NUKTADAAN

Reading: ‏۱۰۳۔ بلوچستان کے حالات
Reading: ‏۱۰۳۔ بلوچستان کے حالات

‏۱۰۳۔ بلوچستان کے حالات

admin
8 Min Read

نکتہ داں-۱۰۳

۴ اپریل ۲۰۲۵

بلوچستان کے حالات

قاضی صاحب، رمضان کا مہینہ تو ختم ہو  گیا جبکہ  عید بھی گزر گئی، مگر آپ ہیں کہ ابھی تک اعتکاف سے نہیں نکلے۔ یہ تھا سوال،  مسٹر بے تکلف کا۔

میں نے انکے بے تکے سوال کی وجہ جاننی چاہی تو فرمانے لگے۔ بھائی جب آپ لکھیں گے نہیں تو پھر اعتکاف ہی میں ہوئے ناں

میں نے انکی پریشانی دور کرنے کیلئے، سمجھایا کہ رمضان کے مہینے میں اللٰہ ربالعزت کی بارگاہ سے زیادہ سے زیادہ اجر حاصل کرنے کے شوق میں سیاسی شوق کو لگام دینا ضروری ہوتا ہے۔ حالانکہ اس عبادت کے مہینے میں خاص کر، بلوچستان کے حالات سرخ لکیر کے قریب پہنچ گئے ہیں، لیکن بس دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ تمام متعلقہ عناصر کو اللٰہ عقل سلیم عطا فرمائے۔

کہنے لگے، تو گویا اب معاملات، بس دعاؤں ہی سے بہتر ہونگے ، تو کیا اب دعا کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جاسکتا ؟ 

میں نے عرض کی کہ بہت کچھ کیا جاسکتا ہے، لیکن اسکے لئے، سیاسی ذہن سے کام کرنا ہوگا، ڈنڈا تو ہم پچھلے ۷۰ سالوں سے چلاتے ہوئے آئے ہیں ، اور اسی ڈنڈے کے بے دریغ استعمال نے ہی حالات اس جگہ پہنچائے ہیں

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ، فوج کا ڈنڈا اپنے ملک کے اندر نہیں استعمال ہونا چاہئے، وہ صرف سرحد کے اس پار ہی کارآمد ثابت ہوگا ملک کے اندر نہیں۔بنگلہ دیش میں یہ گُر آزمایا جاچکا ہے۔

فرمایا لیکن جب ملک کے اندر ہی BLA ملک توڑنے کی بات کرے ، تب بھی۔

میں نے کہا، محترم، اس پورے معاملے کو اگر آپ محض آج یا کل کے حالات کی روشنی میں دیکھیں  گے تو یہی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ اس معاملے کو ۷۰ سالہ زیادتیوں کی تاریخ میں تلاش کریں۔ BLA تو اب بنی ہے اور اس کی پزیرائی بلوچ عوام میں، مشرف “المغرور” کے زمانے سے شروع ہوئی ، جب نواب اکبر بگٹی کو شہید کردیا گیا۔مشرف کے اس بے رحمانہ عمل نے ہی، عوام الناس میں عموماً اور نوجوان نسل میں خصوصاً نفرت ، شدت اور باغیانہ جذبات گھر کرنا شروع ہوئے۔ اگر بلوچستان میں جابجا آرمی ایکشنز نہ کئے جاتے تو بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ پر امن صوبہ تھا۔ یہ میں نہیں وہاں سالبہ سال تک ایڈمسٹریشن عہدوں پر معمور پنجابی بیوروکریٹس کہتے ہیں۔ جس میں اوریانہ مقبول جان اور طارق کھوسہ پیش پیش ہیں۔

ہم کھربوں روپئے کی سوئی گیس ۵۰ سالوں تک بے دریغ استعمال کرتے رہے، لیکن بلوچستان کو اس کا کیا فائدہ دیا۔ وہی بے کسی، وہی بے چارگی اور وہی مفلسی۔ 

حالانکہ مشرف ہی کے دور میں بلوچستان کے مسائل حل کرنے کیلئے ایک سنجیدہ سیاسی کوشش کی گئی تھی ، اور ق لیگ کے رہنما چودھری شجاعت حسین اور سینیٹر سید مشاہد حسین نے کافی پیش رفت کی تھی، لیکن مشرف المغرور صرف بندوق کی زبان جانتا تھا

فرمانے لگے، کہ قاضی صاحب ان سرداروں کو حکومت کروڑوں روپئے بھی تو دیتی رہی ہے

اب وہ اپنے عوام پر خرچ نہ کریں تو اس میں وفاق کا کیا قصور ہے

میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے سمجھایا کہ بھائی، عقل کے ناخن لو، اور جرنیلی پروپیگنڈے کا شکار نہ بنو۔

سوئی گیس ، سردار مری کے علاقے سے اور  سردار بگٹی کے علاقے سے نکلتی تھی۔ تو وہاں انکی ہزاروں ایکڑ زمین  پر نہ صرف گیس نکالنے کیلئے کنویں کھودے گئے بلکہ سارا اسٹرکچر بنایا گیا۔ اس زمین کا کرایہ اور گیس کی رائلٹی جو انکا آئینی اور قانونی حق تھا وہ انکو دی جاتی تھی۔ اس کا صوبائی حکومت اور بلوچ عوام سے کیا لینا دینا۔ بلوچستان کی زیر زمین معدنی دولت کا بلوچ عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور بلوچستان کی بدحالی اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے

پاکستان کے عوام تاریخ بھول جاتے ہیں 

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ، اس ملک ، یا دنیا کے کسی بھی ملک کو اسکی فوج طاقت کے زور پر کبھی بھی اکھٹا نہیں رکھ سکتی۔ ملک کے تمام علاقوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کو صرف اور صرف ، انصاف کی عملداری، آئینی اور قانونی حقوق دیکر اکھٹا رکھا جاتا ہے، اسکے علاوہ اور کوئی فارمولا کامیاب نہیں ہوگا۔روس عسکری طور پر پاکستان سے کہیں زیادہ طاقتورتھا، لیکن ناانصافی نے اسکے حصے بخرے کر دئیے

اور یاد رکھیں، یہ جو آئے دن، آپ بھڑکیں سنتے رہتے  ہیں ان پر یقین کرنا بند کردیں ۔ کیونکہ تاریخ ان بھڑکوں کی کچھ اور ہی تصویر پیش کرتی ہے لیکن ہماری یادداشت کمزور ہے

کہنے لگے کہ آپکی پہیلیاں بجھوانے کی عادت ابھی تک نہیں گئی، یہ بھڑک کہاں سے لے آئے ؟

میں نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، کہ یاد ہے، ڈھاکہ فال سے ایک دن پہلے ہمارے کمانڈر ان چیف اعلان کر رہے تھے کہ دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی جارہی ہے۔ اور عوام الناس کو دوسرے دن ہتھیار ڈالنے کی خبر پہنچی۔ یہ حال تو مشرقی پاکستان میں تھا، مغربی سرحد پر بھی ہزاروں میل رقبہ دشمن کے قبضے میں تھا، جسے شملہ سمجھوتے کے تحت بھٹو نے واپس دلوایا۔

مشرف نے بھی بھڑک ماری تھی کہ ان کو ایسی جگہ سے ماریں گے کہ انھیں خبر بھی نہیں ہوگی اور آج آئے دن فوجی جوان شہید ہورہے ہیں

فوج ہی کے حکومتی نمائندے محسن نقوی نے بھڑک ماری تھی کہ BLO کیلئے ایک SHO ہی کافی ہے اور نتیجتاً ہم نے ٹرین کے اغوا کی خبر سنی اور اسکے دو ہفتے ہی بعد پھر درجنوں جوان BLA کے حملے میں شہید ہو گئے ۔ فوج کا کام اپنے ہی لوگوں سے لڑنا نہیں ہے۔ 

معاشی ، سیاسی اور آئینی حقوق ہی اس دہشت گردی کو ختم کر سکتے ہیں، جبکہ ہمارے دوسرے مشرف نما چیف حافظ عاصم منیر ملک کو مزید “ سٹرونگ سٹیٹ “ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں

حقیقت یہ ہے کہ  آئے دن حکومت اعلان کر رہی ہے کہ کوئٹہ ، قلات، مکران ،  تربت اور بلوچستان کے دیگر علاقے، رات میں سفر کے لئے محفوظ نہیں ہیں۔ میڈیا پر کنٹرول کے ذریعے، بلوچستان کے حالات کی حقیقی تصویر سے پاکستان کے عوام بالکل اس ہی طرح بے خبر  رکھے جارہے ہیں جیسے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بنتے وقت رکھے گئے تھے۔

فرمانے لگے آپ تو ڈرا رہے ہیں

میں ڈرا نہیں رہا ، تاریخ کے آئینے میں حالات کا تجزیہ کررہا ہوں

بولے، کہ پھر حل بھی تو بتائیں

باقی اگلی قسط میں

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے