NUKTADAAN

Reading: ‏۹۳۔ گلشن کا کاروبار
Reading: ‏۹۳۔ گلشن کا کاروبار

‏۹۳۔ گلشن کا کاروبار

admin
6 Min Read

نکتہ داں-۹۳

۲۷ جنوری ۲۰۲۵

گلشن کا کاروبار

دنیا میں سکون نام کی چیز ناپید ہو گئی ہے۔ ایک تنازع  ابھی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سر اٹھانے لگتا ہے۔ اور ہمارا خطہ تنازعات کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اسکی وجہ علاقائی برتری کا حصول اور تیسری عالمی جنگ کی صورت میں دنیا کی طاقتوں کے درمیان، ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بندی کی منصوبہ بندی ہے۔

چونکہ افغانستان کے اوپر روس اور ایک طرف چین اور دوسری طرف ایران ہے، اس لئے امریکی عسکری منصوبہ ساز اس خطے میں کسی نہ کسی طرح اپنا اثر رسوخ برقرار رکھنے کیلئے بے چین رہتے ہیں۔ گو،  بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان کے طویل اور مہنگے قبضے سے نجات حاصل کرکے اپنی افواج کا انخلا کردیا۔ کیونکہ یہ قبضہ امریکی معاشی انجن کو زنگ آلود کر رہا تھا۔  لیکن ٹرمپ اپنے انتخابی معرکے میں بائیڈن کے عجلت میں امریکی افواج کے انخلا پر کڑی تنقید کرتا رہا ہے۔ 

دو خبروں نے مجھے چونکا دیا، اسی لئے اس موضوع پر لکھنا ضروری سمجھا۔

پہلی وجہ، باخبر صحافی سہیل وڑائچ کا انگریزی روزنامہ دی نیوز میں مضمون ، کہ جس میں انھوں نے افغانستان میں امریکی مہم جوئی کی پیشین گوئی کی ہے۔ لیکن ، دوسری وجہ، ٹرمپ کی انتظامیہ کے سکریٹری آف سٹیٹ، مارکو روبیو کی یہ دھمکی کہ ہم طالبان قیادت کے سر کی قیمت، اسامہ بن لادن سے بھی بڑھ کر لگا سکتے ہیں نے،  مجھے اس معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کا موقع دیا۔

یہ بات بھی درست ہے کہ ٹرمپ اپنی افواج کا دنیا کے مختلف خطوں میں معرکہ آرائی کے خلاف ہے لیکن، طالبان کی قیادت میں، چین کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے توڑ کیلئے وہ افغانستان میں حکومت کے خلاف بے چینی کو ہوا دے گا اور کٹر طالبانی قیادت کو حیلے بہانے سے اپنے ڈرون حملوں سے ہدف بنائے گا

سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کا بیان اسی منصوبے کو واضح کرتا ہے۔

ظاہری بات ہے، اس کام کیلئے، امریکہ کو، ہمارے عسکری منصوبہ سازوں کی ضرورت پڑے گی۔ پنڈی میں تو گزشتہ امریکی انخلا کے بعد یہی غزل بار بار بج رہی تھی  کہ

 “چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے”

یعنی ڈالروں کی ریل پیل۔ 

لہذا لگتا ہے پنڈی کے گلشن کا کاروبار چلنے کو ہے۔

لیکن پھر پاکستان میں بھی طالبان کاروائیوں میں مزید اضافہ نظر آسکتا ہے

ہماری حکومت، اس پیش رفت کو اپنی اقتصادی بدحالی کو دور کرنے کیلئے کیا کرتی ہے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے

اگر اس منظر نامے میں کچھ صداقت ہے تو آپ جلد ہی امریکی اور پاکستانی عسکری قیادت کے مشترکہ دورے دیکھ سکیں گے

پاکستان کے سیاسی حالات اس پیش رفت کے بعد کیسے ہونگے ، اس بات کو سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔

اسی لئے PTI کے دوستوں کو میرا اول و آخر مشورہ یہی رہا ہے کہ اپنے ملک کے معاملات، ملکی طاقتوں ہی سے بات چیت کرکے درست کئے جائیں ۔ کوئی دوسرا ملک ، آپ کے معاملات میں اتنا ُسنجیدہ ہرگز نہیں ہوگا۔ ہاں عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو وہ اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ایک حربے کے طور پر ضرور استعمال کرے گا۔ ورنہ، امریکہ کی انصاف پسندی کا نعرہ محض نعرہ ہے ، اور اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے

اس تمام صورتحال کے برعکس، عمران خان نے محاذ آرائی کی سیاست کو دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔  گزشتہ اپریل ۲۰۲۲ سے اب تک محاذ آرائی سے کیا حاصل کیا ؟ اب بات چیت کے دو دور ہوئے تھے اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی رہائی اور مشکلات میں کمی کے کچھ آثار نظر آئے تھے لیکن پھر اچانک کیا ہوا کہ بات چیت سے ہاتھ اٹھا لئے گئے۔ اسمبلی میں بھی یہی کچھ دوبارہ نظر آرہا ہے

مجھے منیر نیازی کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ

کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن

کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی

لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب تک عمران خان جیل میں ہیں، اس حکومت کی ساکھ، اسکا اعتماد اور اسکا وجود متزلزل ہے اور رہے گا۔

شہباز حکومت میں اگر ذرہ برابر سیاسی دانشمندی ہو، تو اسے کوئی بہانہ بنا کر عمران خان کو آزاد کردینا چاہئے۔ عمران خان سے ڈرے عسکری قیادت، سیاسی لوگوں کو اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ عقلمندی یہ ہوگی کہ عمران خان کی عوامی حمایت کو حکومت عسکری سیاسی مداخلت کے خلاف استعمال کرے، لیکن اس میں کچھ سیاسی سوجھ بوجھ  عمران خان میں بھی ہونی  چاہئے

وما علینا الا لبلاغ 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے