NUKTADAAN

Reading: ‏۷۸۔ ۲۶ آئینی ترمیم
Reading: ‏۷۸۔ ۲۶ آئینی ترمیم

‏۷۸۔ ۲۶ آئینی ترمیم

admin
9 Min Read

نکتہ داں -۷۸

۲۱ اکتوبر ۲۰۲۴

*۲۶ویں آئینی ترمیم*

گو ۲۶ویں آیئنی ترمیم، خدا خدا کرکے پاس تو ہوگئی ، لیکن اس پر تبصرہ کرنا، گویا بِھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کا عمل ہوگا۔ کیونکہ پچھلے ایک مہینے سے ہر مکتبہ فکر اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مجاوروں نے عموماً اور میڈیا و سوشل میڈیا نے خصوصاً وہ دھول اڑائی ہے کہ ہر واضح چیز غیر واضح دکھائی دے رہی ہے۔

لہذا اس ترمیم کے فائدے یا نقصانات کی بحث سے ہٹ کر، میں وہ باتیں یاد دلاؤں گا جس کا حد سے زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا لیکن وہ غلط ثابت ہوئیں۔

سب سے زیادہ جو بات پھیلائی گئی وہ یہ تھی کی جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی مدت ملازمت بڑھانے کیلئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا کے شتر بے مہار کرداروں نے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے متعلق ایک طوفان بد تمیزی و بد تہذیبی مچائے رکھا۔ لیکن قاضی فائز عیسٰی الحمد للٰہ اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت سے ایک دن بھی زیادہ نہیں رکیں گے اور اپنے عہدے سے ریٹائر ہوکر اپنے گھر سدھاریں گے

کیا ہمارے سوشل میڈیا کے کسی کردار  کو اپنے اس رویے پر شرمندگی ہوئی ہے ؟

مولانا فضل الرحمٰن کے متعلق عمران خان کا خصوصاً اور تحریک انصاف اور اسکے چاہنے والوں کا جو عامیانہ رویہ تھا اس میں ہتک، بد تہذیبی، بد کلامی اور الزام تراشی کی تمام حدود پھلانگی جا چکی تھیں۔ اور پھر مجھے رب العزت نے وہ مناظر بھی دکھائے جب قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے قائدین قطار لگا کر مولانا سے مصافحہ کرتے نظر آئے اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ پریس کانفرنس میں نہ صرف یہ اقرار کیا کہ ہم مولانا کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہم سے مشاورت کی اور ہمارا اس ترمیم پر اتفاق ہے لیکن ہم احتجاجا ۲۶ویں ترمیم کو پاس کرنے کے عمل سے علیحدگی اختیار کریں گے کیونکہ ہمارا لیڈر ناجائز طور پر قید کیا گیا ہے

اس عمل سے ہم پر یہ بات واضح ہو جانی چاہئے کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک کبھی بھی نہیں لیجانا چاہئے کہ مستقبل میں سبکی اٹھانی پڑے۔ سیاست میں دروازے ہمیشہ کھلے رکھے جاتے ہیں بند نہیں کئے جاتے  ۔ فتح مکہ سے قبل، حضور اکرم نے سردار قریش ابو سفیان سے مذاکرات کئے اور حکم جاری کیا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر پناہ لیگا اس کیلئے معافی ہے، یہ وہ ابوسفیان ہے کہ جس نے مدینہ پر پے در پے حملے کئے تاکہ مسلمانوں کا نشان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے

کیا ہمارے جغادری جو سیاست میں اسلام کا تڑکا لگاتے ہیں اس حقیقت سے ناآشنا ہیں ؟

اس ترمیم کی کامیابی کا سہرا کس کے سر لگایا جائے ؟

میرے خیال میں حکومت تو ترمیم کے پیش کرنے سے پہلے ہی ناکام ہو گئی تھی اور اس نے اپنے ہاتھ اٹھا کر، یہ کام بلاول بھٹو زرداری کے سپرد کردیا۔

لیکن دراصل یہ جیت جمہوری رویوں کی ہے، یہ جیت بات چیت پر بھروسہ رکھنے کی ہے اور یہ جیت انا پرستی کو اٹھا پھینکنے کی ہے

۲۶ ویں ترمیم کو بات چیت کے عمل سے تکمیل تک پہچانے  میں بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن نے اپنا اپنا لوہا منوا لیا ہے

مجھے اس پورے عمل سے قدرے بے متعلق رہنما حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر حیرت ہوئی ، انھوں نے پارلیمان کی متفقہ  آئینی کمیٹی جس میں تمام سیاسی پارٹیوں بشمول PTI پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مقتدرہ جب چاہتی ہے تو وہ سب سیاسی جماعتوں کو ایک جگہ بٹھا دیتی ہے۔اور ان سب کا ھدف عدلیہ کے پر کاٹنا ہے ، موصوف شاید ان تمام ججز کی وکالت میں یہ بیان دے رہے تھے کہ جنھوں نے جسٹس منیر سے لیکر جسٹس بندیال تک ہمیشہ جمہوریت مخالف فیصلے کئے۔ انکا  یہ بیان کسی تبصرے کے بھی لائق نہیں  ہے

 اس ترمیم کی افادیت یا نقصانات کی بات کرنا، بہت مشکل عمل ہے

میری ذاتی رائے میں، پاکستانی سیاسی اور عدالتی تاریخ  کو نظر انداز کرکے اس ترمیم کو دیکھنا، ہی سب سے بڑی غلطی ہے۔

کیا ہم اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ جسٹس منیر سے لیکر پچھلے ستر سالوں میں عدلیہ کا کردار جمہوریت کش  رہا ہے؟

کیا ہماری اعلٰی عدلیہ کے معزز ججز ، ہر ڈکٹیٹر کے PCO کے تحت حلف نہیں اٹھاتے رہے ؟ جرنلوں کے غیر آئینی اقدامات کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز  نہیں قرار دیتے رہے ؟

 ڈکٹیٹروں کو آئین میں ترمیم کا حق کس نے دیا ؟ ڈکٹیٹر کو وردی میں صدارت کا الیکشن لڑنے کی اجازت کس نے دی اور پھر دھمکی سے عدالتی فرعون بن کر، ججز کی تقرری بھی بغیر کسی جوابدہی کے اپنے ہاتھوں میں کس نے لی؟

 پنڈی کے ایما پر دو وزیراعظموں کو کس نے گھر بھیجا۔ اور کیا اس سلسلے کو یونہی جاری رہنے دیا جائے یا، وہ طریقہ اپنایا جائے کہ جیسا مختلف جمہوری حکومتوں میں رائج ہے

اگر جمہوریت کا استحکام ہی ہمارا ھدف ہے تو اس ترمیم کی افادیت بھی سمجھ میں آنی چاہئے

کیا اس ترمیم کی ضرورت آج ہی پیش آنی تھی

نہیں ایسا نہیں ہے۔ اس ترمیم کو ۱۸ویں ترمیم کے ساتھ ہی منظور ہوجانا چاہئے تھا لیکن اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری اور مسلم لیگ کی اس وقت کی عدالتی ضرورتوں نے یہ عمل ناکام بنا دیا ۔ اب چونکہ مسلم لیگ اونٹ کے پاؤں تلے ہے لہذا یہی بہترین وقت تھا۔

میری ناقص رائے میں اس ترمیم کا حصہ نہ بنکر سب سے زیادہ گھاٹا تحریک انصاف نے اٹھایا ہے۔ اگر وہ عمران خان کی رہائی  اور  اپنے کارکنوں کے مقدمات کو ختم کرنے کی شرط راضی ہونے کا عندیہ دیتے تو  عمران خان کے رہا ہونے سے تحریک انصاف میں نئی جان پڑ سکتی تھی اور کارکنوں کے ولولے بھی بڑھائے جاسکتے تھے

ایک اچھا سیاستدان ، جسکی مخالفت میں ایک نہیں کئی ادارے یا عوامل موجود ہوں، وہ اپنی سیاسی پلاننگ ہر ایک سے ایک ہی وقت میں بھڑ جانے کی کبھی نہیں کرے گا۔ وہ ہر مخالف ادارے کو رفتہ رفتہ ایک ایک کر کے چت کرکے ہی حقیقی جمہوریت کی منزل پا سکتا ہے۔

۷۳ کا آئین ڈکٹیٹروں کو مات کرنے کا پہلا قدم تھا، اٹھارویں ترمیم دوسرا۔

لہذا سوچا یہ گیا کہ موجودہ حالات میں ڈکٹیٹروں سے وقتی صرف نظر کرکے انکے حاشیہ بردار ججوں کے معاملات پہلے درست کئے جایئں ۔ اس عمل کی تکمیل سے سیاسی استحکام حاصل ہوگا اور سیاسی استحکام کے طفیل معاشی استحکام کی طرف بڑھ پائیں گے۔ میرا سیاسی وجد مجھے بتاتا ہے  کہ سیاسی اور معاشی استحکام کے بعد دھیان جرنلوں کی طرف ہوگا۔ انشااللٰہ

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

ہم دیکھیں گے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے