نکتہ داں -۶۴
۲۸ اگست ۲۰۲۴
بے قصور،غریب پنجابی
مملکت خداداد کے صوبہ بلوچستان میں ایک دن میں ۷۱ بے گناہ افراد لقمہ اجل بنا دئیے گئے۔ کیا قصور تھا ان مظلوموں کا ؟
اور اس اندوہناک واقعے کا ذمہ دار کون ہے ؟
ہم ایک ذمہ دار قوم، کب بن کر ابھریں گے؟
بلوچستان کے طول و عرض میں یہ جرم اسقدرمنظم طریقُے سے، کیا گیاہے کہ سوچ کر خوف آجاتا ہے
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بلوچ عوام کی یہ پہلی بغاوت نہیں ہے، لیکن اس دفعہ زخم بہت گہرا لگایا گیا ہے
جی ہاں پچھلی سات دہائیوں میں یہ تیسری بغاوت ہے
تو کیا یہ لوگ پاگل ہیں ؟ یا کچھ خرابی ہماری بھی ہے ؟
اس مسئلے پر ، قومی سطح پر، بغیر کسی سیاسی ، صوبائی یا لسانی تعصب کے غور کرنے کا ہمیں
کب خیال آئے گا۔
یہ درست ہے کہ، شناخت کر کر کے پنجاب سے تعلق والے غریبوں کا قتل ناحق کیا گیا۔لیکن یہ تصویر کا ایک پہلو ہے۔
پوچھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی زیادتی ہوئی بھی ہے، تو سارا غصہ پنجابیوں پر ہی کیوں ؟
اگر وجوہات کا کھوج لگایا جائے تو، بلوچستان میں اب تک تین فوجی آپریشن ہوچکے ہیں۔ جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بلوچستان میں پہلا فوجی آپریشن ایوب خان نے کیا تھا ۔ وہ پنجابی تو نہیں تھا
دوسرا فوجی آپریشن بھٹو نے کیا۔ وہ بھی پنجابی نہیں تھا
اور تیسرا فوجی آپریشن مشرف نے کیا وہ بھی پنجابی نہیں تھا ۔
تو پھر سارا غصہ پنجاب پر کیوں نکالا جارہا ہے؟
جبکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ بلوچستان کے معاملات کو ، پورے خلوص نیت سے،سمجھنے اور حل کرنے کی تین کوششیں ہوئیں ہیں۔
پہلی کوشش ضیا الحق کے مقرر کردہ جرنل رحیم الدین خان نے کی تھی لیکن چونکہ یہ مارشل لا کا دور تھا اس وجہ سے بد گمانیاں دور نہ ہوسکیں گو، امن قائم ہوگیا تھا
لیکن اس مسئلے کو سیاسی طور پر سنجیدگی سے حل کرنے کی قابل قدر کوشش، دو پنجابی شخصیات نے شروع کیں اور انکی اس کوشش میں پوری نیک نیتی ، اخلاص اور حب الوطنی شامل تھی۔
گو لوگ تو اور بھی شامل تھے لیکن قیادت چودھری شجاعت حسین اور سینٹر مشاہد حسین سید نے کی۔ ان پنجابی رہنماؤں نے
بلوچستان کی تمام سیاسی قوتوں سے گفت شنید کے بعد جو حل پیش کیا وہ ایوب خان کے زمانے سے قائم اصول کے بالکل برعکس تھا۔
ایوب سے لیکر مشرف تک اصول یہ تھا کہ مضبوط اور مستحکم پاکستان کی ضمانت، مضبوط اور طاقتور مرکز میں پوشیدہ ہے۔ جس قدر مرکز مضبوط ہوگا، پاکستان بھی اس ہی قدر مضبوط ہوگا۔(سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ مضبوطی دراصل وسائل پر قبضے کا دوسرا نام ہے)
لیکن چودھری شجاعت حسین اور مشاہد حسین سید نے بلوچستان کی قیادت سے مل بیٹھ کر جو اصول طے کیا، اسکے مطابق مستحکم اور مضبوط پاکستان کا دارومدار مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم صوبوں پر ہے۔
آصف علی زرداری نے اس اصول کو ۱۸ویں ترمیم میں آئین کا حصہ بنادیا اور تمام صوبوں کو مرکز کے معاشی شکنجے سے آزاد کیا۔
اس اصول کا عمل دوسرے صوبوں میں تو ہوا لیکن صوبہ بلوچستان، فرنٹیئر کانسٹبلری اور کور کمانڈر بلوچستان ہی کے قبضے میں رہا۔
بلوچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی ایک اور کوشش بھی ایک پنجابی وزیر اعظم میاں نوازشریف کے دور میں ہوئی اور بلوچستان کے وزیر اعلٰی عبدالمالک بلوچ نے ناراض بلوچوں کو بات چیت پر آمادہ کرلیا تھا۔
لیکن یہ تمام کوششیں کیوں ناکام ہوئیں ؟
اس کی اصل وجہ بلوچستان کے وسائل پر ، اسمگلنگ کے کھربوں روپئے کے کاروبار پر، اور سمندروں میں غیر ملکی ٹرالروں اورسمندر کے ذریعے اسمگلنگ کی کمائی پر قابض ملٹری اور بحری حکام اور کور کمانڈرز اپنے حرص، لالچ، کبر اور تکبر کی وجہ سے ، بلوچوں کو سیاسی اور معاشی غلام بنا کر رکھنے پر بضد رہے۔
بلوچستان کے غیور عوام کے اصل دشمن نہ پنجابی ہیں نہ سندھی اور نہ پشتون۔ انکا اصل دشمن ، کور کمانڈر ہے، فرنٹئر کانسٹبلری کا چیف ہے، سمندروں کی حفاظت پر قائم بحریہ کا چیف ہے۔ ان عہدوں پر چاہے بلوچ ہو، پنجابی ہو، پٹھان ہو ، سندھی ہو یا اردو بولنے والا یہ کسی کا دوست نہیں یہ صرف اپنے مطلب کا دوست ہے اور اس کے ساتھی وہ عیاش بلوچ سردار بھی ہیں جو اپنے ہاتھوں سے اپنی قوم کا خون بہائے جانے پر آنکھیں دوسری طرف پھیرنے میں کوئی تردد نہیں کرتے ۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے، بلوچوں کومحض دہشت گرد، غدار یا ملک دشمن قرار دے کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی۔
ان کے شدید رد عمل کی اصل وجہ، پہلے تو، ہر اٹھنے والی آواز کو غائب کردینا اور اگر اس جبری گم شدگی کے خلاف ، ملکی اور غیر ملکی میڈیا پر آواز اٹھانے پر، غائب کردہ شخص کی پرتشدد لاشیں پھینکنے کے عمل سے نتھی ہے۔ یہیں سے بلوچ علیحدگی پسندی کو عوامی پزیرائی ملنی شروع ہوگئی تھی۔
ڈاکٹر اللٰہ نذر بلوچ جو بولان میڈیکل یونیورسٹی کا گولڈ میڈلسٹ ہے، اپنے بھائی کے ایجنسیوں کی تحویل میں موت کے بعد بلوچ لبریشن فرنٹ تشکیل دیا ۔
بلوچ ثقافت میں عورت کو بڑی عزت اور احترام سے گھر کی چاردیواری تک محدود رکھا جاتا ہے، لیکن اپنے پیاروں کے غائب ہونے اور پھر تشدد شدہ لاشوں نے انھیں گھروں سے نکل کر احتجاج کا پرچم اٹھانے پر مجبور کیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی اپنے والد کی دوسال تک سکیورٹی ایجنسی کی تحویل اور پھر انکی پر تشدد لاش ملنے پر سراپا احتجاج بن گئی ہیں۔ ہماری مقتدرہ ، جب اختلافات، اور اپنا غصہ نکالنے کے تمام دروازے بند کرکے ہر تحریک کو بندوق کے زور پر کچلنے کی کوشش کرے گی تو پھر “ تنگ آمد بہ جنگ آمد”کے مصداق، اب عام متوسط اور غریب بلوچ پاکستان بیزاری کی راہ پر گامزن نظر آتا ہے۔
سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے، کوئی بھی پرتشدد تحریک ، عوامی حمایت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ آج بلوچ لبریشن آرمی کو بلوچ عوام کی حمایت مل رہی ہے اسی لئے وہ اپنے اھداف بہ آسانی حاصل کر رہے ہیں۔
چونکہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اور فوج اور بیوروکریسی میں آبادی کے لحاظ سے پنجاب کی نمائندگی بھی زیادہ ہے اسی لئے جب عام بلوچ لوگ ، جنرل عاصم سلیم باجوہ کو دیکھتے ہیں جنرل آصف غفور کو دیکھتے ہیں ، جب اسلام آباد کے یخ موسم میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے پر امن مارچ پر اسلام آباد کی پولیس کا بد ترین تشدد دیکھتے ہیں تو وہ سارا الزام پنجاب کو دیتے ہیں
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شہباز شریف اس معاملے کو خود دیکھتے۔ انھوں نے کوئٹہ بھیجا بھی تو محسن نقوی کو، جو سیاسی سے زیادہ جرنیلی آشیرباد رکھتے ہیں۔
ہمارا دشمن چاہتا ہی یہ ہے کہ صوبائی منافرت زور پکڑے
میری رائے میں اس حملے کو پنجاب کے عمائدین، ادیب ، شعرا، صحافی، علما َ اور دانشور حضرات پوری دانشمندی سے اٹھ کر، اس ہیجان کو کم کرنے کیلئے تمام گمشدہ ، غائب کردہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے، کیلئے آواز اٹھائیں گے۔
بلوچ ناراضگی کی ایک اور بڑی وجہ، بنگلہ دیش کے حالات سے مطابقت رکھتی ہے۔ جس طرح حسینہ واجد نے سیاسی گھٹن قائم کی ہوئی تھی، اور عوام کی رائے کے برعکس انتخابات کے نتائج مکمل دھاندلی سے مرتب کئے تھے، یہی کچھ کئی دہائیوں سے بلوچستان کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو ہم جان لینا چاہئے کہ محض نعروں سے ملک اکھٹا نہیں رکھا جاسکتا
آخر میں ، جرنیلوں کو ہوش کے ناخن لینے کی تاکید کی جانی چاہیے ۔ ان ہی کی کارستانیوں ، پالیسیوں اور زبر دستیوں نے حالات یہاں تک پہنچائے ہیں۔ مجھے فال آف ڈھاکہ سے پہلے ، یحیٰی خان کا قوم سے خطاب یاد آرہا ہے ، جب وہ عیاش ، بدکردار شخص ، جنگ میں جیتنے کی نوید سناتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ہم ہر محاذ پر لڑ رہے ہیں جبکہ جرنل نیازی اس وقت ہتھیار ڈالنے کی تیاری کر رہا تھا۔
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی