NUKTADAAN

Reading: ‏۹۴۔ افہام و تفہیم کا آغاز
Reading: ‏۹۴۔ افہام و تفہیم کا آغاز

‏۹۴۔ افہام و تفہیم کا آغاز

admin
6 Min Read

نکتہ داں-۹۴

۲۹ جنوری ۲۰۲۵

افہام و تفہیم کا آغاز 

کراچی کا تاجر طبقہ اور پاکستان پیپلز پارٹی، ۷۰ کی دہائی سے لیکر آج تک، کبھی بھی ایک پیج پر نہیں آسکے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ، PPP کی بڑی صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی تھی۔ پھر ممتاز بھٹو کی ، بطور وزیر اعلٰی سندھ ، یکطرفہ لسانی بل کو احمقانہ طریقے سے پاس کروانا،اس بل پر جائز احتجاج کو بنا کسی سیاسی سوجھ بوجھ کے بجائے،   گورنر، رسول بخش ٹالپر کے سطحی بیانات اور طاقت کے بل بوتے پر احتجاج کو کچلنے کے عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔کراچی کی تاجر برادری اور PPP کے درمیان ، اس وقت سے لیکر آج تک جو سیاسی دوریاں تھیں وہ آج تک قائم ہیں۔ 

لیکن ، ذولفقار علی بھٹو ایک دور اندیش اور ذہین انسان تھے۔ انھوں نے فوراً ، *جی ہاں فوراً ، ممتاز علی بھٹو کو وزیراعلٰی کے عہدے سے برطرف* کرکے غلام مصطفٰی جتوئی کو وزیراعلٰی مقرر کردیا۔ لسانی بل کو *منسوخ* کرکے، اردو اور سندھی دونوں زبانوں کو سندھ کی سرکاری زبانوں کا درجہ دیدیا۔ کراچی میں لیاقت آباد مارکیٹ تعمیر کروائی، عباسی شہید اسپتال بنایا ، لیکن اُس وقت سندھ کی سیاست پر پیپلز پارٹی کے مقابلے میں،  حزب اختلاف کا کردار جماعت اسلامی کے ہاتھوں میں تھا۔پاکستان کا کون سا ذی شعور  شخص مولوی اور ملٹری کے اتحاد سے ناواقف ہے۔ 

اس زمانے میں، جماعت اسلامی اور ISI کے زیر سایہ ہفت روزہ رسالے تکبیر  نے پی پی پی کے کیخلاف لسانی منافرت ابھارنے کا بیج بویا۔ اور اس بیج کا پھل جماعت نے نہیں بلکہ  MQM نے کھایا۔ جماعت نے محض اردو سندھی تفریق ابھاری، لیکن MQM نے وہ منافرت، سوائے بلوچوں کے، پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگوں سے پیدا کردی۔ یہ تھا کمال ضیاءالحق کا۔ اس نے پہلے جماعت کو کراچی میں پی پی پی کو کمزور کرنے کیلئے استعمال کیا، لیکن جب جماعت نے زور پکڑنا شروع کیا تو MQM کے ذریعے ،  پی پی پی کا زور تو کم کیا ہی، لیکن ساتھ ساتھ  جماعت کو بھی کھڈے لائین لگادیا۔

کراچی کے تاجروں کا ایک طبقہ ، ڈکٹیٹروں کے سائے میں مال کمانے کا عادی بن چکاہے۔ اسی لئے وہ ہر ڈکٹیٹر کی آمد پر، ہمیشہ بغلیں بجاتا ہے اور بظاہر جمہوری دور میں بھی ، اسکی آس ،  آرمی چیف ،  کور کمانڈر یا رینجرز کے چیف سے لگی رہتی ہے۔ وہ سیاستدانوں کو بدنام کرنے کیلئے، کرپشن کی  جھوٹی کہانیاں گھڑ گھڑ کر، انھیں بدنام کرتے نہیں تھکتا۔ اس ہی عادت سے مجبور، کراچی کے چند تاجروں نے جنرل عاصم منیر کی تاجروں سے ملاقات میں کراچی کو پانی سپلائی کے پروجیکٹ میں کرپشن کی جھوٹی داستان گھڑ کر سنائی۔ پھر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال جو ن لیگ کے اہم رہنما ہیں سے  چاپلوسی کی خاطر، وزیر اعلٰی پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انکے بدلے آپ مراد علی شاہ کو لے جائیں 

ان  دروغ گوئیوں اور الزام تراشیوں کے جواب میں ، ان تاجروں کو فکس کرنے کے بجائے، پی پی کی قیادت نے اس معاملے کو مثبت انداز میں لیکر، اس موقعے کو، تاجر برادری کے ساتھ غلط فہمیاں دور کرنے، رابطے بحال کرنے اور سندھ اور کراچی کے بہتر مستقبل کیلئے مل کر کام کرنے کے عمل کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔ 

کل بلاول بھٹو نے بلاول ہاؤس میں نہ صرف کراچی کے تمام قابل قدر، محترم اور منفرد تاجروں کو عشائیے پر مدعو کیا، بلکہ سندھ حکومت کی وزیر اعلٰی سمیت پوری کابینہ اور بیوروکریسی بھی مدعو کی۔ تاجر برادری کے تمام اہم رہنماؤں نے بھی کھل کر بات کی۔ جو شکوے اور شکایتیں تھیں وہ بھی سلیقے سے بیان کیں اور جہاں اچھائیاں تھیں انکا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا۔ دوسری طرف وزیراعلٰی سندھ جناب مراد علی شاہ نے بھی کراچی کی بہتری کیلئے مستقبل کے منصوبوں کا نہ صرف ذکر کیا بلکہ کراچی کے تاجروں کو ان منصوبوں میں شمولیت کی دعوت دی۔

بلاول بھٹو زرداری نے، بھی پی پی اور تاجر برادری کے درمیان دوریوں اور  غلط فہمیوں کو ختم کرکے ، ایک نئے عزم سے اپنے صوبے کے شہریوں کی زندگی بہتر  بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کی بات کی۔

میرے خیال میں دونوں اطراف اس موقعے سے فائدہ اٹھائیں گےاور اگر تمام فریقوں نے مثبت رویہ اپنئے رکھا تو آنے والے دنوں میں ، میں کراچی کی صورتحال کو بہتر ہوتا دیکھ رہا ہوں

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے