NUKTADAAN

Reading: ‏۴۵۔ وہ ہیرے لوگ
Reading: ‏۴۵۔ وہ ہیرے لوگ

‏۴۵۔ وہ ہیرے لوگ

admin
6 Min Read

نکتہ داں- ۴۵

۲۰ جولائی ۲۰۲۴

وہ ہیرے لوگ

آپ کو یاد ہوگا، کہ چند سال پہلے، ISPR کے ترجمان، میجر جرنل آصف غفور ہر دوسرے دن پریس کانفرنسیں کر کر کے، حکومت اور عوام کو بھاشن دے کر رعب جمایا کرتے تھے۔

ان سے پہلے مشرف کے دور میں ISPR کی ترجمانی میجر جرنل عاصم سلیم باجوہ بھی، اسی کام پر مامور تھے

ان دونوں کو انکے اس کام کے انعام میں ، نہ صرف ۳ سٹار جنرل بنایا گیا بلکہ ، کور کمانڈروں کی پیسہ بنانے کی جنت، یعنی  بلوچستان کا کور کمانڈر بنادیا گیا۔ اور کون نہیں جانتا کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے بلوچستان کا کور کمانڈر بننے ، کراچی کا رینجرز کا چیف یا کم از کم سندھ کا کورکمانڈر بننے کی خواہش ہر جنرل کے دل میں چلملاتی رہتی ہے۔

اسی تعیناتی کے طفیل عاصم سلیم باجوہ کے امریکہ میں ۱۰۰ سے زیادہ  پیزا کی دکانیں اور کئی دوسرے کاروبار سامنے آچکے ہیں اور جن کے منظر عام آنے پر اس وقت کے وزیراعظم عمران خان ، جنکی پوری سیاست ہی کرپشن کے خلاف نعرے پر قائم ہے، نے

کوئی تحقیق کئے بغیر، عاصم سلیم کو بری الذمہ ٹہرایا تھا۔

جنرل آصف غفور کی کرپشن کا حال مولانا ہدایت اللہ امیر جماعت اسلامی گوادر سے پوچھیں !

بہرحال ، اس رعب بازی کا رد عمل الٹا پڑتا دیکھ کر، ہماری جرنل جنتا نے اپنی پالیسی تبدیل کردی۔

اب اگر کوئی پیغام ، کوئی دھمکی یا کوئی وضاحت کرنی ہو تو ملک کے مختلف صحافیوں کے ذریعے رعب دارانہ  پیغامات نشر کروائے جاتے ہیں۔

اس نئے انتظام کے تحت ، کبھی جاوید چودھری کا باجوہ کے ساتھ انٹرویو منظر عام پر آتا ہے، کبھی کامران خان یہ خدمت انجام دیتے نظر آتے ہیں، کبھی منصور علی خان، منیب فاروقی  یا کامران شاہد اپنی ملاقاتوں کا حال سنا سنا کر جرنیلوں کے مقابلے میں عوام کی تحقیر کا سبب بنتے رہتے ہیں یا کبھی مجیب الرحمٰن شامی ، جہانزیب خانزادہ کے پروگرام میں، شادی کی تقریب میں باجوہ سے ملاقات کا حال سنا کر، لوگوں کو مرعوب کرتے ہیں۔

اب حالیہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے پر، جرنیل اپنی تلملاہٹ کو نہیں چھپا سکے۔ اور اس دفعہ ، منیب فاروقی کو پیغام رسانی کیلئے چنا گیا۔ محترم،  بڑی دیدہ دلیری سے، جرنیلی ارادوں کو بنا کم و کاست ، بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نہ تو سپریم کورٹ ، نہ ہی قانون اور عوامی رائے ، کسی کا بھی  جرنیلوں کی نظر میں کوئی وزن نہیں اور کچھ بھی ہوجائے، PTI کے ممبران کو مختص سیٹوں پر براجمان ہوکر، PTI کو پارلیمنٹ کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی نہیں بننے دیا جائے گا۔ اور اب بات سیاست کی نہیں، بلکہ ملکی سالمیت کا سوال ہے۔

آپکو یاد ہوگا کہ محترمہ فاطمہ جناح بھی ملکی سالمیت کیلئے خطرہ کہی گئیں تھیں، کمیونسٹ پارٹی ، باچہ خان اور انکی پارٹی، بلوچستان کے حقوق مانگنے والے، سندھ کے حقوق کی بات کرنے والے لیڈران، اور بینظیر شہید بھی سکیورٹی رسک گردانی جاچکی ہیں ۔پاکستان کے شمالی علاقوں کی پختون پٹی بھی غداروں کی آماجگاہ ٹہرائی گئی ہے ۔ اور اب عمران خان اور اسکی جماعت بھی۔  غرضیکہ  جو بھی فوج کے سیاست سے باز آنے کی بات کرے گا، وہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ٹہرایا جائے گا۔

ان عقل سے پیدل جرنیلوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ اب عوام میں قومی سلامتی کا چورن نہیں بکے گا۔

وقت بدل گیا ہے، لیکن کسی طرف سے کوئی دانشمندانہ عمل، کوئی مفاہمانہ رویہ اور کوئی سمجھداری کی بات ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ قصور وار سب ہیں ، حکومت بھی، اسکے اتحادی بھی، جرنیل بھی اور عمران خان اور اسکے چاہنے والے بھی۔

مجھے اس وقت مرحوم نوابزادہ نصراللٰہ خان بہت یاد آرہے ہیں۔ ایسی ہیرا شخصیت ، جسے ہمارے عوام نے وہ عزت نہ دی جسکے وہ حقدار تھے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کے تمام مشکل مقامات پر، انکی شخصیت، ہمیشہ حالات کے بھنور سے مفاہمت کے چپو چلاکر ، پاکستان کی سیاسی کشتی کو ڈوبنے سے بچانے میں کامیاب رہے۔

آج، جب جرنیل ایک ایک کرکے اپنے تمام معاون اعضا سے محروم ہوتے جارہے ہیں، اور آج ہی،  الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمل کرنے کے اعلان سے ، جرنیلوں کا ایک اور اہم بازو کٹ سا گیا ہے، مجھے حالات میں دوسری بڑی تبدیلی میڈیا میں نظر آنے لگی ہے۔ میری سیاسی سوجھ بوجھ، آئندہ آنے والے دنوں میں میڈیا کو بھی جرنیلی چنگل سے آزاد ہوتا ہوا دیکھ رہی ہے۔ جب وہاں ہوا تبدیل ہوگی تو پھر جرنیلوں کو جائے پناہ نہیں ملے گی

 واللٰہ اعلم بالصواب

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے