NUKTADAAN

Reading: ‏۷۰۔ یقیناً ہمارے ملک کا جو آج حال ہے
Reading: ‏۷۰۔ یقیناً ہمارے ملک کا جو آج حال ہے

‏۷۰۔ یقیناً ہمارے ملک کا جو آج حال ہے

admin
11 Min Read

نکتہ داں- ۷۰

۱۵ ستمبر ۲۰۲۴

یقیناً ہمارے ملک کا جو آج حال ہے، وہ ہماری معاشی، سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی قدروں کا حقیقی آئینہ دار ہے۔

آج پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا ، بازار مصر کا سماں  پیش کر رہا ہے، جہاں ہر کوئی، جو چاہے،  جس طرح  چاہے، اپنا موقف  بیچ سکتا ہے۔ ہر کوئی ، ہر خبر میں، کسی سنسنی، کسی سازش یا کسی پوشیدہ منصوبے کی نشاندہی کررہا ہے ۔

یہ تمہید باندھنے کی وجہ دراصل مجّوزہ ۲۶ ویں آئینی ترمیم کے پیش کرنے میں حکومتی ناکامی کی وجہ دریافت کرنا ہے۔

ہمارے سیاسی رہنما ماضی سے اسقدر خوفزدہ  ہیں کہ، چھاچھ کو بھی پھونکیں مار کر پینے کی کوشش میں ہیں۔

اس تمام معاملے کو میری نظر کس طرح دیکھتی ہے وہ  بیان کئے دیتا ہوں

۱۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ ہی، ملک کے سب سے محترم اور معزز ادارے ہونے چاہئیں اور انکی توقیر، محض کہنے سے نہیں بلکہ ان دونوں اداروں کی کارکردگی سے مستحکم ہوسکتی ہے

۲۔ قومی اسمبلی کے تمام ممبران، پاکستانی عوام کے نمائندے ہیں اور انکی اچھائیاں اور برائیاں، پاکستان عوام کی عمومی اچھائیوں اور برائیوں ہی کا ملغوبہ ہیں ۔ نہ وہ عام پاکستانی سے بہت اچھے ہیں اور نہ ہی ہم سے بہت برے۔ انھیں بہت برا کہنے والے کو اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہئے۔

۳- اس وقت (تقریباً نصف صدی کے بعد) الحمد للٰہ لوگوں کو آئین کی اہمیت کا اندازہ ہوا ہے۔ وگرنہ ہم اس آئین کی حقیقی اہمیت سے ناواقف تھے-

۴- اور یہ متفقہ آئین بھی ان ہی قومی اسمبلی کے نمائندوں نے ہی بنایا ہے۔ جنھیں ہم ہر وقت نیچا دکھاتے، تحقیر کرتے اور عوام پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ پارلیمنٹ کے نمائندوں کے متعلق تضحیک   ہمارے جرنلوں، انکی کاسہ لیس مذہبی جماعتوں اور میڈیا کے مسلسل پروپیگنڈے کا ہی شاخسانہ ہے۔

۵- آئین بنتا بھی ہے، اور پھر معروضی حالات کے پیش نظر اس میں رد و بدل بھی کی جاتی ہے۔ اور اس رد و بدل کا طریقہ بھی آئین ہی میں موجود ہے۔

گویا آئینی ترمیم ایک معمول کا عمل ہے جسے ہم نے ایک تماشہ بنا کے رکھ دیا ہے۔

اگر یہ سب معمول کا عمل ہے، تو، اسے اسقدر متنازع کیوں بنایا جارہا ہے اور کہاں کس طرف سے غلطی سرزد ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی کے لیڈر آف دی ہاؤس جناب شہباز شریف،  ماضی میں بطور وزیر اعلٰی پنجاب،  ایک اچھے منتظم ہونے کا ثبوت تو بے شک فراہم کرچکے ہیں، لیکن ایک مدبر رہنما، ایک دور اندیش اور زیرک سیاستدان کے وہ آج نہیں کئی دفعہ ناکام نظر آئے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں یہ انکی دوسری بڑی ناکامی ہے ( پہلی ناکامی PTI پر بیوقوفانہ  پابندی لگانے کا اعلان تھا) اور دوسری بڑی غلطی ، اس آئینی ترمیم کو پیش کرنے کا انداز۔

موجودہ دور کی پاکستانی سیاست دو چیفس کے گرد گھومتی ہے

ایک چیف ، پہلے طے کرتا ہے کہ ملک کا وزیراعظم کون ہوگا اور پھر اسے لانے کیلئے سب کچھ کر گزرتا ہے اور دوسرا چیف ، پہلے چیف کا آلہ کار بن کر، ُاسی لائے ہوئے وزیراعظم کو دوبارہ  گھر بھیجتا ہے۔

اور سیاسی لوگ ان دونوں چیفوں کے قہر سے بچنے کیلئے اپنے گرد فصیل کھڑی کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔

میری سوچ مجھے، ہمیشہ سیاستدانوں کا دفاع کرنے پر اکساتی ہے۔

ہمیں کچھ دنیا کی طرف بھی نظر کر لینی چاہئے۔

تمام جمہوری اور ترقی یافتہ  ممالک میں، عدلیہ میں اعلٰی ججز کے تقرر کا اختیار، حکومت وقت ہی  کو حاصل ہے اور وہ ، اپنی صوابدید پر، (ایک آئینی طریقے سے، پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ) ججز مقرر کرتی ہے۔ سنہ ۲۰۱۰ میں PPP کی حکومت نے تمام جماعتوں سے گفت شنید کے بعد اتفاق رائے سے دنیا بھر میں رائج اسی طریقے کو اختیار کیا تھا، لیکن اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس طریقے کی سخت مخالفت کردی اور ن لیگ اپنی عدالتی مجبوریوں کی بنا پر، ۱۸ویں ترمیم کی اس شق سے پھر گئی۔ نتیجتاً آئین میں ۱۹ویں ترمیم کی گئی، جس میں، عدلیہ کے اوپر ہر قسم کا کنٹرول ختم کردیا گیا اور سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بھی آرمی چیف کی طرح خود نما و خود آرا بن گیا۔

لیکن جس طرح بڑے کہہ گئے ہیں کہ “وقت سب سے بڑا استاد ہوتا ہے”  لہٰذا  آج وقت نے ن لیگ کو اپنی پچھلی غلطی درست کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔

لیکن کام کرنے کا کوئی طریقہ بھی تو ہوا کرتا ہے ، شہباز حکومت نے اس تمام عمل میں اپنی مکمل کوتاہی ثابت کر دی ہے۔

جب سنہ ۲۰۰۹ میں PPP کی حکومت نے ۱۸ویں ترمیم کا ڈول ڈالا تھا تو تجاویز کو خفیہ نہیں رکھا تھا بلکہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی شمولیت کے ساتھ رضا ربانی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی۔ جس نے (راتوں رات نہیں بلکہ) ۶ مہینے کی ُطویل مدت تک تمام تجاویز پر شق بہ شق مشاورت کرنے کے بعد  تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے یہ ترمیم منظور کی

لیکن اس دفعہ کیا ہوا:

۱- ترمیم کے متعلق عوام کو مخمصے میں رکھا گیا۔ وزرا کے بیانات ابہام سے بھرے ہوئے تھے

۲- ترمیم کی مندرجات کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا

۳۔ اپنے سب سے اہم سیاسی فریق، PPP کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا اور  بقول سید  نوید قمر ہمیں ترمیم کا جو مسودہ دیا گیا وہ اسمبلی میں پیش کئے جانے کیلئے تیار شدہ مسودے سے مختلف تھا۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی لارے لپّے میں رکھا گیا اور اور بقول مولانا غفور حیدری، جب ہمیں ترامیم کے مسودے ہی کا پتہ نہیں تو ہم ووٹ کس بات پر دیں ؟

یہی رویہ بلوچستان کی قوم پرست پارٹیوں کے ساتھ روا رکھا گیا

لیکن اس ساری مشق کا مثبت پہلو، یہ نکلا کہ، PTI کے ممبران قومی اسمبلی کی پارلیمینٹ کی حدود میں گرفتاری ( جوکہ شہباز حکومت کی ایک اور سیاسی حماقت تھی) کی متفقہ طور پر شدید مخالفت سامنے آئی اور ن لیگ کے قومی اسمبلی اسپیکر محترم جناب سردار ایاز صادق نے بہت مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے، بلاول بھٹو زرداری  کی تجویز (جسکی اسحاق ڈار اور خواجہ آصف نے بھی تائید کی) کو منظور کرتے ہوئے، پارلیمان کے معاملات کو چلانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی سینئر رہنما PPP جناب خورشید شاہ کی سربراہی میں تشکیل دیدی۔ اس کمیٹی کی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں PTI بھی شامل تھی، مولانا فضل الرحمٰن بھی، بلوچ لیڈرشپ بھی اور محمود خان اچکزئی بھی۔ اس کمیٹی کے طفیل تمام PTI ممبران کو رہا کروایا گیا، اور ۲۶ ویں ترمیم کے نکات بھی زیر بحث آئے۔

اس، ساری پیش رفت میں، اگر کچھ سیکھنے کی بات ہے، تو یہ، کہ اختلاف رائے جس قدر بھی ہو، بات چیت جاری رکھی جائے،  لہجہ درست ہو، الفاظ متوازن ہوں اور چہرے پر مسکراہٹ۔

یہ تمام باتیں مولانا فضل الرحمٰن میں بدرجہ اتم موجود پائی گئیں۔ انھوں نے بات چیت سے انکار نہیں کیا، جوبھی پارلیمنٹ کی کمیٹی بنی اس میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ PTI کو بھی شرکت کرنے پر راضی کیا، فیصلے کرنے سے پہلے اپنی پارٹی کے اجلاس میں بھرپور بحث کی اور جب ایک مشترکہ موقف پر پہنچے تو اس فیصلے پر مضبوطی سے کھڑے رہے ۔

دوسرے اہم بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ، جرنیلوں کا

 ہمیشہ سے دستور رہا ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کے ممبران کی عوام میں ہتک اور بے توقیری کی جائے، تاکہ، پاکستان کے عوام فوج کے علاوہ کسی پر اعتماد نہ کریں اور یہ کام وہ خود ISPR کے میڈیا سیل کے ذریعے ، کچھ خاص TV چینلز اور صحافیوں کے ذریعے یا اپنی B ٹیم نما سیاسی جماعتوں کے بیانات کے ذریعے کرواتے رہے ہیں۔ اب آپ حافظ نعیم جو

 ایک اسلامی نظام کی داعی جماعت کے امیر ہیں نے، بغیر کسی ثبوت کے پوری پارلیمنٹ کو بکاؤ مال قرار دیکر، اپنی نوکری پوری کی۔ انھوں نے صریحاً الزام لگایا کہ آئینی ترمیم منظور کروانے کیلے ووٹوں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ اگر ایسا ہی ہورہا ہوتا تو آئینی ترمیم کو مؤخر نہ کیا جاتا بلکہ یہ کامیاب ہوجاتی

PTI کی قیادت کیلئے تو بہت کچھ سیکھنے کو ہے۔چند روز ہی پہلے خیبر پختون خواہ حکومت کے ترجمان ، بیرسٹر سیف ، مولانا فضل الرحمٰن کے متعلق بہت نامناسب زبان اختیار کئے ہوئے تھے، لیکن آج PTI کی جملہ قیادت باقاعدہ قطار میں کھڑے ہوکر مولانا سے ہاتھ ملا رہے تھے ، جبکہ سوشل میڈیا پر یوتھیے بہت غلیظ الزامات اور زبان استعمال کر کر پورے سیاسی ماحول کو زہر آلود کر رہے تھے۔

ن لیگ ، جس نے اپنی سیاست کی ابتدا ضیاالحق کے چکر باز دور سے ، چکر بازی سے شروع کی تھی آج نہ صرف اپنے سیاسی رفیقوں جس میں PPP کے علاوہ مقتدرہ بھی شامل ہے، کا اعتماد کھو رہی ہے بلکہ اپنے سیاسی مستقبل پر اپنے ہی ہاتھوں ضرب لگا رہی ہے

وما علینا الا البلاغ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے