نکتہ داں۔۹۶
۶ فروری ۲۰۲۵
مدت ملازمت میں طوالت کی لت
کل ایک محفل میں پاکستانی فوج کے سپہ سالار کی ایکسٹینشن زیر بحث رہی۔ شرکاء ، بظاہر دو نقطہ نظر میں بٹے ہوئے تھے۔
ایک قلیل تعداد وہ تھی جو فوج کو پاکستان کی تمام مشکلات کو حل کرنے کا اہل سمجھتی تھی اور انکے خیال میں پاکستان میں صرف فوج ہی ایک منظم ادارہ ہے ۔ انکی نظر میں، پاکستان کے اطراف خطرات ہیں ۔ ایک طرف انڈیا ہے جس نے اب تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ دوسری طرف افغانستان اور اس کے اوپر روس ہے جو پاکستان کے وجود میں آتے ہی پاکستان کے لئے منفی رویہ رکھتے آئے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہمسائے ایران کے متعلق بھی کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی، لہذا فوج اور اسکے سپہ سالار کے متعلق ہمیں رائے دیتے ہوئے بہت احتیاط کرنی چاہئے۔
دوسرے طرف اکثر لوگوں کی رائے میں ،ہمیں اپنے سیاسی نظام پر بھروسہ کرکے اسے کام کرنے کا موقع دینا چاہئے لیکن فوجی جرنیل یہ ہونے نہیں دیتے اور پیچھے سے کھیل کھیلتے رہتے ہیں لہذا کوئی ادارہ مضبوط ہو نہیں پایا۔
اوّل ذکر لوگ کہنے لگے ،کونسی سیاسی جماعتیں ؟ یہ تو شخصی یا خاندانی قبضہ گروپ ہیں، جو بھی اوپر آتا ہے، چپک کر رہ جاتا ہے اور اسی لئے سیاسی جماعتیں مضبوط نہیں ہو پاتیں۔
اپنی باری آنے پر میں نے کہا، بھائیو میرے خیال میں پاکستان کے وجود میں آنے کے پہلے دن سے، کسی کی نہیں، بلکہ صرف سیاسی پارٹیوں ہی کی حکومت رہی ہے یہ الگ بات، کہ فوج بھی ایک *سیاسی پارٹی* ہی ہے۔ ہاں جب جب کسی سیاسی پارٹی کی قیادت (بشمول فوجی پارٹی)، اپنی جماعت کی صدارت/ چیئرمین شپ یا چیف آف آرمی اسٹاف کی کرسی سے چپک گئی تو نہ صرف اس سے وہ پارٹی بلکہ پاکستان بھی کمزور ہوا۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔
ایک دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ ہمارے سپہ سالار جرنلوں کی کوئی ایک خرابی بتادیں۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ انکی سب سے بڑی خرابی ہی یہ ہے کہ وہ فوج اور پاکستان کے لئے ناگزیر بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی 3 سالہ قیادت جو کہ اب ۵ سال کردی گئی ہے، میں ایک بھی ایسا جنرل تیار نہیں کر پاتے کہ جو انکے بعد پاکستانی فوج کی قیادت سنبھالنے کا اہل بن گیا ہو اور وہ خود ہی سپہ سالاری پر بضد رہتے ہیں اور وزیراعظم کو بلیک میل کرکے بلکہ یوں کہنا درست ہوگا کہ اسکی کلائی موڑ کر ایکسٹینشن طلب کرتے ہیں۔
اداروں کی مضبوطی، شخصیات سے نہیں بلکہ نظام پر ثابت قدم رہنے سے ہوا کرتی ہے۔
جہاں تک سیاسی جماعتوں کی بات ہے، اگر ان میں فوجی کھلواڑ نہ کریں اور عدلیہ کی مدد سے، اگر وزیر اعظموں ، اسمبلیوں اور حکومتوں کو گھر نہ بھیجا کریں تو سیاسی جماعتیں بھی توانا ہوجائیں گی اور قیادت میں بھی مثبت تبدیلی ہوتی رہے گی۔
کشمیر ڈے کے حوالے سے میری رائے طلب کی گئی۔ تو میں نے عرض کی، کہ اب سوائے ایک دن کی چھٹی کرنے اور بیان بازی کے علاوہ ہم کیا کرتے ہیں ؟
کشمیر بقول قائداعظم ،یقیناً پاکستان کی شہ رگ ہے، لیکن ہمارے فوجی ڈکٹیٹر اپنے اپنے دس دس سالہ طویل دورانیے کی حکومتوں میں کشمیر کے مسئلے کو محض اپنے اقتدار کو طول دینے کا ذریعہ بنائے رہے۔ کیونکہ انھیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ پاکستان کی تخلیق میں فوج کا کوئی ہاتھ نہیں ، وہ تو ۱۴ اگست ۱۹۴۷، رات کے بارہ بجنے سے ایک منٹ قبل تک،تاج برطانیہ کے غلام رہے ہیں۔ پھر وہ کس دلیل اور کس منطق کے تحت پاکستان کے اقتدار پر قابض رہنا چاہتے ہیں ؟ اس ہی لئے فوج چاہتی ہے کہ بزور طاقت (جبکہ طاقت اب بالکل نہیں رہی) کشمیر ہندوستان سے حاصل کر کے یہ نعرہ لگا سکیں کہ پاکستان کو بنایا قائداعظم نے لیکن پاکستان کی تکمیل فوج کے ہاتھوں ہوئی۔ صرف اسی مقصد کیلئے، ایوب نے آپریشن جبرالٹر کے نام سے کشمیر پر حملہ کیا، ضیاالحق کرکٹ ڈپلومیسی سے کشمیر حاصل کرنا چاہتا تھا اور سیاچن بھی گنوا بیٹھااور مشرف نے، بنا کسی پلاننگ کے،( نیوی اور ائیرفورس چیف کو بھی بتائے بغیر ) کارگل پر حملہ کرکے کشمیر حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی اور ناکامی کا الزام سیاسی قیادت پر ڈالدیا۔
کشمیر کشمیریوں کی جدوجہد سے حاصل ہوگا پاکستانی جرنیلوں کی آنی جانیوں سے نہیں۔
خالد قاضی