NUKTADAAN

Reading: ‏۹۲۔ مٹی پاؤو

‏۹۲۔ مٹی پاؤو

admin
5 Min Read

نکتہ داں-۹۲

۲۴ جنوری ۲۰۲۵

مٹی پاؤو

پوچھا کہ قاضی صاحب آپ یہ فرمارہے ہیں کہ ملک ریاض کے رابطے ہر ایک سے ہیں۔ تو پھر اسکے خلاف نیب کی تفتیش کی خبریں کیوں گردش کر رہی ہیں ؟ 

جواباً میں نے عرض کی کہ اس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ ملک ریاض،  ن لیگ کا بھی انتا ہی چہیتا ہے، جتنا زرداری کا لاڈلا۔ تحریک انصاف سے بھی اس نے پینگیں بڑھا لی ہیں جبکہ  تمام میڈیا گروپ اسکے گھر کی باندی  ہیں اور جرنیلوں سے دیرینہ تعلقات ، ہی کی، وجہ سے اسکا کاروبار پھلا پھولا۔ اور اب حال یہ ہے کہ جو بھی جرنیل ، فوج سے ریٹائر ہوتا ہے اسے اچھے خاصے مشاہرے اور دیگر سہولیات پر ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ میں نوکری دے دیتا ہے۔ بلکہ جاننے والے بتاتے ہیں کہ جب ملک ریاض کا کوئی بہت جگری دوست یا قریبی رشتہ دار، اسکے دفتر، ملنے آتا ہے، تو ملک ریاض اسے آنکھ مار کر کہتے ہیں کہ چائے، میجر جرنل کے ہاتھ کی بنی ہوئی پیو گے یا لیفٹیننٹ جرنل کے ہاتھ کی بنی ہوئی۔ 

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ جرنیلی کمپنی اسے کسی طرح گھیرنے کے چکر میں لگی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں اسکی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو سیاسی ضرورت۔ 

دوسری کاروباری مسابقت۔

سیاسی ضرورت اس وجہ سے کہ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیر   کے آرمی چیف بننے کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ وہ اور اسکی بیرون ملک سے چلائی جانے والی سوشل میڈیا ٹیم،  گاہے بگاہے، اسٹیبلشمنٹ پر عموماً اور جرنل عاصم منیر پر خصوصاً زہریلی تنقید کرتے چلے آئے ہیں ۔ اور موجودہ پس پردہ رابطوں کے باوجود بھی تحریک انصاف کے اس رویے میں کمی نہیں ہوئی۔ 

ہماری مقتدرہ کے خیال میں، عمران خان پر گرفت قانوناً مزید سخت کی جاسکتی تھی اگر اس میں ملک ریاض مدد فراہم کرتے۔ یعنی عمران خان پر الزام کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جاتے۔ ملک ریاض یہ کام کرنے کو ہرگز تیار نہیں

کاروباری مسابقت، پچھلی دہائی میں شروع ہوئی ہے۔ پاکستان کے ہر ذی شعور ، یہ بات جانتاہے کہ ملک کے طول عرض پر سب سے بڑی ہاؤسنگ اسکیم یا DHA ہے یا پھر بحریہ ٹاؤن۔ یہ دونوں اسکیمیں، ملک کے تمام بڑے شہروں میں ، اپنے اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کو  چھیڑے بغیر جاری ہیں ۔ لیکن کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے نے اس باہمی بندر بانٹ میں رخنہ پیدا کردیا۔ کراچی سے حیدرآباد جاتے ہوئے بحریہ ٹاؤن ہائی وے کے بائیں طرف پہلے آتا ہے اور DHA اسکے بعد دائیں جانب ہے۔ DHA کا پروجیکٹ قریباً چالیس سال پرانا ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی عمر DHA سے آدھی بھی نہیں، لیکن بحریہ ٹاؤن کا DHA کے مقابلتاً شہر سے قریب ہونے، اسکے تعمیراتی اور ٹاؤن پلاننگ کی جدت، خوبصورتی ، اسکی مساجد کی تزئین ، سڑکوں کی کشادگی، چوراہوں کی خوبصورتی ، اسٹیڈیم ، عیدگاہ اور دیگر سہولتوں کی وجہ سے DHA عوام کی وہ توجہ حاصل نہیں کرسکا جو بحریہ ٹاؤن حاصل کرچکا ہے۔ عوام میں بحریہ ٹاؤن کے متعلق بد دلی پھیلانے کیلئے ہماری مقتدرہ کئی کوششیں کر چکی ہے جو بار آور ثابت نہ ہو سکیں ہیں۔ لہذا ہمارے جرنل اپنی عادت سے مجبور ہو کر دوسرے ہتھ کنڈے جو وہ سیاسی کارکنوں ، بلوچوں ، پشتونوں اور سندھی قوم پرستوں کے علاوہ میڈیا کی آزادی کے متوالوں کے خلاف  استعمال کرتے آئے ہیں وہ یہاں پر بھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ملک ریاض ایک گھاگ انسان ہیں، انھوں نے اپنے حالیہ بیان میں دھمکی دی ہے کہ میں مقتدرہ کی پچھلی کئی دہائیوں کی سازشوں کا چشم دید گواہ ہوں اور وہ تمام دستاویزی ثبوت میں طشت از بام کردوں گا اگر مجھے مزید چھیڑا گیا۔ 

میرے خیال میں یہ معاملہ بہت جلد دب جائے گا کیونکہ اس معاملے کو طول دینے میں کمپنی کی عزت مزید خراب ہوگی۔ مقتدرہ کے موجودہ اور ریٹائرڈ لوگوں کی رائے یہ ہوگی کہ عمران خان نے جرنیلوں کی مٹی کچھ کم پلید کی ہے جو پھر  ملک ریاض کو چھیڑ کر مزید دھول اڑائی جائے۔ لہذا  *مٹی پاؤ *

*ایس لئی تسی وی مٹی پاؤ*

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے