NUKTADAAN

Reading: ‏۵۴۔ میرے خالہ زاد بھائی خلیل مغل
Reading: ‏۵۴۔ میرے خالہ زاد بھائی خلیل مغل

‏۵۴۔ میرے خالہ زاد بھائی خلیل مغل

admin
3 Min Read

نکتہ داں -۵۴

۶ اگست ۲۰۲۴

صبح ہوتے ہی پہلی نظر میرے خالہ زاد بھائی خلیل مغل کی بھیجی ہوئی  وڈیو پر پڑی جس میں ہماری نئی نسل کو پاکستان کا یوم آزادی منانے کی بے ہنگم تیاری کرتے دکھایا گیا تھا

انکے تبصرے کا خلاصہ یہ ہے کہ :

*ہمارا قومی نقطہ نظر کیا ہے*

یقیناً ہم سب پاکستان کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن کیا ہمارا عمل بھی کامیابی کی منزل کی طرف رواں ہے؟ یقیناً نہیں !

کامیابی تو دور کی بات ہے، ہم تو کامیابی کی سمت سے بھی نا بلد ہیں۔

اگر ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی، تو نسل در نسل،  گھڑی کے پینڈولم کی طرح، اپنے محدود دائرے  میں جھولتے رہیں گے، اورکبھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔اپنے قومی تشخص اور کامیابیوں پر فخر کرنا درست ، لیکن اصل کامیابی کی منزل  سے نابلد یہ قوم ، محض ہلّے گلّے ہی میں مسرور ہے۔

بے شک پوری قوم کو جشن آزادی منانا چاہئے لیکن محض ماضی کے ذکر اور غل غپاڑا کرنے سے نہیں بلکہ ہماری خوشی بھی اس انداز کی ہو کہ اسے ملک کو سنوارنے کا عنوان بنادیا جائے۔

کیا ہم، اپنے خوابوں کی تعبیر،  ماضی کے دلپزیر ذکر سے ہی حاصل کر پائیں گے یا ہمیں عملی  دنیا میں پیر رکھکر کوئی (Road Map) لائحۂ عمل بنانے کی بھی ضرورت ہے ؟

ہمارا حال تو یہ ہے، کہ اگر کسی سنجیدہ مسئلے پر بات کی جائے، یا ہماری قومی خرابیوں کی وجہ اور ان کے تدارک کی تجاویز کی طرف اشارہ ہی کیا جائے تو یار لوگ کہتے ہیں کہ تم امریکہ میں بیٹھ کر ہلکان مت ہو، ہم جانیں ہمارا کام جانے۔ تم امریکی ایجنڈا پھیلا رہے ہو، اس سے باز آجاؤ !

ہم ملک میں جاری سیاسی کشتی کے ایسے تماشبین ہیں، کہ جب ہمارا پسندیدہ پہلوان اپنے مخالف کی آنکھوں میں انگلیاں گھسیڑے تو ہم بغلیں بجاتے ہیں اور جب ہمارا مخالف پہلوان، ہمارے پہلوان کو اچھل کر دو لتّی جڑدے، تو ہمیں یہ عمل ،حق و باطل کے معرکے میں کفر کی ریشہ دوانی لگنے لگتی ہے۔ اور ہمارے بعض تماش بین ، ایمپائر کی انگلی کو، حکم خداوندی کے درجے پر رکھتے ہوئے، اسکی انگلی پر اعتراض کرنے والے کو، ملک دشمن کے فتوے سے نواز کر، اپنی حب الوطنی پر پھولے سمانے لگتے ہیں۔

ہمارے معیارات کیا ہونے چاہئیں، یہ بات، زیر نظر معاملے کو دیکھنے کے بعد طے کی جاتی ہے ۔ ہم اپنی ناکامیوں کو بھی کامیابیوں کے زمرے میں ڈالنے کے ماہر ہیں اور اپنے مخالف کی کامیابیوں پر بھی تمسخر اڑانا کوئی ہم سے سیکھے۔ سوشل میڈیا ہمارے اس ذوق کی آبیاری اور ہمارے جنون کو تسکین پہنچا نے کا بہترین ذریعہ ہے

کیا ہم اس نشے کی لت سے نکل پائیں گے ؟

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے