NUKTADAAN

Reading: ‏۱۲۰۔ ہر لمحہ بدلتے مناظر
Reading: ‏۱۲۰۔ ہر لمحہ بدلتے مناظر

‏۱۲۰۔ ہر لمحہ بدلتے مناظر

admin
12 Min Read

نکتہ داں- ۱۱۹

۱۷ جون،  ۲۰۲۵

ہر لمحہ بدلتے مناظر

رات کا آخری پہر ہو، ہر طرف خاموشی اور ہُو کا سماں ہو، تو، باتھ روم سے واش بیسن میں پانی کا قطرہ ٹپکنے کی آواز بھی خوب سنائی دیتی ہے، لیکن اگر اسی دوران، دور، کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز آجائے تو پانی کے قطروں کی آواز ہوتے ہوئے بھی نہیں سنائی دے گی۔ ایسے میں، اگر  باہر سڑک پر، دو گاڑیاں ٹکرا جائیں ،تو آپکا دھیان اس ٹکر کے دھماکے پر ہوگا اور کتے کی آواز ہوتے ہوئے بھی ، بظاہر ،نہیں ہوگی۔

دنیا کے سٹیج پر بھی ایک سین، پچھلے سین کے اثر کو زائل کر دیتا ہے۔ اور دنیا کے تھیٹر کا  ہجوم بے کراں، نئے سین کی دلچسپیوں میں گم ہو کر، پچھلے سین کو ، بھلا سا دیتا ہے

 بقول شاعر:

ہم نہ ہوتے ، تو کسی اور کے چرچے ہوتے

خلقت  شہر  تو  کہنے  کو  فسانے  مانگے

مثال آپ کے سامنے ہے۔ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کی ابتدا، کے بعد، جنگ عظیم اول اور دوئم کے خاتمے پر، عیسائی اور صیہونی ریاستوں کا گٹھ جوڑ وجود میں آیا، حالانکہ اس سے پہلے کی تاریخ میں،  یورپ کے عیسائی ممالک، ایک دوسرے کو زیر و زبر کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ گٹھ جوڑ نہ صرف مسلمان ملکوں کی معدنی دولت کے حصول کیلئے تھا بلکہ مسلمان مملکتوں کو معاشی اور عسکری طور پر پر کمزور رکھنے  کا بھی سبب بنا رہا۔ لیکن اکیسویں صدی کی پہلی چوتھائی کے اختتام پر، ایک مرتبہ پھر ، دو عیسائی ریاستیں آپس میں دست و گریبان نظر آتی ہیں ۔  جی ہاں روس کا یوکرین پر حملہ دو عیسائی ممالک کی جنگ کا آغاز ہے۔ روس و یوکرین کی یہ جنگ اب تک بے نتیجہ رہی ہے جبکہ مستقبل قریب میں، اسکے ختم ہونے کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے۔ گویا ۲۴ فروری  ۲۰۲۲ سے پوری دنیا کی توجہ اس ہی طرف لگی رہی ہے۔

لیکن پاکستان میں ۱۰ اپریل ۲۰۲۲ کو ایک سیاسی بھونچال نے، لوگوں کا دھیان روس یوکرین جنگ سے ہٹا کر، پاکستان میں جاری سیاسی جنگ کی طرف مبذول کروادیا۔جی ہاں،  پورا پاکستان، یا تو عمران کے پیار یا پھر اسکی مخالفت کے بخار میں مبتلا ہوگیا۔حالانکہ پچھلے تین سالوں کے دوران، دنیا میں، پے در پے ظہور پزیر ، دوسرے واقعات کے علاوہ، تحریک انصاف کی اپنی  سیاسی غلطیوں، قلابازیوں اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ نے بھی، بظاہر یہ بخار ہلکا ضرور کر دیا ہے لیکن اسے ختم نہیں کہا جاسکتا ۔

لیکن پھر تمام دنیا کی توجہ کا مرکز، مشرق وسطیٰ اور فلسطین و اسرائیل کی طرف مڑ گیا۔۲۳ اکتوبر ۲۰۲۳ کو حماس نے اسرائیل کی سرحد عبور کرکے، وہاں نہ صرف حملہ کیا ، بلکہ درجنوں  فوجی و غیر فوجی اسرائیلیوں کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اسرائیل ، جسے نا قابل تسخیر سمجھا جاتا ہے اس حملے کے جواب میں اپنے  انسانیت سوز رویے سے،  بربریت ، تاتاریت اور چنگیزیت کی وہ مثالیں قائم کیں ہیں جنھیں نوع انسانی کے تاریک ترین دور میں شمار کیا جائے گا۔ اس جنگ نے ایک طرف اسرائیل کو، دنیا بھر کے انصاف پسند حلقوں میں ،  عریاں کیا، تو دوسری طرف امریکہ اور مغربی ممالک کی بے رحمانہ اور متعصبانہ رویے کو دنیا پر آشکار کروایا۔ لیکن سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ۵۵ ہزار انسانوں، جس میں بچے،  بوڑھے، خواتین اور بیمار شامل ہیں، کی شہادتوں نے بھی مسلم ممالک کے زعمأ اور حکمرانوں کو سوائے زبانی بیان بازی سے آگے نہیں بڑھایا۔

اس المیے کی دھول گو، ابھی تک نہیں بیٹھی لیکن، ایک اور واقعے نے،  اس کرب ناک منظر کو پسِ منظر میں کر دیا۔ 

جی ہاں ۲۲ اپریل ۲۰۲۵ کو  پہلگام کے افسوسناک واقعے نے، برصغیر کے دو نیوکلئیر ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا۔ مودی سرکار، جس کی سیاسی بنیاد ہی منافرت اور اکھنڈ بھارت کے نعرے پر قائم ہے، نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت، گودی میڈیا کے ذریعے، اپنے عوام میں جنگی جنون اور نفرت کی آگ بھڑکادی۔ اور اسی آگ کو جلائے رکھنے کی کوشش میں، وہ غلطی کی، کہ جس کی قیمت، مستقبل قریب میں مودی کو سیاسی طور پر چکانی پڑے گی۔ پوری دنیا کی نظریں، ۷ مئی ۲۰۲۵ کے دن، برصغیر پر مرکوز ہوگئیں۔ اور ہندوستان کے پاکستان کی سر زمین پر حملے، اور پاکستان کے نپے تلے جوابی اقدام نے مودی سرکار کی بے جا بھڑکوں کے متعلق، نہ صرف انڈین عوام کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں بلکہ، دنیا پر بھی واضح کردیا کہ پاکستان اور چین کی مشترکہ معاونت، اس خطے کے عسکری توازن کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے۔ 

ہندو پاک جھڑپ کے دوران ہندوستان کے ہندووتا سوچ رکھنے والی آبادی، پاکستان کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے ہیجان میں ابھی مبتلا ہی تھی کہ ائیر انڈیا کے طیارے کی افسوسناک تباہی اور سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت نے تمام دھیان اس اندھوناک حادثے کی طرف موڑ دیا۔

دنیا کی نظریں برصغیر کے ان مناظر میں ابھی قدرے گم تھیں کہ امریکی سیاست کے ایک ہلکے جھٹکے نے، ہر ایک کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ 

جی، ہاں ، میرا اشارہ مئی ۲۰۲۵ کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی سیاسی محبت کے خاتمے کی طرف ہے۔ ایلون مسک ، ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور کے دوران ٹرمپ کے طرز حکومت کا مخالف تھا، لیکن دوسرے الیکشن کی مہم کے دوران ٹرمپ پر قاتلانہ حملے نے اسے ٹرمپ کا اسقدر دلدادہ بنادیا کہ وہ پاکستان کے جہانگیر ترین (کہ جو عمران خان کی وزارت عظمیٰ کیلئے جہاز لئے پاکستان سے قومی اسمبلی کے ممبران جمع کرتا رہا)، کی طرح اپنے خزانے کا دل کھول کر خرچ کیا اور ٹرمپ کے الیکشن میں ۲۸۸ ملین ڈالر ( پاکستانی ۸ ارب روپئے سے زائد) خرچ کئے۔

لیکن یہ محبت زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوئی۔ دونوں کے درمیاں، اعلانیہ لفاظی جنگ، ٹرمپ کے بجٹ پیش کرنے سے شروع ہوئی جس نے دنیا کے عوام کی عمومی اور امریکی عوام کی خصوصاً توجہ حاصل کی۔ ایلون مسک جو بہرحال اول و آخر ایک تاجر ہے، نے، اندازہ لگا لیا کہ اگر وہ  یہ جنگ جاری رکھتا ہے، تو ٹرمپ کو کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں، وہ امریکی آئین کے مطابق تیسری مرتبہ صدر بن ہی نہیں سکتا، لیکن اپنے بقیہ دور صدارت میں اسکے کاروبار کو نقصان ضرور پہنچا سکتا ہے۔ اس ہی لئے ایلون مسک نے اپنے بعض ٹویٹر پر افسوس کا اظہار کرکے، گلو خلاصی کر لی۔

اس جنگ کی چہ مینگوئیاں ابھی ختم ہی ہوئی تھیں کہ پوری دنیا کو ایک نئے بھونچال نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ جی میری مراد ۱۲ جون کا اسرائیل کا ایران پر حملہ ہے۔ خبروں کے مطابق، اس حملے نے، ایرانی حکومت اور افواج کی کئی کمزوریوں کو آشکار کر دیا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے، کہ نہ صرف ایرانی انٹلیجنس اپنے ملک میں موجود مساد کے ایجنٹوں کی پلاننگ نہ پکڑ سکی، بلکہ ایرانی فضائی دفاع بھی تقریباً غیر فعال کردیا گیا۔ ہم اپنے ملک میں سکیورٹی اور پروٹوکول پر “شوقیہ”، بہت تنقید کرتے ہیں لیکن، اسرائیل کے ایرانی فوجی قیادت اور سائنسدانوں کو کامیابی سے نشانہ بنا دینا، ہمیں بھی اپنے ملک میں قومی قیادت کی سکیورٹی پر بے جا تنقید کے شوقیہ  طرز فکر اور  اپنی سطحی سوچ پر نظر ثانی پر راغب کرنے کا مواد فراہم کرتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ ایران نے اپنے حواس پر قابو پاکر، اسرائیل کے مشہور زمانہ آئرن ڈوم نظام دفاع کو شکست دے کر، کئی اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا اور حالانکہ اسرائیل کو فوجی لحاظ سے کافی نقصان پہنچایا ہے، لیکن مغربی میڈیا، محض شہری علاقوں کے حملوں کو رپورٹ کرتا ہے اور میں نے خود سی ایم این کی رپورٹر کو کہتے سنا کہ ہم اسرائیلی مییڈیا پابندیوں کی وجہ سے سب کچھ رپورٹ کرنے سے قاصر ہیں۔ 

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح ٹرمپ کو اس جنگ میں ایران کے خلاف دھکیلے ،

امریکی میڈیا بھی  امریکی عوام کو اس امریکی شمولیت کیلئے ذہنی طور پر تیار کر رہا ہے، لیکن ، امریکہ کی بیشتر آبادی ، ویت نام کی جنگ میں، ہزاروں امریکیوں کے  لقمہ اجل بن جانے اور امریکہ کے ٹیکسوں سے دنیا بھر میں قتل عام کروانے کیلئے ذہنی طور پر بالکل تیار نہیں ۔ 

صدر ٹرمپ کا انتخابی نعرہ بھی امریکہ کو دنیا کی جنگوں میں جھونکنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنے پر تھا، لیکن اسرائیلی لابی ، جس نے اپنے سرمائے سے سینیٹ کے ممبروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، امریکہ کو جس طرف دھکیلتے ہیں اس کا اندازہ چند دنوں میں واضح ہو جائے گا 

لیکن اس سارے پس منظر میں ہمارے عاصم منیر کا امریکہ کا سرکاری دورہ، بہت ہی معنی خیز لگتا ہے۔

اس دورے سے، عمران خان کا معاملہ تو سرد خانے کی نظر  ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن، حالیہ چار روزہ پاک بھارتی جنگی جھڑپ میں، چین پاکستان یک جہتی  کی جو مثال سامنے آئی ہے، اور   چین پاکستان دفاعی تعاون جن بلندیوں پر ہے، اس پر مجھے کوئی گزند لگتی نظر نہیں آتی۔ پاکستانی حکومت نے ایران ، اسرائیل جنگ میں ایران کی حمایت میں جو مضبوط اور واضح موقف اپنایا ہے، وہ بھی قابل اطمینان ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی ڈیوٹی ہے، جسے سرانجام دینے کیلئے عاصم منیر کو طلب کیا گیا ہے۔

میرے اندازے کے مطابق، صدر ٹرمپ کا حالیہ مشرق وسطیٰ کا دورہ اور اس میں بڑے بڑے دفاعی معاہدے ، ان بادشاہتوں کے جاری رہنے کی ضمانتوں کی قیمت کے طور پر کئے گئے ہیں اور پاکستانی فوج بادشاہتوں کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے اور ادا کرتی رہے گی۔

ساڈا کم اے دسڑاں ، باقی کوئی منّے یا ناں منّے، او تواڈی اپنی مرضی

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے