نکتہ داں-۱۰۷
۲۵ اپریل ۲۰۲۵
ظلم رہے اور امن بھی ہو
یہ کیسے ممکن ہے؟ کہو !
پوری انسانی تاریخ، اس حقیقت کی گواہ ہے، کہ جب بھی، کوئی گروہ، کوئی قوم یا کوئی ملک، اپنی عسکری و معاشی طاقت کے زور کے ساتھ ساتھ، اپنی سیاسی مجبوریوں کے تحت بھی ، کسی کمزور قوم پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گا تو پھر اسے بھی کبھی سکون میسر نہیں آسکتا
جواباً، مظلوم قوم بھی، اپنے درد ، اپنی مجبوری اور اپنی بے یاری و مددگاری کو بھلا کر، کوئی نہ کوئی ایسا عمل ضرور کرے گی ، کہ ظالم کے کلیجے کو بھی ٹھنڈک نہ مل سکے۔
دور کیوں جائیے، بدلہ لینے کے اس رجحان کی درجنوں مثالیں، ماضی قریب میں، ہمیں دنیا بھر میں جا بجا نظر آتی ہیں۔
وہ سری لنکا ہو، افغانستان ہو، فلسطین ہو، انڈیا ہو یا بلوچستان، تنگ آمد بجنگ آمد کا رجحان ہر جگہ نظر آئے گا۔
اسی رجحان کا ایک حالیہ اظہار ، مقبوضہ کشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آیا کہ جس میں نامعلوم افراد جو فوجی وردیوں میں ملبوس تھے، نے اندھادھند گولیاں برسا کر ۲۶ بے گناہ سیاحوں کو ہلاک کردیا۔
بے گناہ افراد، چاہے کہیں بھی مارے جائیں ، انکی مذمت ہی کی جائے گی۔
لیکن مملکتیں مذمت کے اظہار میں اگر توازن قائم نہ رکھ سکیں تو انھیں مملکت نہیں، بلکہ ایک غنڈہ گرد گروہ سے ہی تشبیہ دی جائے گی۔
اور موجودہ دور کی غنڈہ گرد حکومتیں ایک نہیں تین ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور انڈیا۔
چونکہ مودی سرکار کی سیاسی عمارت، کی بنیاد ہی، نفرت کے پرچار، مذہبی منافرت اور فخریہ دھونس کے اظہار پر ہے، تو ایسے میں اس طرح کے واقعات انکی سیاسی عمارت کیلئے زلزلے کے شدید جھٹکے سے کم نہیں۔
اسی لئے ، مودی سرکار، حواس باختہ نظر آتی ہے۔ اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی ، مملکت کے رد عمل اور غنڈہ گرد کے گروہ کی بھڑک میں واضح فرق ہوا کرتا ہے۔
لیکن مودی سرکار کا رد عمل کسی بھی طرح ، اعتدال کا ثبوت فراہم نہیں کر پا رہا۔
حقیقت یہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں، ۷ لاکھ پر مشتمل، فوجی موجودگی بھی کشمیری حریت پسندوں کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کرسکی اور چونکہ آپ اپنی صریح ناکامی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اسی لئے اپنی ناکامی کے اظہار سے بچنے کا آسان راستہ پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ ہے۔
مودی سرکار کو دنیا کو بہرحال یہ بتانا پڑے گا کہ کن شواہد کی بنا پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ الزامات، بھارتی عوام کو تو شاید بے وقوف بنا دیں گے لیکن دنیا کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان، ہنگامی طور پر، دنیا کے تمام اہم ممالک میں ، “عالمی شناخت” رکھنے والی شخصیت کی سربراہی میں، اپنا ایک وفد بھیج کر، تمام ممالک کو ،انڈیا سے ثبوت مانگنے پر اصرار کی ترغیب دے۔ اس عمل سے مودی سرکار کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ میں اس کام کیلئے، بلاول بھٹو زرداری کا نام پیش کرنے میں کوئی توقف محسوس نہیں کرتا کیونکہ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کے مقابلے میں بلاول کی پہچان کہیں زیادہ ہے۔ ملکی سیاست میں لاکھ سیاسی اختلافات کے باوجود ، بلاول کے عالمی دارالحکومتوں میں بےنظیر شہید کی وجہ سے پہچان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ چونکہ یہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے لہذا اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا اگلا کیا قدم اٹھائے گا ؟
میں نہیں سمجھتا کہ، اس واقعے کو بہانہ بنا کر (وہ بھی بنا ثبوت ) انڈیا کوئی بڑی فوجی کاروائی کر سکتا ہے۔ اور گزشتہ ہوائی کاروائی کی شرمناک ناکامی اسے دوبارہ ہوائی حملہ کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچنے پر مجبور کرے گی۔
ایسے میں مجھے ، انڈیا ایسے اقدامات کرتا نظر آتا ہے کہ جن سے پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا جائے۔
اس میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان وہ کرچکا ہے۔
میرے خیال میں پاکستان کو یہ جنگ سفارتی محاذ پر لڑنی چاہئے۔
خالد قاضی