نکتہ داں – ۵۷
۱۴ اگست ۲۰۲۴
یوم آزادی
آج سے ۷۸ سال قبل، جو ملک، اس کرہ ارض پر نمودار ہوا، اس کی منزل ، یہ تو نہیں تھی جہاں ہم آج کھڑے ہیں۔
ہمارے آبا اجداد ، ہمارے رہنماؤں اور ہمارے دانشوروں نے، اس ملک کو حاصل کرنے کی جدوجہد، جس مقصد، جس امید اور جس ارادے سے کی تھی، اس منزل کا نشان تو کہیں کھو گیا ہے۔
اگر ہم اپنے ماضی کی کارکردگی پر نظر دوڑائیں تو نظر یہ آئے گا کہ اسکے وجود میں آنے کے صرف چوتھائی صدی بعد ہی ، اس کا نصف حصہ اس سے جدا ہوگیا۔ اور باقی نصف بھی کچھ اس طرح کی حالت میں ہے، کہ، اس نے اپنی توانائیاں ، اپنی معاشرت ، اپنا معاش اور اپنے خارجی معاملات، سب ، غیروں کے ماتحت کر لئے ہیں۔
کیا اس قوم میں صلاحیت کی کمی ہے ؟، کیا یہ عزم اور ارادے کی قوت نہیں رکھتی ؟، کیا اس میں شعور اور آگہی ناپید ہے ؟
یقیناً ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ تو پھر ایسا کیا ہوا، کونسی غلطی سرزد ہوئی، کس راہ سے بھٹکے، کہ آج ہم ترقی پزیر تو کیا، ہمیں اپنے وجود ہی کو قائم رکھنے کی فکر لاحق رہتی ہے ۔
اگر ہم اپنی ناکامی کی وجہ کا کھوج لگانے کا ارادہ کریں ، تو سب سے پہلے ، ہمیں اپنا موازنہ دنیا کی قابل رشک ملکوں کے حالات سے کرنا ہوگا۔
دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملک ، اپنے معاملات، اپنا نظام حکومت، اور اپنے اداروں میں نظم اور اپنے اداروں کے درمیان روابط ایک مربوط اور طے شدہ طریقے کے مطابق ادا کرتے ہیں اور یہ سب آئین پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
جبکہ ہمارا متفقہ آئین ، ہمارے وجود میں آنے کے چوتھائی صدی بعد ، ملک کے دو لخت ہوجانے کے بعد بنا ۔ اور اس آئین کو بھی متعدد بار توڑا گیا ۔
وہ لوگ جو ۱۳ اگست ۱۹۴۷ کی رات ۱۱ بج کر ۵۹ منٹ اور ۵۹ سیکنڈ تک، تاج برطانیہ کے تابعدار تھے وہ ملک بننے کے بعد ملک کے سیاہ سفید کے مالک بن بیٹھے۔
ہماری ناکامیوں کی ابتدا ، ہمارے وجود میں آتے ہی شروع ہوگئی تھیں۔
ملک بننے کے بعد ، ہجرت کے دوران، جو قتل و غارت گری ہوئی اس کے ذمہ دار ہم خود تھے۔
کوئی مجھے یہ بتائے، کہ ہندوستان کے دور دراز علاقوں مثلاً مدھیا پردیش، مہاراشٹر، حیدرآباد دکن، آندھرا پردیش، بہار اور بنگلور سے، جنکا فاصلہ پاکستان کی سرحد سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، مسلمان جوق در جوق ہجرت کر کے سر زمین پاکستان کی طرف رواں دواں ہوئے ۔ انکا تقریباً ۹۰۰ کلو میٹر کا سفر تو بخیر خوبی بسر ہوگیا ، بس جب آخری سو کلو میٹر کا سفر رہ گیا تو مشرقی پنجاب میں اور مغربی پاکستان کی سرحد کے قریب ان کو شہید کر کر کے لوٹا گیا۔ کیا مشرقی پنجاب سے پہلے کے علاقے مسلم دشمن نہیں تھے ؟
مشرقی پنجاب میں سکھوں کے ہاتھوں جو قتل عام ہوا وہ رد عمل تھا اس قتل عام کا ، جو پاکستان کے پنجاب میں سکھوں کی جائیدادیں ہتھیانے کیلئے ہمارے مسلمانوں نے کیں۔ اور اس وقت مسلم لیگ کی پاکستانی قیادت نے، ہماری پہل کو نہیں روکا ۔ جب یہاں سے سکھ لٹ پٹ کر دوسری طرف پہنچے تو پھر رد عمل تو ہونا تھا۔
بہرحال اب نقشہ کشی مستقبل کی کی جائے۔
دین اسلام جسکا ہم زبانی تو بہت دعوٰی کرتے ہیں ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ نا امیدی کفر ہے
یقینا” ہم با صلاحیت، محنت کش ، ہنر مند اور علم سے منور قوم ہیں۔ ہم قوموں کی انجمن میں ایک اچھا مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم، اس راستے کو اختیار کریں جس سے دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں گزر کر منزل مقصود تک پہنچیں ہیں اور وہ راستہ آئین پر مکمل عمل کرنے کا راستہ ہے۔ اسکے علاوہ ہر راستہ ہمیں نامراد کردے گا۔
آج بھی ہمارے تمام ادارے اگر تہیہ کرلیں کہ چاہے آسمان گرے یا زمین دو لخت ہوجائے، آئین پر عمل پر ثابت قدم رہیں گے اور اس ہی کے مطابق عمل پیرا ہونگے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک روشن مستقبل کی آمین قوم بن کر ابھریں
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی