NUKTADAAN

Reading: ‏۸۳۔ دوڑائیں ضرور،لین اپنوں کو نہیں
Reading: ‏۸۳۔ دوڑائیں ضرور،لین اپنوں کو نہیں

‏۸۳۔ دوڑائیں ضرور،لین اپنوں کو نہیں

admin
6 Min Read

نکتہ داں – ۸۳

۱۴ نومبر ۲۰۲۴

دوڑائیں ضرور،لین اپنوں کو نہیں

مصروفیت اس قدر ہے، کہ لکھنے کا موڈ ہر گز نہیں تھا، لیکن عمران خان کی بہن ، محترمہ علیمہ خان، کے اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کے بعد، عمران خان کے حکم پر ، ۲۴ نومبر سے ، پورے پاکستان میں،  PTI کی طرف سے، فائنل احتجاجی کال کے اعلان اور اسی موضوع پر خیبر پختون خواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف اور وزیر اعلٰی امین گنڈا پور کے بیانات نے مجبور کیا، کہ حالات کا ایک سنجیدہ تجزیہ کیا جائے۔ لیکن عمران خان کے اس وقت *فائنل احتجاجی کال* دینے کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان، کے صبر، برداشت اور ہمت، شاید اب جواب دے رہے ہیں، اس ہی لئے، حالات سے تنگ آکر، یہ آخری داؤ آزمایا جا رہا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں کہا ہے  کہ احتجاج کی فائنل کال کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور فائنل کال اتنی شدید ہوگی کہ شاید مریم نواز واپسی موخر کرکے وہیں رہنے میں عافیت سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کی فائنل کال جعلی حکومت کے جنازے کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور خود تمام تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور صرف بانی پی ٹی آئی کی فائنل کال کا انتظار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت کچھ بھی کرے ان کا آخری وقت قریب ہے، فائنل کال کے بعد ملک میں آئین و قانون کا بول بالا ہوگا، جعلی مقدمات کا خاتمہ اور عمران خان کی رہائی سمیت مینڈیٹ چوروں کا کڑا احتساب ہوگا۔

آپکی یاد دہانی کیلئے عرض ہے  کہ 9 نومبر کو صوابی جلسے میں علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ عمران خان اس ماہ احتجاج کی کال دیں گے تو ہمیں سروں پر کفن باندھ کر نکلنا ہوگا اور اس بار بانی پی ٹی آئی کو رہا کرا کر دم لیں گے۔

احتجاج کرنا، ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے اور اس حق سے کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جاسکتا

لظاہری بات ہے کہ اس احتجاج کے دو ہی  نتیجے  نکل سکتے ہیں۔

۱- یا تو یہ احتجاج کامیاب ہوگا اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے تمام اھداف ، جن میں موجودہ حکومت کا خاتمہ، عمران خان کی رہائی اورتمام سیاسی مقدمات کا خاتمہ ہوجائے گا اور ملک میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوجائے گی۔

۲- یا دوسرا ممکنہ نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ، عوام، گو عمران خان اور تحریک انصاف کے بے حد حامی ہیں لیکن، وہ احتجاج کی کال پر ، بہت بڑی تعداد میں باہر نہ نکلیں ۔ احتجاج تو ہوگا لیکن اتنا پر زور نہیں کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے اوپر بیان کئے گئے تمام اھداف حاصل کر لئے جائیں

اگر احتجاج محترم امین گنڈا پور کی امیدوں کے مطابق ہوا تو پھر “ بلّے بلّے “ ہوگی لیکن اگر ایسا  نہ ہو سکا تو۔۔۔۔

تو، تحریک انصاف اور اسکے رہنماؤں اور چاہنے والے کارکنوں کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں لائے گا۔

آئیے، ہم  تاریخ کے آئینے میں جھانک کر، احتجاج کی وجہ سے حکومتوں کے خاتمے کے واقعات پر نظر ڈال لیں۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ کبھی بھی،  کسی اکیلی سیاسی جماعت نے، حکومت وقت کے خلاف احتجاج  کو نتیجہ خیز  نہیں بنایا۔ احتجاج اس ہی وقت زور پکڑتا ہے، جب، ایک نہیں،  بلکہ کئی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ملکر ، حکومت وقت کے خلاف تحریک چلائے۔ لیکن اس میں بھی کامیابی اسی وقت ملتی ہے، جب اس احتجاج کے پیچھے کوئی غیبی خاکی طاقت،اور کہیں سے ڈالروں کی بارش اور اس خطہ ارض میں ، کوئی بین لااقوامی ضرورت موجود نہ ہو !

لیکن ان تمام محرکات کی موجودگی کے باوجود بھی، تبدیلی کا فائدہ، کبھی بھی سیاسی قوتوں کو نہیں ملا، فائدہ صرف اس ادارے کا ہوا ہے جو ہمیشہ سے فائدے ہی میں ہے۔

ایوب کے خلاف احتجاج  کا فائدہ ، یحییٰ خان کو ملا۔ بھٹو کے خلاف ہنگامے ، ضیاءالحق کے فائدے کا سبب بنے اور نوزشریف کی جلد بازیاں، مشرف کو اقتدار میں لیکر آئیں۔

میں اپنے طور پر کوئی حتمی پیشین گوئی کرنے کے بجائے، آپ کی ذہانت، سمجھ اور دوراندیشی پر انحصار کرنا بہتر سمجھتا ہوں کہ آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ عمران خان کا یہ سیاسی فیصلہ بھی ماضی کے دیگر فیصلوں کی طرح غلط ثابت ہوگا ، یا اس بار ، نتیجہ ، ماضی کے مقابلے میں مختلف ہوگا ؟؟؟

ہاں یہ میں کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان نے اب تک، اور کسی کو دوڑایا ہو کہ نہ ہو،لیکن اپنے چاہنے والوں کو خوب دوڑایا ہے، کبھی  اھتجاج کی کالیں دیکر،کبھی حکومتوں سے استعفے دیکر یا پھر بار بار جلسے کر کرکے

تھکا کر رکھ دیا ہے اپنے چاہنے والوں کو۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے