نکتہ داں-۱۱۵
۱۷ مئی ۲۰۲۵
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
آپ کی یاد داشت کیلئے، کچھ گزارشات:
صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران، مودی جی نے، امریکہ کے دو دورے کئے تھے۔ اس وقت امریکہ میں مقیم ہندوستانی دوست مودی کے استقبال اور ٹرمپ حکومت کی طرف سے مودی کی آؤ بھگت سے بہت خوش تھے۔ عام تاثر یہی تھا کہ، پچھلے ستر سالوں کے پاکستان اور امریکی اتحاد میں دراڑیں ڈالدی گئی ہیں اور اب، امریکی ہتھیار ، پاکستان کو ملنا بند ہوجائیں گے۔اب مستقبل امریکہ اور انڈیا کی اسٹریجٹک پارٹنر شپ کا ہے۔ اس نئی دوستی کا سنگ بنیاد مودی اور ٹرمپ نے رکھدیا ہے۔
ان دوروں میں کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں نہ صرف دفاعی اسلحہ انڈیا کو فروخت کرنے بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی ، تجارت، توانائی (انرجی) میں تعاون کو بڑھانے کیلئے ایک طویل مدتی معاہدہ بنام “COMPACT” بھی کیا گیا۔اس معاہدے میں دفاعی ، تجارتی، اور تکنیکی میدانوں میں تیز رفتار ترقی کیلئے دونوں ملک تعاون کریں گے۔
بائیڈن کے دور میں بھی انڈیا کی اہمیت اسی طرح قائم رہی، لیکن ایسا کیا ہوا کہ وہی ٹرمپ اور مودی جو ایک دوسرے سے بار بار بغلگیر ہوا کرتے تھے، اب ایک دوسرے سے کھچے کچھے سے نظر آرہے ہیں۔
امریکہ اور ہند کے بدلتے تعلقات کی وضاحت سے پہلے، میں آپکی توجہ ،حالیہ جنگ کے بعد ، انڈین پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی تقریر کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔
راہول گاندھی نے مودی سرکار کے خلاف کئی سیاسی اسٹروک لگانے کے بعد، یاد دلایا کہ کانگریس نے بحیثیت اپوزیشن ،مودی کے پہلے دور حکومت کے دوران ، خارجہ پالیسی کا ایک اہم نقطہ گوش گزار کرایا تھا کہ انڈیا ایسا کوئی کام نہ کرے کہ جس کی وجہ سے، چین اور پاکستان ایک دوسرے کے بہت قریب آجائیں۔ راہول نے کہا کہ ہماری اس بات کا بہت مزاق اڑایا گیا اور ہمیں بزدل بھارتی کہا گیا۔ اب نتیجہ آپکے سامنے ہے۔ جب آپ پاکستان کی سالمیت کے پیچھے پڑ جائیں گے تو یقیناً چین پاکستان کی ہر میدان میں مدد کرے گا۔ تو اس وجہ سے محض اکیلا پاکستان آپکے مقابلے میں نہیں ہوگا بلکہ چین اور پاکستان دونوں ملک ہونگے۔ اور اس جنگ نے ہماری یہ بات ثابت کردی۔
دراصل مودی سرکار کی سیاست کی بنیاد ہی مسلمان دشمنی اور پاکستان سے نفرت کے پرچار پر ہے۔ اب وہ ہندوتا اور اکھنڈ بھارت کی سوچ اسقدر بیدار کرچکا ہے کہ اس سے پیچھے جانا اس کیلئے سیاسی موت ہوسکتا ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس صورتحال میں ، ہندوستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔
دوسری طرف، ٹرمپ چونکہ اوّل اور آخر ایک تاجر ہے، جبکہ، امریکہ کی معاشی طاقت، کا انحصار ہائی ٹیک اسلحے کی فروخت پر قائم ہے، اس لئے پاک و ہند کی اس چند ایام کی جنگ نے، مغربی ہائی ٹیک اسلحے کو چینی ٹیکنالوجی اور پاکستانی پلاننگ کے ہاتھوں ناکام ہوتا دیکھ کر دنگ کردیا۔ چند روز میں ہی فرانسیسی طیارے رافیل کی کمپنی کے شیئر تقریباً ۱۲ فیصد گرگئے جبکہ چینی J 10 کی طیارہ ساز کمپنی کے شیئرز میں تقریباً ۳۶ فیصد اضافے نے مغربی اسلحے کے صنعتکاروں اور تاجروں کی نیندیں اڑا دیں۔ اور وہی ٹرمپ جس نے ابتدا میں پاک ہند جنگ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا، فوراً مصالحت کروانے آگیا۔
اس تمام صورتحال میں، مستقبل میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں ہوتی دکھائی دیتی ہیں
* امریکہ کیلئے، مودی، اب سر کا بوجھ بن جائے گا، اور امریکہ اس کی تبدیلی، کیلئے،ہندوستانی عوام کی مایوسی اور ناامیدی کو بڑھا چڑھا کر حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
* مودی سرکار ،اس جنگ میں، خارجی تعلقات میں دنیا بھر میں اکیلا رہ جانے کیلئے شاید وزیر خارجہ جے شنکر کو قربانی کا بکرا بنائے۔ عوامی اعتماد حاصل کرنے کیلئے اب وہ نہ کوئی مزید ڈرامہ رچا سکتا ہے اور نہ کوئی جنگ کرسکتا ہے۔ لیکن زبانی جنگ کو وہ جاری رکھے گا۔ لیکن اگلے الیکشن میں بی جے پی کو شدید جھٹکے لگ سکتے ہیں۔
* امریکہ بھی مخمصے کی حالت میں ہے اور وہ چین کے خلاف ہندوستان کو دوبارہ کھڑا کرنے کیلئے ، کشمیر کے مسئلے کو حل کروانے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کم کروانے کیلئے کانگریس حکومت کا انتظار کرے گا۔
* روس کے وزیر خارجہ لاؤ روونے اس امریکی منصوبے کی نشاندہی اپنے کے حالیہ بیان میں کردی ہے۔
* چین خاموشی سے، اپنے تحقیقی کام کو جاری رکھ کر ، جدید ہتھیاروں کی پیداوار کے ذریعے مغربی ممالک کی ماریکیٹوں پر قبضہ کرکے، آئندہ دس سالوں میں دنیا کی نمبر ون عسکری اور اقتصادی طاقت بن کر ابھرے گا
* امریکہ بہادر، پاکستان پر اپنا اثر پچھلے ستر سالوں کی طرح قائم رکھنے اورپاکستان و چین کے درمیان فاصلہ بڑھانے کیلئے جرنیلوں کو شے دے سکتا ہے، لیکن اس مرتبہ پاکستانی عوام کا رنگ کچھ اور ہی ہوگا۔
گویا
بایچُۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے
خالد قاضی