NUKTADAAN

Reading: ‏۱۰۶۔ کیا پاکستان کی باری آگئی ؟
Reading: ‏۱۰۶۔ کیا پاکستان کی باری آگئی ؟

‏۱۰۶۔ کیا پاکستان کی باری آگئی ؟

admin
10 Min Read

نکتہ داں -۱۰۶

۱۶ اپریل ۲۰۲۵

کیا پاکستان کی باری آگئی ؟

یہ بات، دنیا کی سیاسی تاریخ کے طالبعلم،  بخوبی جانتے ہیں کہ، جنگ عظیم دوئم ، جیتنے والے  مغربی ممالک ، جو اس سے پہلے، دنیا کے کئی ملکوں کو، بزور طاقت،  اپنی کالونیاں بنا کر،  انکی دولت اپنے  تصرف میں لا چکے تھے، لیکن،  جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد، انھیں، آزادی کی بین الاقوامی لہر کے آگے، جھکنا پڑا اور تیسری دنیا کے ملکوں کو آزادی دینی پڑی۔ 

لیکن  ان کی طرف سے، دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کرنے کی کاوش جاری رہی۔

اسی دور میں مشرق وسطٰی میں تیل کی ، بڑے پیمانے پر دریافت ہوئی ، لہٰذا  ،مغربی ممالک کا، مشرق وسطیٰ پر اپنا تسلط، بزور طاقت، قائم رکھنے کیلئے اس خطے میں  اسرائیل کو وجود بخشا گیا۔ 

قوم یہود ،صدیوں سے، اپنی مذہبی اور سیاسی میراث کےحصول، اور عرب سماج اور اس کی  دولت پر ہاتھ صاف کرنے خواہش رکھتی تھی ۔اسرائیل کے قیام نے اس دبی خواہش کو  سنہ ۱۹۴۸ سے ایک نئی زندگی بخشی۔

اسرائیل ، اپنے اطراف، عرب ممالک کی حربی طاقت سے بھی واقف تھا اور اسے اپنی عددی کمی کا بھی بخوبی علم تھا۔ 

اس تمام صورتحال کے پیش نظر ، اسرائیلی کے منصوبہ سازوں نے اپنے ، علمی، اقتصادی ، معاشی، ٹیکنالوجی کی معلومات اور میڈیا پر کنٹرول کے حصول کی اہمیت کے علاوہ  مغربی ممالک اور خصوصاً امریکہ کی اقتصادی طاقت کو کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی ،  بڑی باریک بینی اورکمال  ہوشیاری سے کی۔ 

پچھلی ۸ دہائیوں کی تاریخ، اس واقعے کی چشم دیدہ گواہ ہے۔

جبکہ اسکے برخلاف، عرب دنیا کے ملکوں اور دیگر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا دھیان بس اپنی بادشاہتوں ، فوجی حکومتوں اور شخصی آمریتوں کو دوام دینے ہی میں لگا رہا۔ 

اسرائیل ،اس پورے خطے میں اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے، امریکہ کی اقتصادی اور فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے، باری باری ہر اس ملک کی اقتصادی اور فوجی طاقت کو ختم کرتا آ رہا ہے کہ جس سے اسے اپنے وجود کیلئے ذرہ برابر بھی خطرہ تصور کرتا ہے۔ 

اسرائیل کا سب سے پہلا نشانہ مصر تھا۔ ۱۹۶۷ اور ۱۹۷۳ کی جنگیں نہ صرف مصر، شام ، اردن اور فلسطین کے حربی  پَر کاٹنے کا سبب بنے بلکہ اسرائیل کو اپنی حدود میں بے دریغ اضافہ کرنے کا بھی موقع ملا۔

ان چار ممالک کی فوجی قوت کو ختم کرنے کے بعد، اسرائیل کا دوسرا ھدف عراق اور لیبیا تھا۔ امریکہ ، اسرائیل کے ایما پر، وہ تمام کام اپنا فرض اولین سمجھ کر کرتا آرہا ہے کیونکہ عراق اور لیبیا کو اسرائیلی طیاروں نے نہیں بلکہ امریکی طیاروں کی بمباری نے  تباہ کیا ہے۔

عراق اور لیبیا سے فارغ ہوکر، اب اگلا ھدف ایران ہے اور ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے، لیکن کام پاکستان میں بھی شروع ہوچکا ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے کہ موجودہ امریکی صدر، اب تک کے تمام امریکی صدور سے زیادہ اسرائیل نواز ہے۔ صدر ٹرمپ نے سب سے پہلے ، ایران کو بڑے تحکمانہ انداز سے ایک دھمکی کے ساتھ ،   بات چیت کیلئے ایک خط لکھا کہ اگر بات چیت سے منع کیا تو پھر جنگ ہی اس کا حل ہوگی۔

اسکے چند ہی دنوں بعد، امریکی سیکرٹری دفاع، پیٹ ہیگستھ نے دھمکی دی کہ امریکہ کی ایران پر حملے کی فوجی تیاری مکمل ہے

اسی دوران پاکستان میں امریکی سینیٹروں کا ایک وفد سینیٹر جیک برگ مین کی قیادت نے سیاسی حکومت کے سربراہ وزیراعظم شہباز شریف سے نہیں، بلکہ پچھلی ۷۰ سالہ امریکہ کی ون ونڈو پالیسی کے تحت ، راولپنڈی میں جرنل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ کیونکہ امریکہ سے بہتر اور کون جانتا ہے کہ امریکہ کے ہر اشارے پر لبیک کہنے کیلئے  ہمارے جرنیل ہر وقت ہمہ تن تیار رہتے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ISPR نے اپنے بیان کے ذریعے  قوم کو مطلع کیا کہ، امریکی وفد نے پاکستان کی فوج کی تعریف کی، امریکی فوج اور پاکستانی فوج کے مشترکہ اقدامات کو سراہا اور مستقبل میں بھی پاکستان کی فوج کے بھرپور تعاون کیلئے پرامیدی ظاہر کی۔ اس پس نظر میں مجھے امریکی حکومتوں کی طرف سے  ایوب خان ، ضیاالحق اور مشرف کی عزت افزائی کے قصے یاد آنے لگے ہیں۔ اخبارات نے امریکی وفد کے ساتھ ہمارے موجودہ جرنیل عاصم منیر کی، وردی کی بجائے سوٹ اور ٹائی میں مسکراتی تصویر شائع کی ہے جس میں موصوف خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ۔ابتدائے عشق ہے، اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ 

بڑے کہہ گئے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھوک پھوک کر پیتا ہے۔ اور اس ہی وجہ سے میں یکدم جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی فلسطین کے پچھلے دو سالہ حقیقی مسئلے پر یکایک ریلیاں دیکھ کر کچھ ڈر سا گیا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوف مجھے اس بات کا ہے کہ، اسرائیل یا امریکہ ہمیں باہر سے توڑنے کے بجائے اندر سے کمزور کرنے کی روش پر گامزن ہے۔ اب تک، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں سورش تھی لیکن اب نہروں کے مسئلے پر سندھ اور پنجاب کی حکومتیں بھی آمنے سامنے  آگئی ہیں۔ یہ نہروں کا شوشہ پنجاب کے حکمرانوں نے کس کے ایما پر چھوڑا ہے، اس شوشے سے پہلے تو سندھ اور پنجاب بڑی سمجھداری اور پیار سے چل رہے تھے۔ کیا کوئی بھی دور اندیش باقی نہیں رہا ؟ 

کیا عالمی طاقتیں بالکنایزیشن کی پالیسی کے تحت پاکستان کے حصے بخرے کرنے کے منصوبے پر تو نہیں ؟

مجھے تحریک نظام مصطفٰی یاد آرہی ہے، کہ جب اسلامی بلاک پر تمام اسلامی ممالک کو اکھٹا کرنے والے بھٹو کو ہٹانے کیلئے ڈالروں کی ریل پیل سے مولویوں کو استعمال کیا گیا۔ پھر کہاں گیا نظام مصطفٰی ؟

کیا نہریں کھود کر پاکستان کی بنیاد کھودنے کا کام تو 

نہیں کیا جارہا۔یاد رکھیں ایک طرف انڈیا کی مودی حکومت ہے، دوسری طرف افغانستان ۔ جبکہ ایران بھی اپنے وجود کی جنگ میں مصروف ہے۔

ہماری فوج پہلے ہی سے ۳ محاذوں پر مصروف ہے۔ ایک مشرقی سرحد کا محاذ اور دو ندرونی محاذ۔

اب کوئی مزید محاذ کھولنے کی ہرگز گنجائش نہیں

مندرجہ بالا تمام صورتحال میں چین کے ذکر کو بھلا دینا، بہت بڑی غلطی ہوگی۔

امریکی صدر ٹرمپ، بظاہر، دوسری مرتبہ کرسی صدارت جیتنے کی خوشی میں آپے سے باہر ہو گئے ہیں

وہ اسرائیلی سے  پیار ،  چینی سے دشمنی  اور امریکی کھرب پتیوں کی شہ پر ، کئی محاذ کھول چکے ہیں۔ انھیں مہنگائی کے طوفان کے سبب، عوامی رد عمل کا بھی سامنا ہے ۔ ایسے میں کیا وہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں کامیاب ہونگے ؟ یہ بہت بڑا سوال ہے اور مجھے اس متعلق ٹرمپ کی کامیابی مشکل نظر آتی ہے کیونکہ اس نے اپنے حلیف ممالک  کو بھی ناراض کردیا ہے۔ ایسے میں اسکے ایجنڈے کی  کامیابی کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔ لیکن ایسی صورتحال میں سرمایہ دار طبقہ ہمیشہ بہت محتاط ہوجاتا ہے ۔اسی لئے اس نے نہ صرف اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ سے اٹھالیا  بلکہ اب سرمایہ داروں کی سرمایہ داری کا رخ سونا ہوگیا ہے۔ اس ہی وجہ سے سونے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں

اگلے چند سال ، دنیا کا کیا نقشہ ہوگا ؟ ، سوچ کر خوف آتا ہے۔ 

پاکستان میں انتشار کے امکانات کو جانچنے کا پیمانہ میری نظر میں ڈالر کی قیمت سے منسلک ہے۔ اگر پاکستان میں، (بظاہر صنعتی ترقی ہوئے بغیر )ڈالر سستا ہو جاتا ہے تو یقیناً یہ پاکستان کیلئے اچھا شگون نہیں ہوگا، کیونکہ ۱۹۷۷ میں بھی ڈالر قدرے سستا ہو گیا تھا۔

اللٰہ رب العزت پاکستان کو سلامت رکھے اور اسے ہر شر سے محفوظ رکھے۔ 

آمین یا رب العالمین

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے