نکتہ داں -۹۱
۲۱ جنوری ۲۰۲۵
حل تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مزاکرات میں ہے اور بس
فرمایا: قاضی صاحب، پاکستان کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کو ۱۴ سال قید اور اسکی شریک حیات کو ۷ سال تک پابند سلاسل کردیا گیا اس پر آپ خاموش ہیں، اس کی وجہ ؟
میں نے کہا، کہ بھائی، ایمانداری سے بتاؤ، کہ اس فیصلے پر پوری قوم کا رد عمل مشترکہ ہے ، یا ہر کوئی اپنے اپنے سیاسی پس منظر اور اپنی اپنی محبت کے زیر اثر، اپنا اپنا موقف اپنائے ہوئے ہے۔کسی کیلئے یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا غبن تھا اور کوئی اس بات پر یقین رکھے ہوئے ہے کہ یہ مقبول عام سیاستدان کو عوام سے دور رکھنے کا حربہ ہے۔ پچھلی نصف صدی میں کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی پر بھی کچھ لوگ خون کے آنسو بہا رہے تھے اور کچھ، بغلیں بجا رہے تھے۔ بلکہ بعض جبہ و دستار پہنے ہوئے لوگ تو اس پھانسی کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے تعبیر کر کے مٹھائیاں باٹ رہے تھے۔
قوم پہلے بھی بٹی ہوئی تھی اور آج بھی سیاسی طور پر تتر بتر ہے۔ یہی کچھ ہماری مقتدرہ کا ھدف ہے اور اس مقصد میں وہ پہلے بھی کامیاب تھے اور آج بھی ہیں۔ انکا طریقہ واردات بھی اب ہر ایک پر واضح ہوچکا ہے اور ہر کوئی انکے فارمولے کو جان چکا ہے کہ سب سے پہلے آپ کرپشن کرپشن کی دھول اڑائیں، پھر اپنے زیر اثر، مختلف اخبارات ، ٹی وی چینلز کے اینکرز اور میڈیا کے ذریعے عدالتی کاروائی سے بہت پہلے ، میڈیا ٹرائل کروا کر ، لوگوں کے ذہن بنائیں۔ پھر مختلف لکھاریوں اور اپنے زیر اثر ، بازاری زبان بولنے والے سیاستدانوں کے ذریعے ایک نفرت اور بد تہذیبی کا ماحول بنائیں۔ اور اس عمل کو، تواتر سے دہراتے جائیں ۔
جب آپ یہ عمل، پچھلے ۷۰ سالوں سے، ( بنا کسی روک ٹوک کے) کرتے رہیں گے تو ملک کا وہی حال ہوگا جسے آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔
میں اس مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر کوئی حتمی رائے دینے کا اہل تو ہرگز نہیں ہوں ،یہ کام قانون دانوں کا ہے، لیکن میری رائے اس بات پر ضرور ہے کہ جس بات پر پوری قوم متفق ہے وہ کچھ یہ ہے کہ:۔
جی ہاں، پوری قوم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رقُم کرپشن کی تھی، اور کرپشن کرنیوالا شخص *ملک ریاض* ہے۔ اور ملک ریاُض کی دوستی جرنلوں سے بھی ہے، ن لیگ کے اشراف سے بھی، پیپلز پارٹی کے زرداری سے بھی اور عمران خان کے انصاف پسندوں سے بھی۔
لیکن ہمارے عوام کے تبصروں، میڈیا کی خبروں، ٹی وی اینکروں کی بحثوں ، سوشل میڈیا کے ترجمانوں، وی لاگ اور یو ٹیوب کے صحافیوں، مختلف جماُعتوُں کے سیاسی رہنماؤں اور حکومتی ترجمانوں کی زبان پر ملک ریاض کا کہیں ، کوئی ذکر ہے ہی نہیں۔
یہی اس قوم کا سب سے بڑا المیہ ہے، کہ ہم سیاسی نفرتوں میں اتنے آگے چلے گئے ہیں کہ
ہماری ساری ،عقل ، دانش، طاقت، فلسفہ، دلیل اور اخلاقی درس، اپنے مخالف سیاسی جماعت کو نیچا دکھانے میں ہی صرف ہوتا ہے لیکن اصل مجرم ہماری نگاہوں کے سامنے لوٹ مار کرکے جیبیں بھر رہا ہے لیکن ہم سیاسی نفرتوں کے اسیر، اس سے بے دھیان ہیں۔
مجھے دیکھنا یہ ہے کہ جرنل فیض حمید کو کیا سزا ہوتی ہے۔
مجھے بار بار مرحومہ عاصمہ جہانگیر کا قول یاد آتا ہے، کہ جب جرنیلوں کی اصل کرپشن کے راز اس قوم پر کھلے تو یہ سارے سیاسی لیڈر آپ کو فرشتے نظر آئیں گے۔
پوچھا: تو قاضی صاحب اس صورتحال سے نکلنے کا حل کیا ہے ؟
میں نے انھیں تاریخ کا وہ گوشہ یاد دلایا، کہ جب محمد خان جونیجو، بظاہر کمزور تھا، لیکن اس کا جمہوریت کی طاقت پر پورا یقین تھا، اس نے بینظیر بھٹو کی سیاسی طاقت سے ڈرنے کے بجائے اس کی طاقت کو ڈکٹیٹر کو کمزور کرنے کیلئے استعمال کیا۔ آج بھی اگر آپ غور کریں، ماضی قریب میں، جرنیل ، تحریک انصاف کے، صرف مقتدرہ کے ساتھ بات کرنے کے مطالبے کو بڑے تکبر سے رد کردیا کرتے تھے۔ اور جیسے ہی، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات چیت شروع ہوئی ، جرنیلوں کو اپنے پاؤں تلے زمین کھسکتی نظر آئی اور فوراً عاصم منیر نہ صرف پشاور پہنچے بلکہ بیرسٹر گوہر خان سے بھی ملاقات کی۔
اس پیش رفت پر جب ن لیگ نے مخالف بیان بازی شروع کی، تو جرنیلی ترجمانوں نے ن لیگ کے سامنے صفائیاں پیش کرنی شروع کر دیں کہ وہ تو بس سرسری سی ملاقات تھی وغیرہ وغیرہ
اس پوری صورتحال سے نکلنے کا صرف ایک حل ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ، دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے آپس میں گفت شنید شروع کرکے تمام فیصلے اپنے ہاتھوں میں لیں۔ ایک دوسرے کی ہتک کرنے کے بجائے ایک باہمی احترام کا ماحول پیدا کریں اور آج کے حالات سے نکلنے کیلئے، کل کی منصوبہ بندی کریں تاکہ آئندہ الیکشن میں انتخابی نتائج سے کسی کو کھیلنے کی جرات ہی نہ ہو۔ اور جرنیلوں کو جرات آپکے آپس کے اختلاف سے پیدا ہوتی ہے، آپکا اتحاد ہی اس کا بہترین توڑ ہے۔ لیکن یہ بات نہ ن لیگ سمجھ آتی ہے اور نہ تحریک انصاف کو۔
خالد قاضی