NUKTADAAN

Reading: ‏۷۱۔ اکتائے ہوئے رہنا
Reading: ‏۷۱۔ اکتائے ہوئے رہنا

‏۷۱۔ اکتائے ہوئے رہنا

admin
6 Min Read

نکتہ داں -۷۱

۱۸ ستمبر ۲۰۲۴

اکتائے ہوئے رہنا

واقعی برادر نسبتی ہو تو ایسا، جو بڑے چاؤ سے گھر  بلائے۔ پلاؤ، کڑھائی گوشت ، کباب اور سبزیوں کی ڈش کے علاوہ دوسری لوازمات سے ڈائنگ میز کو سجائے۔ اپنے بہترین چٹکلوں اور لطیفوں سے محفل کو گل گلزار کرے اور نیٹ فلکس پر فلم دکھاتے ہوئے گرم گرم چائے اور میٹھے سے بھی تواضع کرے ۔

جی ہاں ، ہم ایسے ہی خوش قسمت واقع ہوئے ہیں۔

اس دعوت شیراز کا ذکر اس وجہ سے یاد آیا کہ اُس روز جو انڈین فلم  ہم نے دیکھی اسکا نام تھا “لاپتہ لیڈیز” ۔ بہت ہی سبق آموز اور سماجی سدھار کے موضوع پر ،اس فلم کے تمام کردار  ہندوستانی سماج کی بہترین عکاسی کررہے تھے۔

اس فلم میں پولیس انسپکٹر کا کردار ، نہایت ہی لالچی اور مکار قسم کا فرد  تھا اور برصغیر ہند و پاک میں ایسی شخصیات سے آپکا ٹکراؤ  گاہے بگا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن فلم کے اختتام میں ُاسی لالچی پولیس آفیسر کا ضمیر ایسا جاگا ، کہ وہ اپنے کردار کے بالکل بر عکس، اس قدر حلیم اور خدا ترس بن گیا  کہ اس کی ساری برائیوں کو دل بھول جانا چاہتا ہے۔

میں اس کردار پر غور کرتے ہوئے سوچنے لگا کہ ہم سب اپنے اپنے سیاسی تعصب اور نفرت پسندی کے زیر اثر ، سیاسی شخصیات کو مکمل سیاہ یا مکمل سفید پینٹ کرتے ہیں۔ ہمارے ذہن سے گرے رنگ غائب ہوچکا ہے۔ حالانکہ عام زندگی میں کوئی بھی نہ مکمل برائیوں کا پتلا ہے اور نہ مکمل فرشتہ صفت۔ ہم سب بطور انسان، اچھائیوں اور برائیوں کا ملغوبہ ہیں۔ اللٰہ رب العزت نے ہمیں ایسا ہی بنایا ہے، اور شاید اسی لئے قرآن اور حدیث میں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ تم گناہ کبیرہ اور صریح ظلم اور زیادتی سے بچے رہو گے تو اللٰہ تمھاری چھوٹی خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔

لیکن سیاسی میدان میں، ہمارے لئے، ہمارا محبوب رہنما مجسم فرشتہ اور اسکے تمام مخالف بد ترین ، نکمے ترین اور گھٹیا ترین لوگ ہیں۔ اس تعصب سے ہماری قوم کب نکلے گی، نکل بھی پائے گی کہ نہیں ۔ کیونکہ پچھلے پچاس سال سے کچھ لوگوں کیلئے بھٹو مر کر بھی زندہ ہے اور کچھ لوگ اسکے  لٹکائے جانے پر  مٹھائیاں تفسیم کرنے کے بعد بھی اسکا نام سن کر جل سے جاتے ہیں اور انکی یہ جلن، انکے الفاظ الہجے اور انکی تلخی سے واضح نظر آتی ہے

کہتے ہیں کہ سیاست میں perception is heavier than the reality یعنی گمان حقیقت پر ہاوی رہتا ہے

لیکن وقت نے یہ بات کئی مرتبہ غلط بھی  ثابت کی  ہے۔

یہاں میں تین اشخاص کی خاص طور پر مثال دینا چاہوں گا۔

۱-چودھری پرویز الٰہی پاکستانی سیاست کے ایک پرانے کھلاڑی رہے ہیں اور انکی پوری سیاست اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی سے نتھی کی جاتی ہے  اور انکے متعلق عمومی تاثر  یہی ہے کہ وہ اپنا ہر سیاسی فیصلہ پنڈی کے حکم پر کرتے رہے ہیں۔ لیکن وہی پرویز الٰہی اپنی سیاسی زندگی کے آخری موڑ پر بہت ثابت قدمی سے عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں

۲- شاہ محمود قریشی بھی ہر دوڑتی بس کے مسافر تصور کئے جاتے رہے ہیں۔وہ  تقریباً تمام قابل ذکر سیاسی پارٹیوں میں شامل رہ چکے ہیں اور عمران کی حکومت ختم ہونے کے بعد انکے متعلق بھی عام تاثر یہی تھا کہ وہ تحریک انصاف سے اب گئے کہ تب گئے۔  لیکن شاہ محمود قریشی بھی قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے، عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں

۳- مولانا فضل الرحمٰن کے متعلق بھی عمومی رائے یہی تھی کہ وہ ہمیشہ پنڈی یا حکومت وقت کا ساتھ دینے کا عذر تلاش کرنے کی مہارت رکھتے  ہیں اور سیاسی میدان میں، اپنا حصہ بقدر جثّہ لیکر ہی  ٹلتے ہیں ۔ لیکن ۲۶ ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں انھوں نے، اپنے متعلق تمام اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔ اور وہ عدلیہ کی آزادی، آئین کی سربلندی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے حکومتی منصوبے کو ناکام کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ہمیں بھی اپنے اندر تبدیلی لانی چاہئے اور ہر وقت ہر ایک کے متعلق بدظنی پھیلانے سے گریز کرتے رہنا  چاہئے

بقول منیر نیازی ہماری قوم اس عادت میں مبتلا ہوچکی ہے کہ:

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے