NUKTADAAN

Reading: ‏۶۱۔ یہ سسرے ہی خرابی کی جڑ ہیں
Reading: ‏۶۱۔ یہ سسرے ہی خرابی کی جڑ ہیں

‏۶۱۔ یہ سسرے ہی خرابی کی جڑ ہیں

admin
4 Min Read

نکتہ داں -۶۱

۲۱ اگست ۲۰۲۴

یہ سسرے ہی خرابی کی جڑ ہیں

ہماری لوک کہانیوں، TV ڈراموں اور ادبی افسانوں میں ساس کا ذکر ، ایک چالاک، سفاک اور خوفناک شخصیت کی طور پر تو ضرور آتا ہے لیکن سسر کے رشتے کے متعلق ایسی کوئی بات کم ہی سننے کو ملی ہے

تو پھر سسروں سے کونسی شکایت پیدا ہوگئی ہمیں ؟

یہ قضیہ ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف کے پے در پے انکشافات سے کھلا ہے، کہ پاکستان میں سیاست ، حکومت اور فوج کے معاملات پر “سسروں“ کا سایہ نہ ہوتا تو ملک کی تاریخ کچھ اور ہو سکتی تھی۔

موصوف فرماتے ہیں کہ جرنل جاوید قمر باجوہ کے سسر، کے نوازشریف سے قریبی تعلقات تھے اور ان ہی کی یقین دہانیوں، وعدوں اور وعیدوں پر اعتماد کرتے ہوئے نوازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو چیف آف آرمی بنایا۔

دوسرا انکشاف یہ، کہ جنرل باجوہ کے سسر اور جنرل فیض کے سسر آپس میں بہت قریبی دوست تھے ۔ ان ہی کی دوستی کا اثر تھا کہ جنرل باجوہ کے آرمی چیف بنتے ہی، گویا جنرل فیض حمید کی لاٹری  نکل آئی۔ حالانکہ ،فوجی لحاظ سے وہ ایک متوسط قابلیت کے حامل فرد ہیں ، لیکن انکی ترقی کی رفتار اور انکی اونچی اڑان کی اصل وجہ ، دو “سسروں” کے پیار کی منہ بولتی کہانی ہے۔

چونکہ جاوید قمر باجوہ بھی سفارش پر چیف آف آرمی مقرر ہوئے تھے لہٰذا  ، انکا وتیرہ بھی ذاتی دوستی اور سفارش ہی تھا۔

یہ ہے ہمارے سب سے اہم ، سب سے طاقتور اور ہر دوسرے ادارے پر حاوی ادارے ،  فوج کے نظام کی اندرونی حقیقت۔

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

تو خرابی کہاں پر ہے ؟

خرابی ہے وہ مطلق العنانیت جو ایوب کے دور سے ہر چیف آف آرمی اسٹاف کا طرہ امتیاز رہی ہے

ہمارا ہر سپہ سالار  اپنے تئیں فرعون  بن کر خود کو ہر قسم کی جوابدہی سے آزاد سمجھتا ہے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فوج کی نچلی سطح پر ترقیوں کا ایک  مربوط نظام موجود  ہے لیکن وہاں بھی کسی ترقی کو چیلنج کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ۔ وہاں اگر کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو متاثرہ شخص رو دھو کر گھر بیٹھ جاتا ہے۔

اگر، فوج کے اعلٰی ترین عہدوں پر ترقی کا اگر کوئی حقیقی نظام ہوتا تو “سسروں” کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملتا ۔

جس دن فوج میں اعلٰی عہدوں پر فائض جرنیل، امریکہ کی طرح سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے( جو کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ کھلے عام منعقد کی جاتی ہے اور ٹیلیویژن پر لائیو نشر ہوتی ہے ) جوابدہ بنائے جائیں گے، تو پھر ہم کہہ سکیں گے کہ:

ایہہ پُتر ہٹاں تے نئیں وِکدے،

کی لَبھنی ایں وچ بازار کُڑے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے