NUKTADAAN

Reading: ‏۷۵۔ عدلیہ لا علاج ہے
Reading: ‏۷۵۔ عدلیہ لا علاج ہے

‏۷۵۔ عدلیہ لا علاج ہے

admin
8 Min Read

نکتہ داں -۷۵

۴ اکتوبر ۲۰۲۴

عدلیہ لا علاج ہے

ڈاکٹر کی خواہش ہوا کرتی ہے کہ کوئی بیمار پڑے تاکہ اسکا مطب چلتا رہے، گورکن آس لگائے رہتاہے کہ کسی کی تو عمر پوری ہو، جبکہ پھولوں والے کی تمنا،  دلوں کے ملنے اور  گھروں کے بسنے کی ہوتی ہے تاکہ اسکے سہرے ، گجرے، ہار اور پھول بکتے رہیں۔

یہ تو باتیں پرانی تھیں ۔ نئے زمانے کی ضرورتیں کچھ اور ہی  ہیں لہذا ان ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے انداز بھی نئے  نئے اختیار کئے جاتے ہیں ،  ڈرامے بھی نئی طرح کے رچائے جاتے ہیں، طوفان بھی نئے کھڑے کئے جاتے ہیں اور سنسنی بھی معنی خیز پھیلائی جاتی ہے  تاکہ گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔

اکیسویں صدی کا دور  ، ایجادات کے ساتھ ساتھ میڈیا کا دور بھی ہے اور یہ ملٹی بلین بزنس، اپنی بھوک مٹانے کیلئے،  نہ صرف میڈیا بلکہ  سوشل میڈیا پر بھی ، لوگوں کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کیلئے، چائے کی پیالی میں بھی،  طوفان برپا کرنے کا گر جانتا  ہے۔

اور پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا ان حربوں میں کسی سے کم نہیں۔

آج کل جو طوفانی جھکڑ چلائے جا رہے ہیں اس میں سب سے زیادہ زور آئینی ترمیم کا ہے۔ ہر طرف ، ہر قسم کے خیالات کی اس قدر بوچھاڑ ہے کہ سارا آسمان ان جھکڑوں کی دھول اور  مٹی سے اسقدر گدلا ہوگیا ہے، کہ سامنے رکھی چیز بھی صحیح طرح دکھائی نہیں دیتی۔

یقیناً اس طوفان بدتمیزی کو ہوا دینے کی ابتدا  حکومتی سالاروں کی بیان بازی ، للکار اور بھڑکوں سے ہوئی اور بیوقوفانہ طرز عمل اختیار کرنے سے پسپائی کا منہ بھی دیکھنا پڑا۔

لیکن ہم،  جو خود کو پڑھا لکھا کہتے ہیں ، نے بھی ، کچھ سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ ترمیم ہے کیا،  اور اسکی ضرورت کیوں پیش آئی ؟

اگر ہم ۲۶ویں آئینی ترمیم کو، پاکستانی سیاست کی ستر سالہ تاریخ سے جدا کرکے دیکھیں گے تویہ ترمیم ایک مخمصہ نظر آئے گی۔ لیکن اگر ہماری نظر میں ، جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت، ایوب یحیٰی ، ضیا اور مشرف کے مارشل لاؤں کو جائز قرار دینے کی حکمت، آئین میں ڈکٹیٹروں کو ترمیم کرنے کی اجازت ، بھٹو کے عدالتی قتل کی اہمیت،  جسٹس افتخار چودھری کی خواہش پر، نئے ججوں کی تقرری بھی عدلیہ کے ہاتھ میں رکھنے کی حجت، اور دنیا کے جمہوری ممالک کے نظام عدل سے پاکستانی عدلیہ کی مطابقت کی خواہش رکھتے ہوں ، تو آپکو دال میں کچھ اتنا کالا بھی نہیں لگے گا کہ جتنا شور مچایا جا رہا ہے

اختلاف محض طریقہ واردات پر ہونا چاہئے اور بس۔

سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آئینی عدالت کا خیال آج کی پیداوار نہیں ہے۔ اسکی ضرورت آج سے 18 سال پہلے 2006 میں محسوس کرلی گئی تھی ۔ اس ہی میثاق جمہوریت میں تمام سیاسی جماعتوں نے، جرنیل اور ججز کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کیلئے اس پر عمل کرنے کا عہد کیا ہوا تھا

آئینی عدالت کے قیام  کے متعلق ،میری ناچیز رائے یہ ہے، کہ پنجاب کے عوام،  اس ترمیم  کی سب سے بڑھ کر حمایت کریں۔ وجہ اس کی یہ ہے، کہ اب وقت آگیا ہے، کہ پاکستان کے تمام مسائل کو خواہ مخواہ  پنجاب کے کھاتے میں ڈالنے کی مدافعت کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ آئینی معاملات میں پنجابی ججز کا کردار بہت مایوس کن رہا ہے اور وہ جمہوریت کا ساتھ دینے کے بجائے ہر ڈکٹیٹر کی گود میں بیٹھے رہنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔

مجوزہ آئینی عدالت، اس الزام سے آئندہ پنجابی ججز کے دامن کو داغدار نہیں کرسکے گی، کیونکہ آئینی عدالت میں ججز کی تقرری، تمام صوبوں سے سینیٹ کے طرز پر برابر برابر ہوگی اور اس عدالت کا چیف جسٹس کا عہدہ  تمام صوبوں میں باری باری گردش کرتا رہے  گا۔ اس عمل سے صوبائی منافرت کو دفن کیا جاسکتا ہے۔

ججوں کی تقرری کرنے پر بھی کسی ادارے کی اجارداری نہیں ہونی چاہیے اور دنیا کے سارے جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ امریکہ میں بھی گو امریکی صدر سپریم کورٹ کے ججز کا نام تجویز کرتا ہے لیکن تقرری ، بنا سینیٹ کی منظوری کے ہو ہی نہیں سکتی۔اس کی مثال چند ماہ پہلے ہی نظر آئی۔صدر بائیڈن نے ایک پاکستانی نژاد  وکیل عدیل عبداللٰہ منگی جنکا تعلق لاڑکانہ سے ہے کو جج  کیلئے نامزد کیا۔ یہودی لابی نے انکی تقرری کی مخالفت کی، لیکن انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور امریکی سینیٹ نے عدیل عبداللہ منگی کی تقرری کے حق میں منظوری دیدی۔

ہماری سیاسی برادری میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تاریخی طور پر ہر مشکل مرحلے پر ، آپکو دوسری طرف کھڑے نظر آئیں گے ۔

کبھی انھیں یحییٰ خان سے اسلامی آئین کی امید لگی  ہوتی ہے، کبھی وہ پہلے احتساب، پھر انتخاب کا نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں، کبھی  آپ انھیں وہ جوق در جوق ، ضیائی ریفرنڈم میں ٹھپے لگاتے دکھیں گے اور آجکل چونکہ وہ خود اسمبلی میں نہیں اس لئے انھیں پارلیمنٹ روپئے پیسوں سے خریدی ہوئی منڈی نظر آتی ہے۔  انکی سمجھ کے مطابق اگر پارلیمنٹ کی نشستیں نوٹوں کی گڈیوں سے خریدی جاسکتیں تو PPP  تین صوبوں سے  باہر دھکیلی نہیں جاسکتی تھی ، آج مسلم لیگ اپنے سیاسی گڑھ پنجاب میں، اپنی سیاسی بقا کیلئے تگ و دو نہیں کر رہی ہوتی اورپھر آج بھی  MQM کراچی اور حیدرآباد کی بے تاج بادشاہت پر قابض ہوتی۔

جن باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ، ججوں کا تقرر ، چاہے صوبوں کی ہائیکورٹس کا ہو، سپریم کورٹ کے ججوں کا یا آئینی عدالت کے ججوں  کی تقرری پر کسی ادارے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے۔ انکی تقرری دنیا میں رائج طریقے یعنی، عدلیہ ، وکلا اور پارلیمنٹ کی کمیٹی مشترکہ مشاورت اور معیار کے طے شدہ اصولوں کے مطابق منظوری سے ہونی چاہئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہماری عدلیہ بھی دنیا کے عدالتی نظام کے ہم پلہ بن سکتی ہے

وما علینا الا البلاغ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے