نکتہ داں- ۴۰
۱۴ جولائی ۲۰۲۴
سوشل میڈیا کے بھی کئی پہلو ہیں۔ واٹس ایپ ہو، فیس بک ہو یا ایکس۔ یہاں ، ہر قسم کا جھوٹ بدتہذیبی، غلط بیانی اور ہتک و بے عزتی بڑی وافر مقدار میں، بنا مانگے مل جاتی ہے۔
لیکن اسی سوشل میڈیا پر ،اگر بات مثبت انداز ، دلیل ، سلیقے اور احترام سے کی جائے تو چند ہی مکالموں کے بعد آپ کو ایسے ایسے ہیرے مل جائیں گے، کہ اگر وہ آپکی بات سے اتفاق نہ بھی کریں لیکن پھر بھی وہ آپکو اپنا گردیدہ بنا لیتے ہیں۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ ایسے محترم افراد کے اختلاف میں ، نہ سیاسی تعصب ہوتا ہے اور نہ جماعتی نفرت۔ وہ بات دل سے کرتے ہیں اور انکے اختلاف میں اگر دلیل نہ بھی ہو، لیکن پاکستان کا کرب ضرور جھلکتا ہے
اللٰہ رب العزت کا مجھ پر کرم ہے کہ واٹس پر مجھے ایسے کئی محبت کرنے والے دوست مل گئے ہیں کہ جن سے میں ملا بھی نہیں ہوں لیکن ان سے احترام اور شائستگی کا رشتہ اس طرح قائم ہو گیا ہے جس کو پانے کیلئے برسوں کی شناسائی درکار ہوا کرتی ہے۔
میرا ، ایک ایسے ہی مہربان دوست سے، پچھلے دنوں رؤف کلاسرا کے ایک سیاسی آرٹیکل کے تناظر میں مکالمہ ہوا جس میں ہم دونوں نے اپنی اپنی آرا کا تبادلہ کیا۔
میرے محترم بھائی کی بات میں پاکستان کی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی صورتحال کا درد تھا اور وہ اپنے کرب کا اظہار دل کی گہرائی سے کر رہے تھے
ان کی بات کا لب لباب یہ تھا کہ:
رؤف کلاسرا نے اپنے تجزئیے میں امریکی امداد کی خرابیوں کا تو ذکر کیا، لیکن ، وہ ہماری اپنی شاہ خرچیوں کا ذکر کرنا بھول گئے۔
ہم اربوں ڈالر خرچ کرکے، سیل فون اور دوسری اشیا،اور اپنی عیاشیوں کو پورا کرنے کیلئے افغانستان کے راستے درآمد کرتے ہیں۔
ہم ٹیکس دینا اپنی کمزوری کی علامت سمجھتے ہیں اور کچھ علاقوں میں بجلی مفت جبکہ دوسرے علاقے ساری بجلی کا نقصان زیادہ بل کی شکل میں پورا کرتے ہیں۔
غریب کی تذلیل ہوتی ہے اور امن و امان مذاق بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی صرف حکومت میں آنے کیلئے دکھاتی ہیں، حکومت ملنے کے بعد ، انکا رویہ ، وہی ڈھاک کے تین پات ۔
انکی تحریر ،اس بات کی متقاضی تھی کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مثبت کارکردگی دکھائیں ۔ لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ انھیں اس کیلئے عوام کیسے مجبور کریں، یہ سوال ہی انکی پریشانی کا سبب تھا۔ اور وہ مجھ سے یہی جاننا چاہتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہو۔
میں نے اپنے محترم بھائی کو جواباً کہا :
بہت اہم سوال ہے آپ کا !
میری رائے میں، اس کے لئے ضروری ہے کہ
۱-انتخاب میں کسی کو ہیرا پھیری کی اجازت نہ دی جائے اور اس کے لئے عوامی پریشر اتنا شدید ہو کہ ، کسی کو ہیرا پھیری کی جرات ہی نہ ہو سکے
۲-منتخب حکومت کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے اور پھر چکر بازی سے کسی وزیراعظم یا حکومت کو گھر نہ بھیجا جائے
اس سے ہوگا یہ کہ، سیاسی جماعتوں کی کارکردگی واضح ہوجائے گی اور کوئی بھی جماعت سیاسی شہید بن کر، لوگوں کی بے جا ، ہمدردی حاصل کرکے ، دوبارہ نہیں آسکے گی۔
اس طرح سیاسی جماعتوں میں، ایک مثبت مقابلہ ہو گا اور دوبارہ اقتدار میں آنے کیلئے، انھیں مسابقت اور کارکردگی دکھانی پڑے گی
اگر کوئی یہ نہ کرسکا تو، تانگہ پارٹی بن جائے گا۔ میں نے عرض کی کہ ،
یہ میں کوئی انوکھی بات نہیں بتا رہا، بلکہ دنیا میں جہاں بھی مستحکم جمہوری نظام چل رہا ہے، وہاں ترقی اسی بنا پر ہوتی ہے۔
میرے جواب پر محترم بولے کہ یہ سب ہوگا کس طرح ؟ اس کا حل بتائیں ۔
میں نے اپنی سوچ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ، میری، مثبت خیالی اور امید کی ، وجہ، پاکستان کی مایوس کن تاریخ ہی میں پنہاں ہے۔
ہم منفی باتوں کا ذکر تو شد و مد سے کرتے ہیں لیکن، جو مثبت پیش رفت ہم کر چکے ہیں وہ ہماری نظر سے اوجھل ہے
اگر آپ غور کریں تو :
ایک زمانہ وہ تھا، جب ایوب کے آنے پر لوگ خوش ہوئے تھے اور مٹھائیاں باٹیں تھیں
اور ایوب راج کے دوران جرنیلوں نے حکومت کرنا اپنا جائز حق سمجھ لیا تھا۔ اسی لئے ایوب کے بعد، یحییٰ ، ایوبی آئین کو روند کر حکومت پر قابض ہوا اور عوام الناس نے اس عمل کو ایک معمول کی کاروائی سمجھا۔
کسی نے یہ سوال شد و مد سے نہیں اٹھایا کہ ایک آئین کی موجودگی میں، کس طرح اقتدار پر قبضہ کیا گیا۔ بلکہ اس عیاش اور بد قماش شخص کو مذہبی جماعت کی تائید بھی حاصل ہوگئی تھی
آپکو وہ بیان ضرور یاد ہوگا جو ایک بظاہر بہت دیندار شخص نے دیا تھا کہ “ یحیٰی خان اسلامی آئین دینگے”
اس دور میں جرنیل “کرسی صدارت” اور “فوج کی کمان” دونوں اپنے ہاتھ میں رکھکر حکومت کیا کرتے تھے۔
لیکن پھر عوام اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ میں یحیٰی خان نے، نہ صرف انتخابات کا عندیہ دیا بلکہ ملک میں پہلی دفعہ ایک شخص ایک ووٹ کا اصول مان کر BD سسٹم کے تحت انتخابات کا طریقہ ختم کر دیا ۔ہماری جمہوری تاریخ میں ،یہ پہلی بہت بڑی کامیابی تھی۔
دوسری بڑی کامیابی انتخابات کروانے کی مجبوری ڈکٹیٹروں کا درد سر بنا دینا تھا ۔ کیونکہ اس سے پہلے، طریقہ یہ ہی تھا کہ کیسا انتخاب اور کونسا آئین۔ ہم آگئے ہیں اور بس۔
تیسری بہت بڑی کامیابی ، اس بے آئین ملک کو، (پوری قومی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر اور انکے مشوروں سے)،ایک متفقہ آئین دینا تھا
چوتھی بڑی کامیابی ، محمد خان جونیجو نے حاصل کی۔ جرنل ضیا کا تو پلان یہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کا بستر بوریا لپیٹ دیا جائے اور اگر عوامی دباؤ پر انتخاب کروانے کی مجبوری ہے بھی، تو غیر جماعتی انتخابات کروا کر خود صدارتی عہدے پر براجمان رہ کر حکومت کی جائے ۔
گو، محمدخان جونیجو ، پیرگاڑا کے مرید اور ضیا کی نظر میں ایک دھیمے مزاج کے شخص تھے لیکن، جونیجو نے غیر جماعتی منتخب اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں اعلان کیاکہ ملک میں جمہوریت اور مارشل لا ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔اس نے نہ صرف مارشل لا کے خاتمے کا اعلان کیا بلکہ ، ملکی میں طویل ایمرجینسی کا بھی خاتمہ کرکے سیاسی آزادی دی اور تمام سیاسی جماعتیں متحرک ہوئیں ۔
ضیا نے، اس نئی مصیبت کو اپنے بنائے ہوئے قانون 58 -2B کے ذریعے جھوٹے الزامات لگا کر پوری اسمبلی کو گھر بھیج دیا ۔
اس غلیظ قانون کا شکار کئی اسمبلیاں بنیں لیکن پھر پانچویں کامیابی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ملکر اس قانون کا خاتمہ کرکے حاصل کی۔
اب جرنیل اسمبلیاں تو نہیں توڑ سکتے تھے، ہاں اب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس حربے کا سب سے پہلا شکار یوسف رضا گیلانی بنے اور اس کام کو تکمیل میں ISI اور ISPR نے میڈیا کو استعمال کرکے جھوٹے،الزامات سے ماحول بنائے رکھا، جبکہ عدلیہ نے، جمہوریت اور سیاستدانوں کے خلاف، جرنیلوں کی سازشوں میں پہلی صف میں آکرساتھ دیا۔
لیکن اب چونکہ مشرف کے بعد ، جرنلوں کا داخلہ قصرصدارت میں ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا تھا،جو کہ میری دانست میں، یہ چھٹی بڑی کامیابی ہے
لہٰذا وہ جرنیل جو صدر بن کر ، بطور صدر ، خود ہی کو ، بطور آرمی چیف ، مدت میں توسیع دیدیا کرتے تھے ، لیکن اب مجبور ہو گئے ، کہ ناں اب مارشل لا لگا سکتے ہیں اور نہ ہی صدر بن سکتے ہیں لہٰذا اب ان کا ہدف اپنی مدت ملازمت میں توسیع رہ گیا ہے۔ اور جنرل راحیل شریف،جنرل باجوہ ،جنرل فیض اور اب جنرل عاصم منیر جو تماشے کر رہے ہیں وہ محض اپنی ملازمت میں توسیع کیلئے کر رہے ہیں۔
اب اگر آج، تمام سیاسی جماعتیں بشمول PTI,متفق ہوکر آئینی ترمیم کردیں کہ:
۱- وزیر اعظم ، آرمی چیف، محض سنیارٹی پر کرے گا
۲- آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر آئینی طور پر ہمیشہ سے پابندی آید کردی جائے
۳- ISI کا سربراہ ، حاضر سروس جرنل نہیں ہوسکتا اور ISI کےادارے کے تمام افراد کا دوبارہ آرمی میں جانے کا دروازہ بند ہوگا۔ اگر فوج سے آئے ہیں تو فوج کی نوکری ختم ۔ اور آئندہ ریٹائرمنٹ تک ISI ہی میں رہیں گے،ورنہ گھر جائیں ۔ فوج دوبارہ نہیں جوائن کر سکتے
اگر ہماری سیاسی قیادت یہ کام کرلے تو سیاسی استحکام بھی آجائے گا معاشی استحکام بھی
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی