NUKTADAAN

Reading: ‏۵۵۔ جان سے دینے سے، جان لینے تک کا سفر
Reading: ‏۵۵۔ جان سے دینے سے، جان لینے تک کا سفر

‏۵۵۔ جان سے دینے سے، جان لینے تک کا سفر

admin
8 Min Read

*نکتہ داں*- ۵۵

۱۰ اگست ۲۰۲۴

“جان سے دینے سے، جان لینے تک کا سفر ”

 میرے ایک، جاننے والے  کراچی میں اپنا اسپتال بہت عمدگی سے چلا رہے تھے۔ انکا، ایک بیوی اور چار بچوں پر مشتمل خاندان  (۲ بیٹے ۲ بیٹیاں) ایک خوش وخرم گھرانا تھا۔ ہر چیز قابل رشک تھی۔ لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے ہی اسپتال کی ایک نرس کو دل دے بیٹھے۔ انکی بیگم، ایک رئیس باپ کی بیٹی تھیں اسی لئے اسے  “میں” کا عنصر ،خاندانی میراث کے طور پر ملا تھا اور یہی بات ان کے بچوں میں بھی ماں کی تربیت کی وجہ سے پڑ چکی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بیوی اور بچے جو اپنے گھر کے سربراہ سے بے انتہا  پیار کرتے تھے اس معاملے کو دانشمندی سے حل کرنے کے بجائے اس معاملے کو  اپنی  انا کا مسئلہ بنا بیٹھے ۔ نتیجتاً معاملہ کورٹ کچہری تک جا پہنچا۔ وہی رشتے جو ایک دوسرے کا سہارا بنا کرتے تھے، ایک دوسرے پر جان چھڑکا کرتے تھے،  کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ گئے

میں جب بھی اس خاندان کا ذکر سنتا ہوں تو سوائے تاسف کے، اور کچھ نہیں کر پاتا ۔

عوام اور لیڈر کا رشتہ بھی کچے دھاگے سے بندھا ہوا کرتا ہے۔

شیخ مجیب الرحمٰن، گو زمانہ طالبعلمی ہی سے سیاست کے میدان کے ایک شہسوار رہے تھے لیکن، انھیں عوامی پزیرائی ۱۹۶۴ سے ملنی شروع ہوئی۔ اور اس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ وہ مشرقی پاکستان کے عوام کے حقیقی ترجمان اور بنگالی بھائیوں کی آواز بن کر ابھرے ۔انکے اور مشرقی بنگال کے عوام  کی محبت کا یہ عالم تھا کہ انکے حکم پر ، ہزاروں لوگ جان قربان کرنے کیلئے تیار رہا کرتے  تھے۔

قصہ مختصر یوں کہ شیخ مجیب، بابائے قوم کہلائے اور بنگلہ دیش کو آزادی دلا کر ایک بے تاج بادشاہ کے رتبے پر پہنچ گئے۔ یہیں سے رشتوں میں دراڑ پڑ نی شروع ہوئی۔ جب مطلق  العنانی آجائے تو عوام اور رہنما کا رشتہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جایا کرتا ہے اور چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ وہی قوم جو اپنے بابائے قوم کے حکم پر جان دینے کو تیار رہتی تھی، وہی اسکے مجسمے پر جوتے برسا رہی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کا کوئی کتنا مخالف کیوں نہ ہو، یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان کے غریب، مزدور، کسان ، محنت کش اور طالبعلم کو سیاست کے میدان میں فعال کرنے ، اور سیاسی شعور بیدار کرنے کا سہرا ان ہی کے سر جاتا ہے، لیکن جب عنان حکومت انھیں ملا، تو جس جمہوریت کی خواہش عوام میں وہ پیدا کر چکے تھے، اس ہی  کے متضاد اقدامات ، وہ کرتے رہے۔ انکی حکومت کا تمام عرصہ DPR (ڈفینس آف پاکستان رول) اور ایمرجینسی کی چھتری کے زیر سایہ رہی۔ سیاسی مخالفین اور اپنی ہی پارٹی کے معتبر  لیڈروں کو محض اختلاف کی وجہ سے جبر کا نشانہ بنایا ۔ فوجی آپریشن کرکے دوصوبوں کے عوام کو اپنے خلاف کردیا ، اور میڈیا کی آواز  کو بھی دبائے رکھا۔ اور ان ہی اقدامات کی وجہ سے پاکستان ، عالم اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک  کیلئے انکی ناقابل انکار ، کاوشوں کو دھندلا دیا۔ حالانکہ ، فوج اورمغربی  پاکستان کے دس ہزار مربع میل علاقے کو ہندوستان سے آزاد کروانا، متفقہ آئین، قادیانی مسئلہ، ڈیفینس انڈسٹری کا قیام، اسٹیل مل، بن قاسم ، شناختی کارڈ کا اجرا ، عالم اسلام کی لیڈرشپ کو یکجا کرنا اور ایٹمی پروگرام کی ابتدا ایسے کارنامے ہیں جنکا کوئی کٹر سے کٹر مخالف بھی انکار نہیں کرسکتا اور یہ کام محض چار،ساڑھے چار سال میں کئے۔

لیکن ، عوام کا مزاج شاہانہ ہوا کرتا ہے، اسے پیار سے تو اسیر کیا جاسکتا ہے جبر سے ہرگز نہیں۔

میں ہر وقت اس بات سےمحضوظ ہوا کرتا ہوں کہ بھٹو کے کارناموں پر نظر رکھنے والے( اسکے مرنے کے بعد بھی )اسکی کوتاہیوں کو یکسر بھلا کر اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں اور بھٹو کے مخالفین اس کے سارے کارناموں کو  بھلا کر، اس کے غلط کاموں کی تشہیر کرکر کے پریشان ہوتے ہیں کہ یہ بندہ مرنے کے بعد بھی مرتا کیوں نہیں  ؟

ہمارے، سیاسی لوگ یہ بات کب سمجھیں گے کہ اپنے مخالفوں کو جبر سے کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر انھیں ختم کرنا ہو تو انھیں آزاد چھوڑ دو، یہ اپنا گڑھا اپنی حرکتوں سے خود کھودیں گے

اسکی کئی مثالیں دی جاسکتیں ہیں

ضیا الحق PPP کو جبر سے نہیں ختم کرسکا، اس پارٹی میں کمزوری اپنی کوتاہیوں سے پیدا ہوئی ہے

جماعت اسلامی پر جب تک جبر کیا جاتا رہا، ایوب اور بھٹو کے زمانے میں، وہ ایک مضبوط سیاسی قوت بنی رہی ۔ لیکن بےنظیر ، نواز شریف ، زرداری دور میں جماعت اسلامی کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا اور نتیجہ آپکے سامنے ہے کہ یہ جماعت اسمبلیوں میں برائے نام بھی نظر نہیں آتی۔ عوامی نیشنل پارٹی نے  بھی حکومت ملنے کے بعد اپنی سیاسی افادیت کھودی۔

نواز شریف کا معاملہ بھی کافی دلچسپ ہے۔

انسانی زندگی کی مثال  ن لیگ پر صادق آتی ہے

جب انسان اس د نیا میں نوزائیدہ بچے کی شکل میں آتا ہے تو وہ اپنے ہر کام کیلئے اپنی ماں اور بڑوں کا  محتاج ہوتا ہے اسکی محتاجی کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر،  وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے حواس ،  اپنی طاقت اور اپنے علم کو مضبوط سے مضبوط کر کر کے،  ایک ناقابل تسخیر شخصیت بن جاتا ہے۔ لیکن پھر وقت ایک سا نہیں رہتا۔ عمر کے تقاضے اپنے ہوا کرتے ہیں۔ وقت اور عمر  ، بڑے بڑے شہسواروں کو، دو قدم چلنے کیلئے لاٹھی کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا کرتی ہے

یہی نواز شریف کی کہانی بھی ہے۔

وہ سیاسی بچہ جو بولنے سے بھی قاصر تھا، اور جس میں اپنا سیاسی وجود بنا مدد کے قائم رکھنے کی سکت نہیں تھی، اسے ضیا کی گود میں پرورش ملی اور آہستہ آہستہ وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے ایک سیاسی حقیقت بن کر ابھرا۔ لیکن وائے ناکامی، کہ وقت بڑا ظالم ہوتا ہے ۔اور چشم فلک اس سیاسی نوزائید کو جو فوج کی مدد کے بنا ، سیاسی طور پر کھڑے ہونے کی سکت سے قاصر تھا،آج دوبارہ اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کیلئے فوج کی مدد سے کے بغیر کھڑا ہونے سے قاصر نظرآتا ہے

یہ مناظر دنیا کی بے ثباتی کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے