نکتہ داں -۹۸
۱۷ فروری ۲۰۲۵
یہ پیادے جج
میرا راستہ روکتے ہوئے کہا، کہ قاضی صاحب کیا بات ہے، آپ آجکل منظر نامے سے غائب رہتے ہیں ۔ خیر تو ہے ؟ یہ پیکا قانون کے ڈر سے ہے یا اسکی کوئی اور وجہ ہے
میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں بھائی ایسی بات نہیں ہے۔
بولے ، نہیں، آپ لکھنے میں کافی محتاط ہو گئے ہیں۔ لکھتے بھی ہیں تو بس عام سے موضوعات پر، لگتا ہے بس خانہ پُری کر رہے ہیں آپ۔
میں نے صفائی پیش کی، کہ نہیں محترم ایسا بالکل نہیں ہے۔ میں تو ہر اہم معاملے پر اپنا موقف بیان کرتا رہتا ہوں
انھوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا، کہ محترم IMF کے وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، چیف جسٹس نے پریس کانفرنس کر ڈالی اور اس پریس کانفرنس میں عمران خان کے خط کا بھی ذکر آگیا، جو کہ اب تک پوشیدہ رکھا گیا تھا، لیکن اس اہم موضوع پر آپ غیر حاضر رہے۔
میں نے انکے سامنے ہتھیار ڈالنے میں ہی اپنی خیر سمجھی اور اس وعدے پر ان سے جان چھڑائی کہ اس موضوع پر ضرور لکھوں گا۔
لیکن وہ بضد تھے کہ میں انھیں اندر کی خبر بتاؤں کہ IMF کی ٹیم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے کیوں ملاقات کی اور پھر پریس کانفرنس بھی ہوئی اور عمران خان کے مقدمات اور انکا چیف جسٹس کو لکھے خط کابھی پہلی مرتبہ انکشاف ہوا۔
میں نے انھیں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ بھائی، میرے پاس اندر کی کوئی خبر نہیں ہوتی
میں تو بس سیاست اور تاریخ کے ایک طالبعلم کے طور پر غور کرکے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور بس۔ اور میرے اخذ کردہ نتائج درست بھی ہوسکتے ہیں اور سراسر غلط بھی۔
لیکن انکی تسلی کیلئے میں نے انھیں اندر کی خبر تو نہیں ایک قصہ ضرور سنایا
میں نے کہا پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب شخص کو پیسوں کی سخت ضرورت پڑی ۔ وہ شہر کے ساہوکار کے پاس جو سود پر ادھار دینے کیلئے مشہور تھا اور اسکی اس غریب شخص سے شناسائی بھی تھی کے پاس اپنی ضرورت لیکر پہنچا اور ادھار پیسے طلب کئے۔ ساہوکار اسے کچھ دیر دیکھتا رہا پھر اس سے بولا کہ پیسے تو میں تمھیں دیدوں گا لیکن ایک شرط پر۔ تم آج سے گٹکا کھانا چھوڑ دو گے۔ اور اگر قرض ملنے کے بعد پھر تم نے گٹکا کھایا تو میں تمھاری اکلوتی موٹر سائیکل ضبط کرلوں گا۔ مرتا کیا نہ کرتا، اس شخص نے اسکی شرط مان لی اور ضروری لکھت پڑھت کے بعد مطلوبہ رقم لیکر چلتا بنا۔ اسکے جانے کے بعد، ساہوکار کے دوست نے ، جو سارا معاملہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا، بولا ، باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن مجھے تمھاری گٹکے نہ کھانے والی شرط کی کوئی منطق سمجھ میں نہیں آئی۔ ساہوکار قہقہہ لگاتے ہوئے بولا، بھائی جس قدر یہ گٹکے کا عادی ہے، کسی وقت بھی ملک عدم سدھار سکتا ہے، تو اسکے جانے سے میری رقم تو ڈوب گئی ناں۔
تو بھائی ہمیں IMF کی ضرورت ہو ، نہ ہو، IMF کی یہ ضرورت ہے کہ ہماری معیشیت کسی نہ کسی طرح چلتی رہے تاکہ اس کا سود انھیں ملتا رہے۔ اور آپ کی معیشیت اس وقت تک اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکتی جب تک آپ سیاسی طور پر مستحکم نہ ہوجائیں۔ اس بات کا ذکر جب IMF کی ٹیم نے شہباز شریف یا حکومتی ذمہ داروں سے کیا ہوگا تو عمران کے معاملے پر شہباز نے کندھے اچکاتے ہوئے ذمہ داری عدلیہ پر ڈالدی ہوگی۔ (میرے مظابق) یہی سبب بنا اس ملاقات کا۔ اور عقل مند چیف جسٹس نے اس موضوع پر نہ صرف پریس کانفرنس کر ڈالی بلکہ عمران خان کے خط کا بھی ذکر کردیا جو کچھ عرصے پہلے لکھا گیا تھا لیکن انکشاف نہیں ہوا تھا۔
گھر جا کر سوچتا رہا، کہ یہ کیسی ہماری عدلیہ ہے، جس نے حلف تو آئین کی حفاظت کا اٹھا رکھا ہے، لیکن ابتدا ہی سے یہ ڈکٹیٹروں کی فوجی بینڈ کے آگے بنا گھنگھروؤں کے تھرکتی رہی ہے۔
یہ کب تاریخ سے سیکھیں گے۔ انکی حرکات تو اب بھی وہی پرانی ہیں ۔ کیا ہماری موجودہ عدلیہ نے اپنے پرانے ججوں کے غیر آئینی فیصلوں کی وجہ سے ، جو برا نام کمایا ہے، اور جس طرح ریٹائر ہونے کے بعد کہیں کسی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں، سے کچھ بھی نہیں سیکھا ؟
یہ تاریخ جسٹس منیر سے شروع ہوتی ہے کہ جس نے نظریہ ضرورت ایجاد کرکے، اس ملک میں ڈکٹیٹروں کے غیر آئینی عمل کو سند قبولیت عطا کی۔ کیا ہمارے موجودہ ججز تاریخ میں جسٹس منیر کی بے حرمتی نہیں دیکھ رہے
کیا ضیاالحق کے مارشل لا کو قبول کرنے والے چیف جسٹس انوارالحق اور انکے ہمنوا ججز اور قانون دان ، شریف اُلدین پیرزادہ اور اے کے بروہی تاریخ کے اوراق میں عزت کما سکے اور کیا لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشتاق ، کہ جس نے محض ذاتی مخاصمت میں بھٹو کو پھانسی فیصلہ سنایا، سے قدرت کے انتقام کو بھول گئے۔جسٹس مشتاق کے جنازے کو بھٹو کی مخالف جماعت اسلامی ایک بہت بڑا پبلک ایونٹ میں تبدیل کرنا چاہتی تھی، اور اس کے لئے جماعت کی تمام قیادت بمعہ کارکنوں کے، جنازے میں شریک تھے۔ خدا کا کرنا ، کہ جنازے پر شہد کی مکھیوں نے ایسا شدید حملہ کیا کہ لوگ میت زمین پر چھوڑ کر بھاگ گئے۔
کیا ان تماُم ججز کا نام عزت سے لیا جاتا ہے جو ہر مارشل لا کے بعد نوکری بچانے کیلئے، دوبارہ حلف لیکر ڈکٹیٹروں کے چرنوں میں بیٹھنا پسند کیا ، یا ان ججوں کی عزت ہے جنھوں نے مارشل لا کے تحت حلف لینے سے انکار کیا ۔
کیا ہمارے ججز، جسٹس نسیم حسن شاہ کی اعلانیہ اس حقیقت کے اعتراف کو بھول گئے ہیں کہ بھٹو کے عدالتی قتل کا اعتراف کرتے ہوئے اس فیصلے کو دباؤ کا نتیجہ قرار دے کر کسی کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے
کیا ہمارے ججز کو افتخار چودھری یاد نہیں آتے کہ جنھوں نے اپنی دوبارہ تعیناتی کے بعد ایک عدالتی ڈکٹیٹر کا روپ دھار لیا تھا، جس نے تمام بیوروکریسی کو حکمران بن کر رگید ڈالا، جس نے ججوں کے تقرر کا اختیار بھی اپنے ہاتھوں میں لیکر پوری عدلیہ کو ایک پرائیوٹ کمپنی میں تبدیل کردیا لیکن، ریٹائرمنٹ کے بعد ، وہ منہ چھپائے پھرتے ہیں۔
کیا ہمارے ججز ثاقب نثار کی تاریخ بھول گئے جو اپنے چند سالہ دور میں تو عدلیہ سے زیادہ تعلیم، صحت اور ڈیموں کے معاملات دیکھنے پر مُصر رہتے تھے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا منہ لپیٹ کر بیٹھے ہیں۔
کیا آصف سعید کھوسہ بھلا دیئے گئے کہ جنھوں نے جرنلوں کی تابعداری میں ایک منتخب وزیر اعظم کو نااہل کردیا اور اسکے بعد کسی عوامی محفل میں شریک ہونے کے اہل نہیں رہے
کیا جسٹس گلزار ، جسٹس عمر عطا بندیال ذہنوں سے محو ہو گئے ہیں ، کیا بلے کا نشان چھین لینے سے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے عزت کمائی ؟
لیکن اس بدبودار تاریخ کی حامل عدلیہ کے ججوں کو اب تک بھی اپنے معاملات درست کرنے کا احساس نہیں ہوپایا۔ وہ اب بھی اعلٰی مقام کیلئے سنیارٹی کے اصول کو روندنے کیلئے تیار ہیں۔ وہ اب بھی اپنے معاملات آپس میں خوش اسلوبی سے طے کرنے کے بجائے، ایک دوسرے کو خطوں کے ذریعے مخاطب کرتے ہیں اور وہ خط اپنے مخاطب جج کے دفتر پہنچنے سے پہلے، میڈیا میں جاری کردئیے جاتے ہیں
ایسے رویوں پر سوائے ماتم کے اور کیا ، کیا جاسکتا ہے
خالد قاضی