نکتہ داں -۶۸
۱۲ ستمبر ۲۰۲۴
حسب وعدہ، آج اس بات پر طبع آزمائی کرلی جائے، کہ
“*عمران خان دا کی بڑیں گا*”
چہ میگوئیاں تو کئی اقسام کی بازار سیاست میں گردش کر رہی ہیں ،مثلًُا :
۱- عمران کو آرمی کورٹ میں ٹرائل کروا کر نشان عبرت بنا دیا جائے گا
۲-جنرل فیض کی قربانی، دراصل عمران کو سیاسی طور پر ذبح کرنے کا پلان ہے
۳- عمران خان کو سیاست سے غیر متعلق کردینے کیلئے، اسے سیاسی طور پر نااہل کردیا جائے گا اور تحریک انصاف کو(مائینس عمران )سیاست کرنے کی آزادی دیدی جائے گی-
وغیرہ وغیرہ
لیکن میری دانست میں یہ سارے اقدامات ،کسی کی ، خواہش تو ہوسکتے ہیں لیکن ان خواہشوں پر عمل مجھے مشکل لگتا ہے
پاکستانی صحافت کے ایک بہت بڑے نام ، محترم زاہد حسین کے بقول ، حکومت اور جرنیلی جنتا، ۹ مئی کو سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہے
آپ نے دیکھا، کہ ن لیگ نے ۹ مئی کا سہارا لیکر بڑے کر و فر سے اعلان کیا کہ تحریک انصاف پر پابندی کا ریفرینس تیار کیا جارہا ہے۔
جواباً انکے تمام پارٹنرز (سوائے MQM کے) سب نے ن لیگ کو لال جھنڈی دکھادی اور یہی کچھ انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا برادری ، چین، IMF اور عدلیہ ، غرض ہر ایک نے خبردار کردیا ، کہ موجودہ معاشی منظرنامے میں دھماچوکڑی کی کوئی گنجائش نہیں ۔
پھر ہوا یہ کہ ن لیگ کو منہ کی کھانی پڑی اور اس پلان کو ایک طرف رکھ کر وزیراعظم شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے فلور پر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دینی پڑی۔
یہ الگ بات ہے کہ تحریک انصاف نے ایک دفعہ نہیں بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ اسے باہر کے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ، وہ اپنا کام خود بگاڑنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، بقول شاعر
ہوئے تم دوست جسکے،
دشمن اسکا آسماں کیوں ہو
چلیں تاریخ کو گھنگال لیتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات میں اس سے پہلے کیا ہوتا رہا ہے۔
پاکستان میں صرف تین مرتبہ آرمی کورٹ میں قابل ذکر شخصیات کا ٹرائل ہوا ہے
ایک 1951 میں راولپنڈی سازش کیس ، جس میں جنرل اکبر مرکزی کردار تھے، فیض احمد فیض کو بھی ۶ سال کی قید کا سامنا کرنا پڑا۔فیصلے کے دو سال بعد، ایوبی مارشل لا میں ذوالفقار علی بھٹو کی بھرپور کوششوں سے دو سالہ قید بھگتنے کے بعد ، فیض صاحب آزاد ہو کر لندن ِسدھارے۔چونکہ یہ بغاوت کا کیس تھا اس لئے، ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوا
دوسری قد آور شخصیت مرحوم و مغفور، مولانا ابو الاعلٰی مودودی کی تھی۔ ۱۹۵۳ میں قادیانیوں کے خلاف شدید ہنگامے ہوئے اور تقریباً ۲۰۰ قادیانی فسادات میں مارے گئے۔ اس زمانے میں پاکستانی ملٹری اور سول بیوروکریسی میں قادیانی چھائے ہوئے تھے اس لئے مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلا اور مولانا محترم کو موت کی سزا سنائی گئی۔ اس وقت چونکہ قادیانی مسئلے پر جذباتیت عروج پر تھی، اس لئے جرنیل موت کی سزا منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئے، اور مولانا محض دو سال پابند سلاسل رہنے کے بعد آزاد کر دئیے گئے۔گویا ملٹری کورٹ کے فیصلے کی عوامی دباؤ کے سامنے نہیں چلنے دی گئی
تیسری ملٹری کورٹ جنرل ضیا الحق نے سجائی تھی اور اس میں سیاسی کارکنوں ، سیاستدانوں وکلا، انسانی حقوق کے نگہبانوں ، صحافیوں، لکھاریوں اور اساتذہ کرام کو، قید و بند اور کوڑوں کی سزائیں سنائی گئیں۔
یہ پر آشام دور ، فوج اور جرنیلوں کے دامن میں بدنما داغ لئے ہوئے ہے لیکن جرنیلوں میں اس داغ کو دھونے کی کہیں کوئی ترغیب نظر نہیں آتی۔
ان واقعات کے علاوہ، سیاسی شخصیات پر جب بھی دھاوا بولا گیا وہ سول عدالتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے ججوں کے ہاتھوں کروایا گیا۔
مثلاً ١٩٦٨ میں شیخ مجیب الرحمٰن اور عوامی لیگ کی قیادت کے خلاف ایوب خان نے بغاوت کا مقدمہ “اگرتلہ سازش” کے نام سے شروع کیا۔ لیکن ملٹری کورٹ میں نہیں ، سول کورٹ میں۔ لیکن ١٩٦٩ میں مشرقی پاکستان میں بڑے پیمانے پر ہنگاموں کیوجہ سے، ،شدید عوامی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر، تمام الزامات واپس لئے گئے اور شیخ مجیب کو آزاد کرنا پڑا
پھر ایک کوشش بھٹو دور میں بھی ہوئی ۔جرنیلوں ہی کے ایما پر، سیاستدانوں کے خلاف بھٹو صاحب نے، حیدرآباد سازش کیس گھڑا اور نیشنل عوامی پارٹی اور بلوچستان کے متعدد قوم پرست لیڈروں کو پابند سلاسل کردیا ۔لیکن حیدرآباد ٹریبیونل سول تھا ، ملٹری عدالت نہیں تھی۔ یہ الگ بات کہ بھٹو کا تختہ الٹ کر ضیاالحق نے تمام الزامات واپس لیکر سب کو آزاد کردیا۔ لیکن اس مرتبہ ضیا نے فیصلہ عوامی دباؤ کے تحت نہیں کیا بلکہ سیاسی ضرورت کے تحت کیا تھا۔
اور پھر ضیا اور اسکے جرنیلوں کا بھٹو کو رستے سے صاف کرنے کیلئے قتل کا مقدمہ ، بھی سول عدالتوں سے، جبر، دباؤ اور لالچ کے ذریعے تکمیل کو پہنچا، ملٹری عدالت سے نہیں۔
ان مندرجہ بالا مثالوں سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ، ملکی عوام اور بین الاقوامی ممالک فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔
تو پھر عمران خان کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے؟؟؟
میری رائے میں آج کی عدلیہ ، ماضی کے مقابلے میں جرنیلوں کے دباؤ میں آنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
عمران خان پر کوئی بھی الزام لگا دیا جائے، اسے پھانسی پر نہیں چڑھایا جاسکتا، زیادہ سے زیادہ قید ہی کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ اور کل کا کس کو پتہ ہے، جرنل عاصم منیر کے جانے کے بعد ، نیا سپہ سالار ، ضیا الحق کی طرح الزامات معاف کرکے عمران کو آزاد کردے
یہ ڈرامہ زیادہ چلنے والا نہیں لگتا۔ ہاں کچھ عقل عمران خان اور اسکی جماعت کے اکابرین کو بھی استعمال کرنی چاہئے۔
ہمارے جرنیلوں اور موجودہ ن لیگ کے عقلمندوں کو کاش کوئی سمجھا سکے، کہ سیاستدان کی سیاست کو سیاست سے تو ختم کیا جاسکتا ہے، سول یا ملٹری عدالتوں کے فیصلوں سے ہرگز ختم نہیں کیا جاسکتا۔
میں جرنیلوں اور ن لیگ پر طاری خوف کو بڑی دلچسپی سے دیکھ کر انجوائے کرتا ہوں ، حالانکہ تحریک انصاف کا علاج یہ ہے کہ انھیں کچھ نہ کہا جائے، کبھی نہ چھیڑا جائے ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کھینچ کر نڈھال ہو جائیں گے۔
ہاں جو کرنے کی بات ہے وہ یہ کہ ن لیگ اپنی گورنس کو، امن امان کے حالات کو اور معاشی
ابتری پر دھیان دیکر عام آدمی کی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کرے ۔ اگر ان میدانوں میں کوئی پیش رفت ہوگی تو حکومت کے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی