نکتہ داں۔۵۳
۱۰ اگست ۲۰۲۴
کیڑے جو ہمیں بچپن سے کاٹتے رہے
اپنی عمر کے پہلے پچپن سال تک ہمارے اندر کئی کیڑے تھے۔ ان میں ایک کیڑا تھا جو کہتا تھا کہ اس ملک میں ایک ہی ادارہ ہے جو ٹھیک چل رہا ہے۔مگر جب ہم اپنی اپنی کھٹولی سے باہر نکلے اور اندرون و بیرون ممالک کے سفر کئے تو معلوم ہوا کہ اس ملک میں ایک ہی ادارہ ہے جو کسی بھی ادارے کو چلنے نہیں دیتا۔
ایک کیڑا ایسا تھا جو کہتا تھا کہ اس ملک کی آبادی کا ساٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہی افرادی قوت اس ملک کا سرمایہ ہے۔پھر معلوم ہوا کہ 1990 اور 2000 کی دہائی میں پیدا ہونے والی اس نسل کا کتابوں سے کوئی واسطہ نہیں، تاریخ سے آشنائی نہیں اور ساری نسل پروپیگنڈا وار کی “خالی خولی” مجاہد ہے۔اسے ہر اختلاف پر گالی یا مار پٹائی سکھائی گئی ہے، یہ سرمایہ نہیں رہا بلکہ ذہنی ارتقا کی دلدل بن گیا ہے۔
ایک کیڑا تھا جو ہر دم کاٹتا تھا کہ گوادر، پاکستانی خزانے کی کنجی، بلوچستان سونے کی کان، تھر کوئلے کا کوہ ہمالیہ، چنیوٹ لوہے کا عظیم خزانہ، شمال میں زمرد کے پہاڑ، جنوب میں گیس کے ذخائر، مشرق میں اجناس کا وافر ڈھیر اور مغرب میں تیل ہی تیل ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ دراصل یہ کہانیاں ، ہمیں احمق سمجھتے ہوئے سنائیں گئیں تھیں۔
ایک کیڑا تھا جس کے مطابق مارشل لاء حکومت کرپٹ نہیں ہوتی بلکہ ملک کی ترقی کا ضامن ہوتی ہے۔ ایوبی ،یحیائی ،ضیائی اور ُمشرفیِ ترقی کی مثالیں سن کر انگلیاں دانتوں میں داب لیتے تھے اور سیاستدانوں کو دن رات گالیاں دے کر سو جاتے تھے۔ پھر دھیرے دھیرے انکشاف ہوا کہ مملکت کے کُل رقبے کا چالیس فیصد تو اسی عسکریتی ترقی نے اپنے پاس رہن رکھا ہے۔
اور ایک کیڑا، تو ایسا تھا کہ جس کی دم جگنو کی مانند چمکتی رہتی تھی۔اس کیڑے نے ہمیں بتایا تھا کہ ملک اسلام کا قلعہ ہے۔ ایٹمی قوت کی بدولت عالم اسلام میں ہماری بہت عزت ہے۔ دوست ممالک ہر دم ہمارے ناز اٹھاتے ہیں۔ ہم امت مسلمہ کے ہاتھوں کا چھالا ہیں۔ پھر عقدہ کھُلا کہ ہم صرف و صرف عرب و عجم کے بخشو ہیں۔
ایک کیڑے کا سینہ پھُولا رہتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ صرف بھارت ہی دشمن ہے، باقی ہمسائیوں سے تو جینے مرنے کا رشتہ ہے۔ پھر پتہ چلا کہ سوائے سمندر کے کوئی ہمسائیہ دوست نہیں اور رضیہ غنڈوں میں گھِری ہوئی ہے۔
اور ایک کیڑے نے ہمارا یقین ، ایمان کی حد تک مضبوط کیا ہوا تھا، کہ اگر ہم رات کو آرام کی نیند سوتے ہیں، تو اس وجہ سے کہ ہمارے سکیورٹی کے ادارے اپنی جان پر کھیل کر ہماری حفاظت کرتے ہیں، لیکن برا ہو، فلسطین میں حماس کے مجاہدوں کا، کہ جن کی وجہ سے یہ بات سمجھ میں آئی، کہ یہ ادارہ ہماری نہیں بس اپنی اور اپنے زعما کی سکیورٹی کرتا ہے اور بس ۔ وقت پڑنے پر اپنی جان بچانے کیلئے چند دن میں ہی، ہتھیار ڈال دیتا ہے، حماس کی طرح مہینوں، استقامت سے نہیں لڑسکتا۔
صاحبو، یہ سارے کیڑے مارنے میں وقت لگا تھا۔ اب سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کوئی بائیس پچیس سالہ نوجوان فرطِ جذبات میں اپنے سیاسی نظرئیے،ادارہ جاتی اُلفت یا اپنے مولوی کی حمایت میں اُبھر کر سامنے آ کر ناچنے لگتا ہے تو وہ اپنی عمر، تجربے اور مطالعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہوتا ہے۔ اس کے کیڑے مرتے مرتے، وقت لگے گا اور جس دن کیڑے مر جائیں گے اس دن اصل ترقی کا سفر شروع ہوگا۔
اس لیے کہنا یہ ہے کہ آپ میں سے جو جو جہاں جہاں لگا ہوا ہے لگا رہے۔ یہ ارتقاء کا پراسس ہے۔شعور خود ہی اپنا راستہ طے کرتے منزل پاتا ہے۔
آج جو آپکو اوتار نظر آرہے ہیں ہو سکتا ہے کل وہ بونے لگنے لگیں اور سیاستدان ، شاید اتنے بھی برے نہ ہوں جیسا بتایا جاتا رہا ہے
خالد قاضی