نکتہ داں- ۱۰۴
۵ اپریل ۲۰۲۵
ہر لمحہ سیاست
آپ کو یاد ہوگا کہ چند مہینے پہلے، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن نے، کراچی کے طلبا کے انٹر بورڈ کے نتائج پر بہت شور مچایا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان جو نہ صرف جامعہ کراچی میں درس دیتے رہے ہیں بلکہ ایک منفرد سینئر صحافی بھی ہیں ۔ وہ روزنامہ ایکسپریس میں ہفتہ وار کالم بھی لکھتے ہیں۔
انکے گزشتہ کالم سے اقتباس پیش خدمت ہے:
سندھ اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے گزشتہ سال فرسٹ ایئرکے طلبہ کے ساتھ امتحانی کاپیوں کی جانچ پڑتال میں ہونے والی زیادتی کے بارے میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات منظورکر لیں۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارش کے تحت ہر امیدوارکو 20 فیصد اضافی مارکس دیے جائیں گے۔
اس فیصلے سے امیدواروں اور ان کے والدین اور کراچی کے طلبہ سے زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والے عناصرکو تشفی ہوگئی مگر تعلیمی معیارکا معاملہ کہیں فضاؤں میں کھوگیا۔ جب گزشتہ سال فرسٹ ایئرکے امتحانی نتائج کا اجراء ہوا تھا تو ذرایع ابلاغ پر ایک شور اٹھا تھا۔کراچی کے ذہین طلبہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے کلاس اول سے میٹرک تک کے امتحانات میں اعلیٰ نمبر حاصل کیے تھے۔
ان نمبروں کی بنیاد پر کراچی کے ان کالجوں میں انھیں داخلے ملے، جہاں فرسٹ ایئر میں داخلے کی فہرست میں آخری نمبر امتحانات میں 75 سے 80 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کا ہوتا ہے۔ طلبہ اور ان کے والدین نے کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرے کیے۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی نے اپنی تقاریر پر توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھایا اور سندھ اسمبلی میں اس مسئلے پر بحث شروع ہوگئی۔
اس بحث کا ایک خطرناک نکتہ یہ تھا کہ اندرونِ سندھ کے طلبہ کو پروفیشنل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیادہ نشستیں دلوانے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت طلبہ کے نمبرکم کیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے اس مسئلے پر تحقیقاتی رپورٹ تیارکرنے کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کی قیادت میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی۔ اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ارکان نے 250 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں شکوہ کیا کہ بورڈ کا عملہ ان کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہا ہے۔ بہرحال اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ
“کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ ایک مافیا کے طور پرکام کرتا ہے۔
اس مافیا کا کام امتحانی نتائج میں ردوبدل کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے دیگر تعلیمی بورڈز کے مقابلے میں کراچی بورڈ کا عملہ امتحانی نتائج تیار کرنے میں بدترین لاپرواہی کا ثبوت دیتا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ممتحن نے امتحانی کاپیوں کی مکمل طور پر جانچ پڑتال ہی نہیں کی اورکچھ امتحانی کاپیوں میں سوالات کے نمبر نہیں لگائے گئے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بورڈ کا عملہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا، یہی وجہ ہے کہ Digital Maintenance کے بجائے مینوئل طریقے سے نتائج مرتب کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس صورتحال میں Data Integrity پر انحصارکرنا، ایک رسک لینے کے مترادف ہوگا۔ سندھ کے وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے اس رپورٹ کے مطالعے کے بعد یہ محسوس کیا کہ کراچی کے طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی، اس بناء پر انھیں اضافی نمبر دینے چاہئیں۔ وزیر تعلیم کی اس تجویزکی ہاؤس کمیٹی نے منظوری دیدی، یوں یہ معاملہ داخلِ دفتر ہوا۔”
مندرجہ بالا تحریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کراچی کے طلبا سے زیادتی، اور کسی نے نہیں کی بلکہ کراچی بورڈ کے نااہل اور بد عنوان ارکان نے کی۔ چونکہ سندھ حکومت کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا نہ تھا لہٰذا انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کے ممبران سمیت، NED یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی قیادت میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنادی اور کمیٹی نے واضح کیا کہ غلط کون لوگ ہیں۔
مجھے افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ، کراچی کے نمائندے، کراچی کی تعلیمی خرابیوں کو درست کرنے کے بجائے سیاست اور لسانی تعصب کو فروغ دیکر اپنی مردہ سیاسی حیثیت کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ اپنی سیاسی بقا کیلئے لسانی منافرت پھیلا کر فتنہ انگیزی کرنا ایک بہت قبیح حرکت ہے اور اسی لئے ربالعزت نے فتنہ پھیلانے کو قتل سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔
خالد قاضی