NUKTADAAN

Reading: ‏۵۶۔ تطہیر کا عمل یا اندرکے نظام کی مرمت سازی
Reading: ‏۵۶۔ تطہیر کا عمل یا اندرکے نظام کی مرمت سازی

‏۵۶۔ تطہیر کا عمل یا اندرکے نظام کی مرمت سازی

admin
7 Min Read

نکتہ داں- ۵۶

۱۲ اگست ۲۰۲۴

تطہیر کا عمل یا اندرکے نظام کی مرمت سازی

صبح سویرے ہی یہ دھماکہ خیز خبر، نظر سے گزری کہ ISI کے سابق چیف  ، پشاور کے کور کمانڈر، ۳ سٹار جرنل اور ماضی میں، پاکستان آرمی کے متوقع سربراہ، جنرل فیض حمید کو آرمی نے گرفتار کرکے انکے خلاف کورٹ مارشل کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ISPR کے بقُول یہ اقدام سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اور ادارہ جاتی تحقیق کے بعد کیا گیا ہے۔

جنرل فیض حمید پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے اختیار کو غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہوئے، اپنے ذاتی فائدے کیلئے، ایک ہاؤسنگ اسکیم کے دو کرداروں کے درمیان کاروباری اختلاف سے فائدہ اٹھا کر، نہ صرف ہاؤسنگ سکیم کے دفتر پر حملہ کیا ، بلکہ کاغذات نقدی اور سونا بھی اٹھا کر لے گئے۔ یہ کام انھوں نے بحیثیت ISI چیف ، اپنے ماتحت عملے سے کروایا۔

میرے خیال میں، اس خبر کے اندر کئی خبریں پوشیدہ ہیں، جن پر  سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

جنرل فیض حمید، فوج کے کوئی معمولی افسر نہیں تھے بلکہ ، (اپنے سیاسی شریک، عمران خان کے ایما پر)، پاکستان کی فوج کے *متوقع* سپہ سالار بھی تھے۔ وہ پاکستان کی سب سے بڑی انٹیلیجنس ایجنسی کی سربراہی کر چکے تھے اور جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے وقت ، کور کمانڈر پشاور کے عہدے پر فائز  تھے۔

ان کا عرصہ ملازمت ابھی باقی تھا، لیکن جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بن جانے کے بعد، انھوں نے حفظ ما تقدم ، از خود استعفیٰ دیدیا تھا۔

کیا یہ تمام واقعات ، ہمارے لئے (ایک  پاکستانی ہونے کے ناطے)،  باعث اطمنیان ہیں یا یہ فوج کے مقدس ادارے کے اندر۔  کسی بہت بڑی پوشیدہ خرابی کی نشاندہی کر رہے ہیں ؟

ہم کب تک شتر مرغ کی طرح اپنا سر ، ریت کے اندر دبا کر آنکھیں  بند کئے رکھیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جرم کی حقیقی وجہ پر توجہ دیکر ، اس کا سدباب کیا جائے۔

میں اس پورے منظر نامے پر نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نتیجے پر پہنچا ہوں

ایوب خان کے زمان ہی سے ،عام  فوجی افسران کو عموماً، اور فوج کے اعلٰی عہدوں پر فائض جرنیلوں کو خصوصاً،  ملک کے قانون اور آئین سے بالا بنا دیا گیا تھا۔ انکے بڑے سے بڑے جرم یا صریح  قانون و آئین شکنی کے باوجود، فوج کے ادارے کی طرف سے  انکے پروٹوکول،  عزت و توقیر اور فوجی اعزازات کو برقرار رکھا گیا۔ بڑے سے بڑے جرم کرنے کے باوجود،  جرنیلوں کے  انتقال پر ، انھیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جاتا رہا ہے۔ میری یہ بات ہماری تاریخ  میں ایسی کئی مثالوں سے واضح ہوجاتی ہے

جرنل یحیٰی خان، جرنل پرویز مشرف ، جنرل عاصم سلیم باجوہ، اور جرنل جاوید قمر باجوہ کی  مثالیں تو زبان زد عام ہیں۔

اگر آپ کو یاد ہو، بلوچستان میں مشرف کے زمانے میں شورش کی ابتدا، بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی میں ڈاکٹر کی ڈیوٹی کے فرائض انجام  دینے والی لیڈی ڈاکٹر کی ایک میجر کے ہاتھوں بے حرمتی سے شروع ہوئی۔ جنرل مشرف نے بغیر کسی تحقیق کے میجر کو کلین چٹ دیدی تھی   محض اس لئے کہ اسکا تعلق فوج سے تھا۔حمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، یحییٰ نہ صرف غاصب تھا بلکہ ملک توڑنے کا ذمہ دار بھی۔ جبکہ جنرل پرویز مشرف بھی  آئین شکنی کے ایک نہیں دو دفعہ مجرم ٹہرائے گئے تھے،

جنرل عاصم سلیم باجوہ، بطور کور کمانڈر بلوچستان ، مالی بد عنوانی کے ذریعے، امریکہ میں  نہ صرف سو سے زیادہ پیزا چین کے اسٹور بنانے کے ثبوت تھے بلکہ کئی تجارتی کمپنیاں بھی انکی فیملی کی ملکیت ثابت ہوئیں۔

اسی طرح، پاکستان کے امریکہ میں مقیم صحافی احمد نورانی نے ، جنرل جاوید قمر باجوہ کے چھ سالہ دور میں انکے اور انکی فیملی کے اثاثوں میں بارہ ارب روپئے سے زائد کی تفصیل ثبوتوں کے ساتھ طشت از بام کئے۔

لیکن مندرجہ ذیل واقعات  فوج کے ادارے کی روش کی عکاسی کرتے ہیں۔

یحیٰی اور مشرف کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔

مشرف نے ایک مجرم میجر کو بچانے کیلئے بلوچستان میں یورش پیدا ہونے کی پرواہ نہیں کی۔

عمران خان نے بطور وزیر اعظم ، جنرل عاصم سلیم باجوہ کو بنا کسی تحقیق کے بد عنوانی کے الزامات سے بری الزمہ قرار دیا۔ اور جنرل جاوید قمر باجوہ کی بدعنوانی کا تحفہ، جنرل عاصم منیر نے، انھیں فوجی تقریب میں اپنے برابر کی نشست فراہم کرکے یہ خاموش پیغام دیا کہ ایک جرنل عہدے پر تو فرعون ہوتا ہی ہے لیکن عہدے سے سبکدوشی کے بعد وہ وقت کے فرعون کی پناہ میں آجاتا ہے۔

اس لئے کسی کو انکی طرف نظر اٹھاکر دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی

اس پس منظر میں، موجودہ خبر ، سوچ کے کئی باب وا کرتی ہے۔

میرے اندازوں  کے مطابق، اس اقدام کی وجہ، فوج کے ادارے سے بد عنوان عناصر کی تطہیر  کرنا نہیں ہے  بلکہ بد عنوانی کے نام پر ، فوج میں موجود، عمرانی عناصر کی بیخ کنی کرنا ہے۔

اگر بد عنوانی کا خاتمہ ہی غرض ہوتا تو بد عنوان  جنرل عاصم سلیم باجوہ اور جاوید قمر باجوہ کے خلاف تحقیق کرکے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا گیا ؟

لیکن اس اقدام کا، ایک  مثبت پہلو یہ ہے، کہ جنرل فیض حمید کے خلاف اقدام سے، آئندہ ماتحت اہلکار اپنے جرنیلوں کے غیر قانونی حکم بجا لانے سے پہلے، کئی دفعہ ضرور سوچیں گے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے