کتہ داں-۱۱۸
۲۹ مئی۲۰۲۵
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا میرے حق میں فیصلہ دیگا
ہند و پاک کی حالیہ چپقلش نے، کئی اہم موضوعات سے توجہ ہٹادی تھی۔ لیکن جس موضوع پر آج میرا قلم اٹھا ہے، اس کی شدت آئندہ کئی دہائیوں تک محسوس کی جاتی رہے گی۔
ہماری عدلیہ اپنے فیصلوں سے،ابتدا ہی سے، پاکستان میں سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو بیچتی رہی ہے اور اب پھر اس نے پاکستان کے عوام کو ایوب خان کے مارشل لائی دور میں دوبارہ لوٹا دیا ہے۔
ایوب خان نے ۱۹۵۸ میں اسکندر مرزا کا اقتدار ختم کرکے بزور قوت حکومت پر قبضہ کیا اور عوام کی سیاسی و شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق سلب کرکے ملٹری کورٹس بنائیں اور جمہورت پسند اور مارشل لا مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کیلئے ایک کالا قانون “ڈفینس آف پاکستان رول” DPR نافذ کیا۔
اس قانون کے مطابق، کسی بھی شخص کو پابند سلاسل کیا جاسکتا تھا ۔
اس قانون کا نشانہ ، صحافی، سیاستدان ، مذہبی رہنما ،شاعر، ادیب طالبعلم ، غرض ہر وہ شخص بنتا رہا جس نے ایوب حکومت اور مارشل لا کے خلاف آواز اٹھائی
اس وقت سے آج تک، ہماری عدلیہ زور آوروں کے کالے کرتوتوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے اپنے چہرے کو بھی کالا کرتی آرہی ہے۔
میں کوئی قانونی ماہر تو نہیں ہوں لیکن جمہوری ذہن رکھنے کی وجہ سے اتنا جانتا ہوں کہ کسی بھی انسان کی داد رسی کے لئے جب سارے دروازے بند ہوجائیں تو عدالت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ کم از کم جمہوری معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
لیکن کیا کہا جائے، کہ بظاہر آج کے جمہوری دور میں ہماری عدلیہ نے فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ ملک کے عام شہریوں کو بھی مارشل لائی قوانین کے مطابق، ملٹری کورٹس میں ٹرائل کرکے سزائیں دی جاسکتی ہیں۔
مجھے افسوس اس وجہ سے اور بھی زیادہ ہے کہ اس وقت حکومت (بظاہر) مسلم لیگ کی ہے۔
میرے دل گرفتہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کالے قانون DPR کو ختم کرنے کا سہرا پیلز پارٹی کے سر نہیں جاتا بلکہ میرے محبوب قائد محمد خان جونیجو جو مسلم لیگ کے قائد تھے ،کے سر جاتا ہے۔
گو ذوالفقار علی بھٹو نے، ملک کو متفقہ آئین دیا لیکن اس نے بھی اپنے پورے اقتدار کے دوران DPR کے کالے قانون کو ختم نہیں کیا بلکہ اپنے سیاسی مخالفوں کو اسی قانون کے تحت بند کرتا رہا۔ اسکے بعد ضیا کا سیاہ ترین دور شروع ہوا ، جس نے ظلم اور بربریت کی تمام حدود پھلانگ دیں۔ ضیا کی حادثاتی موت کے بعد، محمد خان جونیجو ایک ایسا وزیر اعظم آیا کہ جس نے، تمام سیاسی اور شخصی آزادیاں بحال کیں، مارشل لا اور ایمرجنسی کا خاتمہ کیا اور DPR کا قانون بھی ختم کردیا۔ لیکن اس بے وفا قوم نے اس عظیم شخص کی قدر نہیں کی، اور ضیا کے خلاف کوئی آواز اس کی حکومت ختم کرنے پر نہیں اٹھی۔ پنجاب میں اس وقت “ جاگ پنجابی جاگ” کا خمار تھا اور نوازشریف پنجاب اور جرنیلوں کی آنکھوں کا تارا ۔ آج اسکے بھائی کی حکومت میں ، پاکستان سیاسی طور پر آگے نہیں ، بہت پیچھے چلا گیا ہے۔
تو کیا میں، اس عمل سے ، پیپلز پارٹی کو، جو بظاہر حکومت کا حصہ نہیں ہے، بری الزمہ سمجھتا ہوں ؟
ہرگز نہیں ، پیپلز پارٹی بھی اس جرم کی خاموش لیکن مکمل ذمہ دار ہے۔ بلاول جب نہروں کے مسئلے پر ، مسلم لیگی حکومت کی حمایت واپس لینے کی دھمکی دے سکتا تھا تو اس مسئلے پر کیوں خاموش رہا۔ نہروں کا مسئلہ تو صرف سندھ کا تھا یہ تو چاروں صوبوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس پر خاموشی کیوں ؟
ایم کیو ایم کی خاموشی پر میں نو کمنٹس کہوں گا کیونکہ سیاسی کمنٹس سیاستدانوں پر ہوتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کا حالیہ دور محض چند نمائشی طوطوں کا دور ہے جو چونچ تب ہی کھولتے ہیں جب دانہ ڈالا جائے۔
جماعت اسلامی کی مثال اس دلہن کی سی ہے کہ جسے جرنیلوں سے بیاہتے وقت اسکے وارثوں نے کہا تھا کہ بیٹا اب اس گھر سے تیری لاش ہی نکلے گی ۔تو جماعت کا امیر چاہے کوئی بھی ہو، وہ اپنے پرکھوں کو دیا ہوا وچن پوری تابع داری سے نباہتی رہی ہے اور نبھاتی رہے گی
لیکن دنیا کی عدالت کو کوئی کیا سمجھائے، کہ اصول تو یہ ہے، کہ سخت سے سخت مجرم کو بھی اپنے دفاع کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔ اور، آزاد عدلیہ انسانی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے، لیکن ہماری کالی آئینی عدالت حکم جاری کرتی ہے کہ ملٹری کورٹ سے ہم کسی بھی پاکستانی کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے لہذا پوری قوم اس وقت جرنیلوں کی غلامی میں جاچکی ہے
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا میرے حق میں فیصلہ دیگا
خالد قاضی