نکتہ داں -۶۵
۳ ستمبر ۲۰۲۴
کچھ اشارات
پہلی نظر میں تو ہر طرف، مایوسی دکھائی دیتی ہے، لیکن پھر کوئی نہ کوئی امید کی ہلکی سی کرن ، کچھ دیر کے لئے ہی سہی، امید کی قندیل ُجلائے رکھنے کا اشارہ دیتی ہے۔
مایوسی اس وقت ہوئی تھی، جب حکومتی ترجمان نے بڑے طمطراق سے ملک کی مقبول سیاسی جماعت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا عزم ظاہر کیا
لیکن ، امید اس وقت بندھی جب ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، میڈیا ، انسانی حقوق کی تنظیتموں، وکلا برادری اور ہر خاص و عام شخص نے پابندی کی مخالفت کرکے اس اعلان کی ہوا نکال دی ، آج وہی مسلم لیگ جو پابندی کی بات کر رہی تھی، بات چیت کی دعوت دیتی نظر آتی ہے۔
میرے ایک دوست نے دریافت کیا، کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے، لیکن وہ بات چیت سے انکار پر بضد ہے، اسکی کیا وجہ ہے ؟
میں نے عرض کی ، کہ مجھ میں تحریک انصاف کے فیصلوں پر تنقید کرنے کی ہمت نہیں ہے، کیونکہ ان پر تنقید “ آ، بیل مجھے مار” کہنے کے مصداق ہے
انکے زور دینے پر کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ عمران خان کا قید میں ہونا ہے اور اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو صرف “رہائی” کی بات کرنا چاہتے ہیں ، PTI کی قیادت سمجھتی ہے کہ جیل خانے کی چابی حکومت کے پاس نہیں بلکہ جرنیلوں کے مضبوط ہاتھوں میں ہے، لہٰذا بات اگر کی جائے گی تو جرنیلوں سے کی جائیگی اور کسی سے بھی نہیں۔
مطلب یہ، کہ پاکستان کے حالات کو بہتر کرنے، جرنیلوں کو سیاست برد کرنے، اور ملک کو پارلیمنٹ کے ذریعے چلانے کی اہمیت تحریک انصاف کی نظر میں زیادہ اہم نہیں ہے۔
عمران خان کے چاہنے والے، صحافی، یو ٹیوبرز اور بلاگ برداران، پچھلے کئی مہینوں سے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف عموماً اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف خصوصاً ، سوشل میڈیا پر الزام تراشی کرنے میں مصروف رہے ہیں کہ قاضی فائز عیسٰی، اپنی مدت ملازمت میں اضافے کیلئے، مقتدرہ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ لیکن آج ، وزیر قانون اور اٹارنی جرنل خود تسلیم کر رہے ہیں اور رانا ثنااللہ نے بھی بیان دیا ہے کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت کے ختم ہونے پر ایک دن بھی چیف جسٹس کی کرسی پر نہیں بیٹھیں گے بلکہ اپنے گھر چلے جائیں گے۔ یہ خبر، پاکستان کے نظام میں بہتری کی نشاندہی کر رہی ہے۔
پختون خواہ ملّی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی بھی میری پیش گوئی کے مطابق ملک کے سیاسی حالات کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنے میں مشغول نظر آتے ہیں اور گزشتہ روز قومی اسمبلی میں انکا خطاب اسی عمل کی عکاسی کر رہا ہے
مولانا فضل الرحمٰن اور انکی جماعت کے دیگر رہنما بھی تحریک انصاف کی قیادت کو کنفیوژن سے نکلنے اور سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے ذریعے معاملات کو بہتر کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
مسلم لیگ بطور سیاسی جماعت ، پاکستان میں عموماً اور پنجاب میں خصوصاً، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ وہ اپنی سب سے بڑی حریف جماعت، PTI سے بے حد خوفزدہ نظر آتی ہے
اسی لئے کبھی وہ PTI پر پابندی کی بات کرتی ہے، کبھی ۹ مئی کے واقعات پر PTI کو معافی مانگنے کا کہتی ہے۔وغیرہ وغیرہ
میری رائے میں، حکومتی جماعت مسلم لیگ، PTI کو صرف بہتر معاشی کارکردگی دکھا کر ہی سیاسی میدان میں ٹہر سکتی ہے۔ لیکن معاشی حالات بہتر کرنے کی نیت کا عکس اس بات سے ظاہر ہو جاتا ہے، کہ پنجاب کی تاجر برادری اپنی آمدنی پر ٹیکس دینے کو تیار نہیں اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب رہی جنکہ تاجروں کے سامنے حکومت بے بس بنی رہی جبکہ دوسری اہم خبر یہ ہے کہ ڈاؤن سائزنگ اور حکومتی خرچے کم کرنے کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایک اہم رکن، ڈاکٹر قیصر بنگالی نے احتجاجاً اس بات پر استعفٰی دیدیا کہ حکومت ہماری تجاویز کے برخلاف اقدامات کر رہی ہے
مسلم لیگ کی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ “ابھی نہیں تو کبھی نہیں” کے مصداق اگر اس نے اپنے اس دورانیے کے دوران معاشی طور پر کوئی بہتر پیش رفت نہ کی تو آئندہ اسے اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہوجائے گا
خالد قاضی