NUKTADAAN

Reading: ‏۶۶۔ ہر جرنل سزا مبرا ہوتا ہے
Reading: ‏۶۶۔ ہر جرنل سزا مبرا ہوتا ہے

‏۶۶۔ ہر جرنل سزا مبرا ہوتا ہے

admin
7 Min Read

نکتہ داں۔ ۶۶

۹ ستمبر ۲۰۲۴

ہر جرنل سزا مبرا ہوتا ہے

بات تو ہونی چاہئے معیشیت کی ۔  پاکستانی معیشیت کے درخت کو ۳ عناصر دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر چکے ہیں۔

پاکستانی معیشیت پر مندرجہ ذیل تین عناصر ، ملک کی  باعزت بقا کے لئے کینسر  سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں ، جن پر قابو پائے بغیر پاکستان اپنا وجود ،مستحکم اقوام کی فہرست میں برقرار نہیں رکھ پائے گا۔

۱- بیرونی اور اندرونی قرضے، کہ جنکا ہر سال واجب الادا سود بھی مزید قرضے لیکر واپس دیا جا رہا ہے

۲- IPPs کا پیدا کردہ بجلی کا بحران، جو ہماری صنعتوں کی پیداواری لاگت پر بوجھ بن کر سوار ہے

۳- خود کفیل ، پنشن کے نظام کی غیر موجودگی کی وجہ سے پنشنوں کا ثقیل بوجھ ۔

 لیکن، ہمارا میڈیا، سوشل میڈیا اور عام آدمی ہر وقت جس فکر میں لاچار نظر آتا ہے وہ کچھ اور ہی ہیں۔

یہی کچھ مجھ سے بھی پوچھا گیا

فرمانے لگے قاضی صاحب دو سوالوں کا صحیح جواب دے دیں  تو ہم آپکو اپنا  گُرو مان لیں گے۔

میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا، کہ بھائی میں جو ہوں وہی رہنے دیں گُرو  وَرو بننے کا ،مجھے کوئی شوق نہیں

کہا ، سوال تو سن لیں !

میں نے کہا فرمائیے

بولے

۱- یہ بتائیں کہ جنرل فیض حمید کا کیا انجام ہوگا

۲- کیا عمران خان پر فوجی عدالت میں مقدمہ قائم ہوجائے گا ؟ اور پھر نتیجہ کیا ہوگا ؟

میں نے کہا بھائی لوگو، نہ میری کہیں ، نہ کوئی رسائی ہے، نہ میں نے،کوئی چڑیا، کبوتر یا طوطا پال رکھا ہے جو خبریں لا لاکر بتائے۔ میں تو پاکستانی سیاست کا ایک طالبعلم ہوں جو تاریخ کی روشنی میں حالات کو دیکھتا اورسمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔  اسے جیسا نظر آتا ہے وہ بیان کردیتا ہے۔ میرے دیکھنے ، سمجھنے اور اس سے نتیجہ نکالنے میں غلطی بھی ہوسکتی ہے

اگر پھر بھی آپ میری بات سننا چاہتے ہیں تو بتائے دیتا ہوں

میری سمجھ کے مطابق، جنرل فیض حمید کے خلاف اقدام ، بصد مجبوری اٹھایا گیا ہے۔ اس کی کرپشن کی داستان چاہے کتنی گھناؤنی اور گھمبیر کیوں نہ ہو، ہماری مقتدرہ کیلئے ، ایک جرنل کے متعلق یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اور آپ نے خود دیکھا ، کہ کرپشن کے الزامات تو سات سال پرانے ہیں ، اور ان الزامات کے ہوتے ہوئے انھیں نہ صرف ISI کا چیف بنایا گیا بلکہ آرمی چیف بننے کیلئے لازمی شرط کو پورا کرنے کیلئے، کور کمانڈر کے طور پر ترقی دی گئی۔ اور وہ ممکنہ ، چیف آف آرمی اسٹاف کی لسٹ میں بھی شامل تھے۔ تو کیسی جوابدہی اور کون سا احتساب کا اندرونی نظام کہ جسکا ڈھنڈھورا ہر وقت ISPR کا ڈھنڈورچی ، پیٹ پِیٹ کر ہمارا سر کھاتا رہتا ہے۔

کرپشن کی ملائی کھانا  تو ہر آرمی جرنل کا حق ہے، جو ایوب خان سے لیکر ہر جرنل شِیر مادر کی طرح حلال سمجھتا ہے۔

کیا ISPR کا کوئی لال بجھکڑ پاکستان کے عوام کو یہ بات بھی بتائے گا کہ کیسے، ایوب کے دس سالہ دور میں پیدا ہونے والے ملک کے امیر ترین بیس خاندانوں میں ایک خاندان ایوب خان کا تھا ، یہ کس طرح ہوا ؟

بہرحال فیض حمید کا قصور یہ ہے کہ،

وہ عاصم منیر  کا پروفیشنلی حریف ہے

دونوں کی مسابقتی جنگ پرانی ہے

عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کی راہ میں روڑے بھی فیض حمید نے اٹکائے تھے

یہ سب معاف بھی کیا جاسکتا تھا ، لیکن ناقابل معافی حرکت یہ ہوئی کہ ، عاصم منیر کو ناکام بنانے کیلئے فوج میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

یہ ایسا جرم ہے کہ اگر اس سے درگزر کردیا جائے تو فوجی قیادت کے ٹکڑوں میں بٹ جانے سے نہ صرف فوج کے چیف کو، بلکہ پوری فوج اور پاکستان کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ تھا ۔

فوجی قیادت میں انتشار پھیلانے کا کام جرنل فیض حمید اپنی سبکدوشی کے بعد بھی شد و مد سے جاری رکھا۔ اس لئے انھیں نہ صرف اس حرکت سے روکنا ضروری تھا بلکہ تمام متعلقہ  فوجی عناصر کیلئے وارننگ بھی ہے کہ اور جو چاہے کرلو (کوئی بات نہیں ) لیکن یہ ریڈ لائن کراس کرنے کی اجازت نہیں۔

باقی کرپشن کا ذکر تو بس زیب داستاں کیلئے ہے

جنرل فیض حمید کا ہوگا کیا؟

یہ ایک دلچسپ سوال ہے

میری رائے میں جرنیل کے مرتبے کی عزت اور لاج ضرور رکھی جائے گی ، ورنہ تو ایک ایسی مثال قائم ہوسکتی ہے جس میں مستقبل کے جرنیل کٹہروں میں کھڑے نظر آنے لگیں گے۔

ایسا نہیں ہوگا۔

ان سے عہدہ چھینا جاسکتا ہے ، مراعات واپس لی جاسکتی ہیں ، قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے لیکن وہ بھی دس پندرہ سال سے زیادہ نہیں ہوگی اور انھیں جیل میں تو ہرگز نہیں ڈالا جائے گا۔ ہاں انکے محل نما گھر کو ہی جیل ڈکلیئر کرکے گھر میں نظربند کردیا جائے گا اور عین ممکن ہے کہ آرمی چیف کے بدلنے پر نیا چیف انکی باقی سزا معاف بھی کرسکتا ہے

اللٰہ اللٰہ خیر سلا

بولے اور دوسرے سوال کا جواب

تو میں نے آنکھ مار کر کہا  کہ

فیر آویں سوڑیوں ، ساریاں گلاں اکو ئی واری نئیں ہوندیاں

لہٰذا اگلی قسط کا انتظار کریں

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے