NUKTADAAN

Reading: ‏۳۷۔ یہ بھولے اور بادشاہ لوگ
Reading: ‏۳۷۔ یہ بھولے اور بادشاہ لوگ

‏۳۷۔ یہ بھولے اور بادشاہ لوگ

admin
5 Min Read

نکتہ داں-۳۷

۵ جولائی ۲۰۲۴

یہ بھولے اور بادشاہ لوگ

فرمایا کہ یار تم امریکیوں کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کبھی تو (بقول عمران خان کے)، تم اس کے خلاف سازشیں کرکے، جرنیلوں کے ذریعے اسکی حکومت ختم کرواتے ہو اور کبھی تمھیں  عمران خان اور جمہوریت سے اتنی محبت ہوجاتی ہے کہ اسکے لئے اپنے ایوانِ نمائندگان میں بھاری اکثریت سے قرارداد پاس کرواکر، فروری ۲۰۲۴ کے پاکستانی انتخابات میں دھاندلی کی تحقیق کا مطالبہ کر دیتے ہو، اور توقف اس پر ہی نہیں رہتا بلکہ فورًا ہی اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی رپورٹ بھی جاری ہوجاتی ہے کہ جس میں عمران خان کی قید کو ، غیر قانونی قرار دیکر اس سارے عمل کو سیاسی ہیر پھیر  کا شاخسانہ بتاتے ہو۔ ظاہری بات ہے، یہ رپورٹ بھی امریکی ایما پر ہی آئی ہے۔

میں نے جواباً کہا، سر، یہ تو آپ بتائیں ناں کہ یقین عمران خان کے ابتدائی بیانیے پر کیا جائے (کہ جس کی امریکی حکومت نے نہ صرف نفی کی تھی بلکہ اس سارے معاملے کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دے کر، سرد مہری اختیار کئے رکھی تھی) یا پھر آپ عمران کے چاہنے والے،امریکہ کو جمہوریت ، انسانی حقوق اور سیاسی آزادی کا سب سے بڑا چیمپئن ہونے کا سرٹیفیکٹ جاری کر رہے ہیں۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اپنے مفاد کے سامنے نہ جمہوریت دیکھتا ہے، نہ انسانی حقوق اور نہ سیاسی آزادی۔ یہ سب دکھانے کی چیزیں ہیں ۔ عملاً اسکا لائحۂ عمل صرف کام نکالنا ہوتا ہے اور بس۔

میری اس توجیحہ پر کچھ سوچ میں پڑ گئے پھر پوچھا تو اس ساری صورتحال کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں ؟

میں نے کہا، بھولے بادشاہ،  یہ بات آپ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ دنیا دراصل بڑی طاقتوں کا ریسلنگ کا اکھاڑا ہے۔ یہاں نہ کوئی اصول ہوتا ہے نہ کوئی ضابطہ اور جیت کیلئے ہر حربہ جائز تصور کیا جاتا ہے

کہنے لگے چلیں یہ بات آپکی مان لیتا ہوں کہ ہم بھولے بادشاہ ہیں، تو ذرا آسان لفظوں میں سمجھائیں ناں

میں نے ان کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ دیکھو یہ بڑی طاقتیں اپنی جنگیں اپنے اپنے ملکوں سے باہر ، اپنی اپنی پراکسیز کے ذریعے لڑتی ہیں اور رگیدے جاتے ہیں دوسرے ممالک۔ یہی کچھ پاکستان میں بھی ہورہا ہے۔

تم یہ بات لکھ لو، کہ جب سے، عمران خان نے نواز شریف کے دور میں اسلام آباد میں دھرنا دیا،(جس کی وجہ سے چین کے صدر نے پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کیا)اور پھر  خان نےCPEC کے قرضوں کی شرائط پر سوالات اٹھائے۔ نہ صرف یہ، بلکہ اپنی حکومت کے دوران ، جس طرح CPEC پر عمل کی رفتار سست کروادی، اس وجہ سے چین نے عمران خان کی شخصیت پر ایک بہت بڑا سرخ نشان لگادیا ہے

اب آتے ہیں حالیہ امریکی سریع  پیش رفت کی وجہ پر۔

میرے خیال میں یہ امریکی رد عمل، وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ 3 روزہ چینی  دورہ ہے اور خیال رہے اس دورے میں جنرل عاصم منیر ، بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے

گویا وہاں جو فیصلے ہوئے اس میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت متفقہ طور پر شامل تھی۔ اب جبکہ CPEC ایک نئی توانائی سے انگڑائی لے رہا ہے تو امریکہ بہادر کو ہیر اور رانجھے کا یہ ملاپ پسند نہیں آیا لہٰذا اس نے چین کے سیاسی “کیدو” یعنی عمران خان کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ورنہ امریکہ کو، عمران خان کے سائفر لہرانے کے بعد محبت نہیں عداوت تھی۔

مطلب یہ کہ چین اور امریکی دنگل پاکستان میں سجایا جا رہا ہے اور ہم اپنی سادگی، اور عمرانی محبت میں اس دنگل کے پیادے بننے جارہے ہیں۔

لیکن ایک بات سمجھ لو، امریکہ اپنی سیاسی ، اقتصادی اور عسکری  ساکھ دن بدن کھوتا جا رہا ہے، لہٰذا عقلمند لوگ ہارتے ہوئے گھوڑے پر شرط نہیں لگایا کرتے

کیا سمجھے بھولے بادشاہ

جواباً وہ سر کھجاتے رہے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے