نکتہ داں – ۶۲
۲۴ اگست ۲۰۲۴
ایک قریبی دوست کے اپنے جوان بیٹے کے ساتھ تعلقات کو دیکھ کر دل بیٹھنے لگا۔
میں سوچ رہا تھا کہ دین تو ہمیں ،اپنوں کے ساتھ معاملات میں، نرمی ، در گزر، کشادہ دلی اور معاملہ فہمی اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے ، لیکن سامنے اگر ناحق ، ظالم اور طاقت کے نشے میں بد مست ہو، تو ایسے شخص کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹ جانے کا حکم ہے۔
اقبال نے قرآن کی اس تعلیم کو اپنے اشعار میں یوں سجایا کہ:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
لیکن ہم مسلمانوں کا معاملہ بالکل الٹ ہے۔ ہمارا ، اگر آپس میں زن، زر ، زمین کا جھگڑا ہو، تو ہم خون کے پیاسے بن جاتے ہیں لیکن ، سامنے کوئی زور دار، زبردست اور طاقتور ہو، تو ہماری روش، معاملہ فہمی، بات چیت، کچھ لو اور کچھ دو کا اصول اپنا لیتی ہے۔
انفرادی طور پر تو ایسے کئی واقعات، ہر دوسرے دن خبروں کی زینت بنتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر بھی ہمارا کردار اس ہی رویے پر منطبق نظر آتاہے ۔ موجودہ دور میں فلسطین کے قضیے پر تمام مسلمان ملکوں کی اجتماعی بے عملی، تمام عالم میں ، ہمارا منہ چڑاتی دکھائی دیتی ہے۔
اپنے گھر سے شروع ہونے والی تربیت اور معاملات کو سلجھانے کی یہ کوتاہی ، ہمارے عالمی تشخص کی عکاس بن گئی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے، کہ وہ معصوم بچہ، جو آپ کے گھر کی زینت بنا، جو اپنی ہر ضرورت کیلئے آپکا محتاج تھا، اسے آج آپ کس وجہ سے خود سے الگ کر رہے ہیں، اسکی شکل دیکھنا گورا نہیں کر رہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ آپ نے دنیا بنانے کے چکر میں، اپنے بچوں کو وقت ہی نہیں دیا۔ انکی ضرورتیں تو پوری کیں لیکن تربیت کے معاملے میں ، ان سے تعلق کاروباری سا رکھا۔
آنکھوں سے دور، ہوجانے کا رویہ تو قرآن کے مطابق آذری رویہ ہے۔ سورۃ مریم میں، حضرت ابراہیم علیہ سلام کے ، بتوں کو ماننے سے انکار پر انکے والد نے یہی رویہ اپنایا تھا کہ میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔ اور اس کے بعد تاریخ ، میں دونوں باپ بیٹوں کے دوبارہ ملنے کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔
لیکن اس کے برعکس ایک مثال یہ بھی ہے کہ حضور اکرم صلعم نے، اولاد تو کیا، اپنے خادم کو ،آزاد کرکے جانے کا حکم دیا تو خادم نے انکے قدموں میں بیٹھے رہنے کو ترجیح دی اور جانے سے انکار کر دیا۔
یہ فرق ہے رویے، سلوک اور معاملات کو درست رکھنے کا۔
کراچی ، مختلف ثقافتوں کے لوگوں کی آماجگاہ ہے۔ یہاں ہمارے ملک کی تمام، زبانوں ، ثقافتوں اور صوبوں کے لوگ ایک ساتھ بستے ہیں لیکن، لوگوں کے رویے ، انکی پہچان کروادیا کرتے ہیں۔ مثلاً ، کراچی کے ایک نامور پرائیویٹ اسکول کی ہیڈ مسٹرس نے، ایک بچے کے والدین کو فون کرکے آفس میں طلب کیا۔ انھیں بتایا کہ آپکا بیٹا پڑھنے میں تو بہت ہوشیار ہے لیکن یہ بوسنگ( Bossing) بات بات پر بہت بحث کرتا ، اور اڑ جانا اسکا شیوہ ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ بیٹا اپنی ماں کی کاربن کاپی بنا ہوا ہے۔ ماں بھی پڑھی لکھی تھیں لیکن اسکی ابتدائی تربیت، وڈیرہ ماحول میں ہوئی تھی۔ اس کا اپنے بچے سے روییا بھی وہی تھا ، جو بچے کا اپنی کلاس کے بچوں سے تھا
بحث کرنا، اڑ جانا ، بات مان کے نا دینا۔
بچوں کی صحیح تربیت پیار سے ہوتی ہے محض رعب جمانا، ابتدا میں تو سہل لگتا ہے ، لیکن عمر کے ساتھ یہ کلیہ کام نہیں دیتا۔
ہم رعب اور دبدبے سے بچوں کو فتح کرنے کے چکر میں بچوں کے بڑے ہونے پر ان سے ہار جاتے ہیں۔
میں ایک دعوت میں مدعو تھا۔ خاصے لوگ مدعو تھے کہ یکایک کچھ سراسیمگی سی محسوس ہوئی۔ میزبان میاں بیوی پریشان نظر آئے اور ادھر ادھر کچھ تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ انکے ایک پڑوسی نے رازداری سے مجھے بتایا ، کہ انکا دس سالہ بیٹا کسی بات پر ناراض ہوکر گھر سے چلا گیا ہے۔ اور اسے وہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ مجھے بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ محترم دس سالہ بچے کو گھر چھوڑنے کا خیال ہی کیسے آیا۔ فرمانے لگے۔ بھائی یہی طریقہ اس نے سیکھا تھا۔ کیونکہ گھر کی مالکن میاں سے اختلاف پر بار بار گھر چھوڑ جانے کی دھمکیاں دیا کرتی تھیں بلکہ ایک دو بار لمبی ڈرائیو پر بھی نکل گئیں تھیں۔
جو بھاشا گھر میں بولی جاتی ہے بچہ بھی وہی بولی سیکھتا ہے۔بالکل اسی طرح، جو رویے میاں بیوی اپنے اختلافات میں ایک دوسرے سے اپناتے ہیں۔ بچے ان رویوں کو بھی اپنی عقل کی گٹھڑی میں باندھ لیتے ہیں اور زندگی میں ان ہی طریقوں کا استعمال انکی عادت بن جاتا ہے۔
ہماری نوجوان نسل میں خرابیاں، معاشرے سے زیادہ، اپنے گھر کے ماحول سے پیدا ہورہی ہیں ۔ اگر گھر کے ماحول میں “ میں” کا عنصر نہ ہو، گھر کا بڑا عقل کُل بننے کے بجائے ، مفاہمت سے کام لے، عزت نفس مجروح نہ کرے اور اختلاف میں بھی شائستگی کا دامن باتھ سے نہ چھوڑے ، تو معاشرے کی خرابیوں سے آپ کے بچے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
خالد قاضی
نوٹ : آج کی تحریر، ڈاکٹر محمد لزونی کے گزشتہ جمعہ کے خطبے سے متاثر ہوکر لکھی ہے