اسمبلی توڑ دیا کرتے تھے؟
* کیا جرنیل ۱۸ ویں ترمیم چاہتے تھے کہ جس کی وجہ سے سارے اختیارات صدر کے بجائے وزیراعظم کو منتقل ہوگئے اور قومی آمدنی پر مرکز کو قابض رہنے کے بجائے، تمام صوبوں کا حصہ بھی بڑھ گیا !
* کیا جرنیل اپنے کسی ساتھی جرنیل(مشرف) کو صدارتی محل سے ایک قانونی اور سیاسی عمل کے ذریعے بے دخل کرنے کو تیار تھے ؟
ان تمام حقائق کو سمجھنے کیلئے، آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ بےشک جرنیل مداخلت کرتے ہیں لیکن جہاں جہاں سیاسی قیادت ڈٹ جائے وہاں جرنیلوں کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور یہ بات تاریخ سے ثابت ہے
اور یہ سب کچھ سیاسی بات چیت، مشورے اور اتفاق پیدا کرنے سے ہوا اور ایسا عمل دوبارہ بھی ممکن ہے اگر تمام سیاسی قوتیں متحد ہوجائیں
سیاسی قوتوں کے متحد ہونے سے ہی، پہلے بھی جرنیل پیچھے ہٹے تھے اور اب بھی انھیں دھول چٹائی جاسکتی ہے۔
بات آپس میں کریں، جرنیلوں کو گھاس نہ ڈالیں
صرف ان سے بات کرنے کی بات کرنا تو گویا انکی ناجائز اور غیر قانونی مداخلت کو جائز قرار دینا ہوا
میں نے ان سے التجا کی، کہ محض دوسروں کی خرابیوں کے ذکر سے آپ خود کو بھی کچھ کم ننگا نہیں کرتے۔
ہم میں کوئی بھی فرشتہ نہیں ۔ نہ عمران مخالف زعمأ اور نہ ہی عمران خان اور اسکے ساتھی فرشتے ہیں
سیاست کو امریکن کشتی بنانے سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا
اگر اب بھی ، جرنیلوں کو نکیل ڈالنی ہے تو اپنے کبر، غرور اور خود پرستی کے سحر سے نکلنا ہوگا۔
میری باتیں سن کر کچھ سکتہ سا طاری ہوگیا، اللٰہ بھلا کرے بیرے کا کہ جس نے آکر اعلان کیاکہ
Sir dinner is ready
اس کے اس اعلان سے عمران کے شیدائی بھی خوش ہوئے اور مجھے بھی کچھ سکون نصیب ہوا
خالد قاضی