نکتہ داں-۱۰۹
یکم مئی ۲۰۲۵
مودی کا زوال
جی ہاں پہلگام کے دردناک واقعے کو آج دس روز گزر چکے ہیں۔
اس واقعے کی بمع پاکستان ، دنیا کے ہر ملک نے بھرپور مذمت کی اور دہشت گردی کے اس اقدام کو ایک غیر انسانی عمل سے تشبیہ دی ہے۔
دہشت گردی کے اس عمل کے خلاف ہر ذی شعور یہ چاہتا تھا کہ اس کریہہ واقعے کی دیانتداری سے تحقیق کرکے، اس کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس ہی لئے، حکومت پاکستان نے پہل کرتے ہوئے انڈین حکومت کو پیشکش کی، کہ اس اقدام کی غیرجانبدار ذرائع سے تحقیق میں حکومت پاکستان مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
لیکن ہوا یہ کہ ، اس واقعے کے چند ہی منٹوں بعد انڈیا نے بنا کسی تحقیق اور ثبوت، اس واقعے کا الزام پاکستان پر ڈال کر، کئی اقدامات کر ڈالے۔ جیسے وہ اس واقعے کے انتظار میں تھا اور اس نے اپنے اقدامات کی لسٹ پہلے ہی سے تیار کرکے رکھی ہوئی تھی۔
ان اقدامات میں ، نہ صرف پاکستان کے سفارتی عملے میں کمی کی گئی بلکہ ویزہ پر آئے ہوئے پاکستانیوں کو ۴۸ گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم صادر کردیا گیا ۔ اس سے بھی اہم اعلان یہ کیا گیا کہ پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیا گیا ۔
لیکن کیا انڈیا کے ان اقدامات کی دنیا کے تمام اہم ممالک نے حمایت کی ؟
نہیں ۔۔کسی بھی ملک نے، انڈیا کے ان یکطرفہ اقدامات پر کوئی حمایتی بیان جاری نہیں کیا بلکہ انڈیا و پاکستان کو تحمل اختیار کرنے کو کہا
چین امریکہ مسابقتی جنگ کی وجہ سے اس وقت ، امریکہ وہ واحد ملک ہے جو انڈیا کے سب سے زیادہ قریب جانا جاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف اقدامات سے متعلق انڈیا نے امریکہ کو بھی اعتماد میں لینا مناسب نہیں سمجھا ۔ نتیجتاْ امریکی حکومتی پالیسی کے ترجمان امریکی اخبارات نے، انڈیا کو تحمل کا رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ گویا اس یکطرفہ عمل کی وجہ سے انڈیا سفارتی طور پر بالکل اکیلا نظر آتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار کے ان اقدامات کی اصل وجہ کیا ہے اور کن اھداف کے حصول کیلئے مودی سرکار نے یہ کاروائی ڈالی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی کا سیاسی عروج بطور وزیر اعلٰی گجرات ، مسلمانوں کے قتل عام کروانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کی وجہ سے ہوا، اور اسی ہتھیار کو استعمال کرکے وہ تیسری دفعہ وزیراعظم بنا ہے۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ نہ صرف پچھلے انتخابات میں مودی حکومت کے عوامی اعتماد میں کمی ہوئی اور حالیہ دنوں میں بھی اس کی سیاسی گرفت ڈھیلی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔جبکہ بہار کے انتخابات بھی سر پر ہیں
جس طرح فارمولہ فلموں کی کامیابی، لچر پن اور بےحیائی کو فروغ دیکر حاصل کی جاتی ہے ، بالکل اسی طرح فارمولا سیاست کو عروج، تعصب ، عدم برداشت ، مذہبی منافرت اور تشدد کے پرچار سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی مودی کا ھدف ہے اور اسی منزل کے حصول کیلئے مودی سرکار مصروف عمل ہے۔
لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی بہ نسبت انڈیا میں سیاست اور اظہار کی آزادی پر قدغن بہت کم ہے۔ وہاں اپوزیشن کو بھی اپنا سیاسی کردار بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کرنے کی اجازت ہے۔ اس ہی لئے، انڈین اپوزیشن ، مودی سرکار کے اقدامات سے انڈیا کو تمام دنیا میں سفارتی سطح پر اکیلا کردینے اور ملک میں عدم برداشت کو فروغ دینے کا الزام لگا رہی ہے۔جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا اور متعدد ٹی وی چینلز نے اپنے تبصروں اور پروگراموں سے پورے ملک میں ایک ہیجان سا برپا کیا ہواہے۔
اس بے ہنگم ہیجان کی موجودگی میں مودی سرکار کا جنگ سے گریز ، شاید مودی سرکار کیلئے دو دھاری تلوار ثابت ہو۔
دنیا کے تمام اہم دارلحکومتوں سے مودی کو جنگ سے باز آنے کی تنبیہ اور اس کے بر عکس ملک کے اندر جاری جنگی جنون ، مودی سرکار کیلئے مخمصے کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے مودی شاید کسی ظاہری کاروائی کی سوچ میں ہے۔ لیکن وقت نکلتا جارہا ہے۔ پچھلے ڈرامے کی ناکامی کا وزن ابھی تک نہیں سنبھلا اب دوسری ناکامی سے بچنے کیلئے سوچ بچار عروج پر ہے۔
فرانسیسی رافیل طیارے ممکنہ کاروائی کی پیش بندی کے طور پر حرکت میں لائے گئے ہیں
دیکھنا یہ ہے مودی مخمصے میں ہی رہے گا یا مخمصے سے نکل کر کوئی کاروائی کرکے ایک سیاسی دلدل میں پھنسے گا۔
کہتے ہیں کہ ہر عروج کو زوال ہے ۔
کیا مودی کا زوال آگیا ہے ؟
خالد قاضی